ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں و کشمیر : جنگلی جانوروں کی کھالوں کے غیر قانونی کاروبار کا پردہ فاش ، ایک گرفتار

جموں و کشمیر پولیس اور سی آر پی ایف کی 40 ویں بٹالین نے اننت ناگ کے شیر پورہ میں چھاپہ مارا ، جس کے بعد وہاں سے تیندوؤں کی 8 کھالیں، کستوری ہرن کی چار پھلی، جنگلی بالوں کی 38 صفرا (جگر کے ساتھ موجود اعضا) برآمد کر کے ضبط کر لیں ۔

  • Share this:
جموں و کشمیر : جنگلی جانوروں کی کھالوں کے غیر قانونی کاروبار کا پردہ فاش ، ایک گرفتار
جموں و کشمیر : جنگلی جانوروں کی کھالوں کے غیر قانونی کاروبار کا پردہ فاش ، ایک گرفتار

اننت ناگ : جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں جموں و کشمیر پولیس اور وائلڈ لائف کرائم کنٹرول بیورو نے جنگلی جانوروں کی کھالوں اور دیگر اعضا کے ایک بڑے کاروبار کا پردہ فاش کیا ہے اور اس سلسلہ میں فی الحال ایک شخص کو گرفتار کر کے باضابطہ طور پر کیس درج کر کے تحقیقات شروع کر دی ہے ۔


تفصیلات کے مطابق وائلڈ لائف کرائم کنٹرول بیورو کی جانب سے فراہم کی گئی ایک مصدقہ اطلاع کی بنا پر جموں و کشمیر پولیس  اور سی آر پی ایف کی 40 ویں بٹالین نے اننت ناگ کے شیر پورہ میں چھاپہ مارا ، جس کے بعد وہاں سے تیندوؤں کی 8 کھالیں، کستوری ہرن کی چار پھلی، جنگلی بالوں کی 38 صفرا (جگر کے ساتھ موجود اعضا) برآمد کر کے ضبط کر لیں ۔ اس سلسلے میں گل محمد گنائی ولد عبدالرحمان گنائی ساکنہ شیر پورہ اننت ناگ کو پولیس نے گرفتار کیا ہے ۔


بتایا جا رہا ہے کہ گل محمد گنائی بھیڑوں کی کھالوں کا کاروباری ہے اور اس کے قبضے سے جنگلی جانوروں کی کھالوں اور دیگر اعضا کی برآمدگی ایک بڑے ریکٹ کا انکشاف کرتا ہے۔ اگرچہ گنائی کے گھر والوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے ۔ تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ گنائی کو پختہ ثبوتوں اور شواہد کے ساتھ پکڑا گیا ہے۔ اس ضمن میں پولیس اسٹیشن اننت ناگ میں ایک کیس زیر ایف آئی آر نمبر 16/2021 کے تحت متعلقہ دفعات کے اندر معاملہ درج کر لیا گیا ہے اور مزید تحقیقات شروع کر دی گئی ہے۔ خیال رہے کہ اسے قبل جموں میں بھی اسی طرح کی ایک کارروائی کے تحت جنگلی جانوروں کی ممنوعہ چیزیں و دیگر اعضاء برآمد کئے گئے تھے ۔


واضح رہے کہ ملک کے دیگر حصوں کی طرح جموں و کشمیر میں بھی جنگلی جانوروں کے شکار پر مکمل طور پر پابندی عائد ہے اور جنگلی جانوروں کے تحفظ کیلئے کئی مرتب شدہ قوانین پر عمل کیا جا رہا ہے ۔ لیکن یوٹی میں اس طرح کے واقعات کے سامنے آنے کے بعد یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہاں پر جنگلی جانوروں کی کھالوں اور دیگر اعضا کے کاروبار میں کئی لوگ ملوث ہو سکتے ہیں،  جن کا پردہ فاش کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر تحقیقات شروع کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ اننت ناگ میں کی گئی کارروائی کے دوران ضبط شدہ کھالوں اور دیگر اعضا کی قیمت بین الاقوامی مارکیٹ میں کروڑوں روپے بتائی جا رہی ہے۔ جبکہ کستوری ہرن کے پھلی سے تیار ہونے والی اعلیٰ قسم کی عطر کی قیمت بھی بین الاقوامی بازار میں کافی اونچی ہوتی ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jan 31, 2021 04:41 PM IST