اپنا ضلع منتخب کریں۔

    J&K News: مقامی نوجوانوں کے ملی ٹینٹ صفوں میں شامل ہونے کی وجوہات کا پتہ لگانا وقت کی اہم ضرورت : سلامتی امور کے ماہر ڈاکٹر ایس پی وید

    Jammu and Kashmir News : سلامتی امور کے ماہر اور جموں و کشمیر کے سابق ڈی جی پی ڈاکٹر ایس پی وید نے کہا کہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ ملک بھر کی یونیورسٹیاں اور تحقیق سے جڑے افراد یہ پتہ لگائیں کہ مقامی نوجوان کن وجوہات کی بنیاد پر ملی ٹینٹ صفوں میں شامل ہورہے ہیں۔ وجوہات کا پتہ لگانے کے بعد اس ضمن میں ضروری قدم اٹھانے کی ضرورت ہے ۔

    Jammu and Kashmir News : سلامتی امور کے ماہر اور جموں و کشمیر کے سابق ڈی جی پی ڈاکٹر ایس پی وید نے کہا کہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ ملک بھر کی یونیورسٹیاں اور تحقیق سے جڑے افراد یہ پتہ لگائیں کہ مقامی نوجوان کن وجوہات کی بنیاد پر ملی ٹینٹ صفوں میں شامل ہورہے ہیں۔ وجوہات کا پتہ لگانے کے بعد اس ضمن میں ضروری قدم اٹھانے کی ضرورت ہے ۔

    Jammu and Kashmir News : سلامتی امور کے ماہر اور جموں و کشمیر کے سابق ڈی جی پی ڈاکٹر ایس پی وید نے کہا کہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ ملک بھر کی یونیورسٹیاں اور تحقیق سے جڑے افراد یہ پتہ لگائیں کہ مقامی نوجوان کن وجوہات کی بنیاد پر ملی ٹینٹ صفوں میں شامل ہورہے ہیں۔ وجوہات کا پتہ لگانے کے بعد اس ضمن میں ضروری قدم اٹھانے کی ضرورت ہے ۔

    • Share this:
    Jammu and Kashmir News : جموں وکشمیر بالخصوص کشمیر وادی میں دہشت گردوں کے خلاف حفاظتی عملے کے کامیاب آپریشن جاری ہیں اور آئے روز مختلف جھڑپوں کے دوران دہشت گرد مارے جارہے ہیں ۔ اس سال جنوری مہینے کے دوران حفاظتی عملے کے ساتھ 21 ملی ٹینٹوں کو ہلاک کیا گیا ، جن میں 8 پاکستانی دہشت گرد بھی شامل تھے۔ جنوری ماہ کے دوران حفاظتی عملے کی دہشت گردوں کے خلاف کامیاب کارروائیوں کا ذکر کرتے ہوئے آئی جی پی کشمیر وجے کمار نے کہا کہ حفاظتی عملے کی ان کاروائیوں سے ملی ٹینٹ صفوں میں شامل ہوجانے والے مقامی نوجوانوں کی تعداد میں کمی واقع ہوگی۔ تاہم دفاعی ماہرین کاکہنا ہے کہ مقامی نوجوانوں کو ملی ٹینٹ صفوں میں شامل ہونے سے دور رکھنے کیلئے صرف حفاظتی عملے کی کامیاب کاروائیاں ہی کافی نہیں ہیں ۔

    سلامتی امور کے ماہر اور جموں و کشمیر کے سابق ڈی جی پی ڈاکٹر ایس پی وید کا کہنا ہے کہ مقامی نوجوانوں کو دہشت گردی سے دور رکھنے کیلئے کئی اور اقدامات کرنے نہایت ہی لازمی ہیں ۔ نیوز18 اردو کے ساتھ خصوصی بات چیت کرتے ہوئے ایس پی وید نے کہا کہ یہ سمجھنا کہ ملی ٹینٹوں کے خلاف حفاظتی عملے کے کامیاب آپریشن جموں وکشمیر میں دہشت گردی کو ختم کرنا ہی واحد حل ہے، حقیقت نہیں ہے۔ ملی ٹینٹوں کو مختلف جھڑپوں کے دوران مارے جانے کے باوجود بھی مقامی نوجوان ملی ٹینٹ تنظیموں میں شامل ہوجاتے ہیں ، اس کے باعث کشمیر میں اب بھی ملی ٹینسی کے واقعات رونما ہورہے ہیں ۔ اس روش کو روکنے کے لیے آج تک کوئی بھی کوشش نہیں کی گئی کہ آخر مقامی نوجوان دہشت گردوں کی صفوں میں کیوں شامل ہورہےہیں ۔ اس کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش آخر کیوں نہیں کی گئی۔

    انہوں نے کہا کہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ ملک بھر کی یونیورسٹیاں اور تحقیق سے جڑے افراد یہ پتہ لگائیں کہ مقامی نوجوان کن وجوہات کی بنیاد پر ملی ٹینٹ صفوں میں شامل ہورہے ہیں۔ وجوہات کا پتہ لگانے کے بعد اس ضمن میں ضروری قدم اٹھانے کی ضرورت ہے ۔

    ڈاکٹر ایس پی وید نے کہا کہ حفاظتی عملے کی کامیاب کاروائیوں سے کچھ حد تک مقامی نوجوانوں کو ملی ٹینٹ صفوں میں شامل ہونے سے روکا جاسکتا ہے ۔ تاہم اصل اسباب کا پتہ لگانے اور اس پس منظر میں ضروری اقدامات کئے جانے سے ہی اس روش پر مستقل طور پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ ڈاکٹر ایس پی وید نے کہا کہ گزشتہ تین دہائیوں سے اس سلسلے میں کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا ۔ تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ کشمیری نوجوان مذہب، پاکستان کے غلط پروپیگنڈے یا کسی اور وجہ سے ملی ٹینٹ صفوں میں شامل ہورہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ جو نوجوان ملی ٹینٹ صفوں میں شامل ہوتے ہیں ، انہیں اس بات کا علم ہے کہ وہ زیادہ دیر تک حفاظتی عملے کی کاروائیوں سے بچ نہیں پائیں گے ۔ لہٰذا یہ لازمی بنتا ہے کہ وہ اس حقیقت کے باوجود بھی دہشت گردی کا راستہ کیوں اپنا لیتے ہیں ، اس کے پیچھے کارفرما وجوہات کا پتہ لگانا نہایت لازمی ہے ۔ تاکہ مقامی نوجوانوں کو دہشت گردی کی بدعت سے دور رکھا جاسکے ۔

    انہوں نے کہا کہ گر چہ انیس سو نوے کے مقابلے میں ابھی کشمیر وادی میں سرگرم ملی ٹینٹوں کی تعداد میں بھاری کمی واقع ہوئی ہے ۔ تاہم مقامی نوجوانوں کی ملی ٹینٹ صفوں میں شمولیت تشویش کا باعث ہے۔ کیونکہ یہ وہ نوجوان ہیں ، جو جموں وکشمیر اور ملک کی ترقی میں اپنا رول ادا کرسکتے ہیں ۔ ایسے میں ضرورت ہے کہ مقامی نوجوانوں کی ملی ٹینٹ صفوں میں شامل ہونے کی وجوہات کا پتہ لگا کر ضروری اقدامات کئے جائیں ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: