ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں و کشمیر : کورونا معاملات میں کمی کے ساتھ ہی جموں کے تجارت پیشہ افراد نے کیا یہ بڑا مطالبہ

Jammu and Kashmir News : جموں خطے سے وابستہ تجارت پیشہ افراد چاہتے ہیں کہ صوبے کے دیگر اضلاع میں بھی اسی طرز پر معمول کی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت دی جائے ، جیسے یوٹی کے آٹھ اضلاع کے بارے میں فیصلہ کیا گیا ہے۔ سرکار نے کل یوٹی کے آٹھ اضلاع شوپیاں، کولگام ، بانڈی پورہ، گاندربل، رام بن ، ڈوڈہ، ریاسی اور پونچھ میں ہفتے میں پانچ روز تجارتی سرگرمیاں پوری طرح سے بحال کرنے کا اعلان کیا تھا۔

  • Share this:
جموں و کشمیر : کورونا معاملات میں کمی کے ساتھ ہی جموں کے تجارت پیشہ افراد نے کیا یہ بڑا مطالبہ
جموں و کشمیر : کورونا معاملات میں کمی کے ساتھ ہی جموں کے تجارت پیشہ افراد نے کیا یہ بڑا مطالبہ

جموں و کشمیر : مرکز کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں کورونا معاملات میں بتدریج کمی واقع ہونے کے ساتھ ہی یوٹی میں معمول کی تجارتی سرگرمیاں شروع کئے جانے کی مانگ زور پکڑتی جارہی ہے ۔  جموں خطے سے وابستہ تجارت پیشہ افراد چاہتے ہیں کہ صوبے کے دیگر اضلاع میں بھی اسی طرز پر معمول کی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت دی جائے ، جیسے یوٹی کے آٹھ اضلاع کے بارے میں فیصلہ کیا گیا ہے۔ سرکار نے کل یوٹی کے آٹھ اضلاع شوپیاں، کولگام ، بانڈی پورہ، گاندربل، رام بن ، ڈوڈہ، ریاسی اور پونچھ میں ہفتے میں پانچ روز  تجارتی سرگرمیاں پوری طرح سے بحال کرنے کا اعلان کیا تھا۔


جموں چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے صدر ارون گُپتا کا کہنا ہے کہ لاک ڈاون کی وجہ سے تجارت پیشہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے ۔ نیوز 18 اردو کے ساتھ بات کرتے ہوئے ارون گپتا نے کہا کہ  انلاک تھری کے بعد جموں شہر میں ہفتے میں پانچ دن مرحلہ وار طریقے پر تجارتی سرگرمیاں شروع کرنے کی اجازت کے بعد اگر چہ دکانداروں کو  تھوڑی سے راحت ملی ہے ۔ تاہم تجارت پیشہ افراد چاہتے ہیں کہ شہر میں ویک اینڈ لاک ڈاون قائم رکھتے ہوئے بقیہ پانچ دن تمام کاروباری سرگرمیاں انجام دینے کی اجازت دی جائے ۔ انہون نے کہا کہ ریستوران ، ڈھابے اور بینکٹ ہال بند رہنے کی وجہ سے ان شعبوں سے منسلک افراد مالی تقصان سے دوچار ہورہے ہیں۔


ارون گُپتا نے کہا کہ چیمبر کی طرف سے رواں ماہ کی دس تاریخ کو  یوٹی انتظامیہ سے اپیل کی گئی تھی کہ وہ جموں خطے کے تمام اضلاع میں ہفتے میں پانچ دن کاروباری سرگرمیاں بحال کرنے کی اجازت دے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ یقین دلاتے ہیں کہ دکاندار اور دیگر تجارت پیشہ افراد کووڈ ایس او پی ایز پر سختی سے عمل کریں گے ۔ تاکہ کووڈ وبا کے پھیلاو کو روکا جاسکے۔ ارون گُپتا نے کہا کہ اگرچہ ماتا ویشنو دیوی کی یاترا جاری ہے ۔ تاہم کٹرا میں  دکانیں اور ہوٹل مرحلہ وار طریقے پر کھولے جانے کی وجہ سے یاتریوں کو بھی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔


یہ پوچھے جانے پر کہ لاک ڈاون کے دوران جموں خطے میں کاروبار کو کتنا نقصان ہوا ہے ، ارون گُپتا نے کہ ابتدائی اندازے کے مطابق لاک ڈاون کی وجہ سے جموں خطے میں لگ بھگ پانچ ہزار کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے ۔ تاہم اس کا اصل تخمینہ تجارتی سرگرمیاں پوری طرح سے بحال ہونے کے بعد ہی لگایا جاسکتا ہے ۔

جموں کے مشہور پرانی منڈی علاقے کے ایک دکاندار گورو کا کہنا ہے کہ مرحلہ وار طریقے پر دکانیں کھولنے سے نہ صرف دکاندار بلکہ صارفین بھی کنفیوژن کا شکار ہوجاتے ہیں ۔ انہوں نے سرکار سے اپیل کی کہ وہ اس سلسلہ میں جلد سے جلد کوئی اعلان کرے ۔ تاکہ جموں کے کاروباریوں کو ہورہے نقصان کی تھوڑی بھرپائی ہوسکے ۔ رگھوناتھ بازار علاقہ کے ایک دکاندار ومل ارورہ کا کہنا ہے کہ سرکار کو ہفتے کے پانچ دن تمام دکانیں کھلی رکھنے کی اجازت دینی چاہئے۔ نیوز 18 اردو کے ساتھ بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ دکاندار ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ذمہ دار شہری بھی ہیں اور اس حقیقت سے واقف ہیں کہ کاروبار کے دوران کووڈ ایس او پیز کا خیال رکھنا بے حد لازمی ہے ۔

تجارت پیشہ افراد کو ہوئے مالی نقصانات کی بھرپائی کا ذکر کرتے ہوئے جموں چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے صدر ارون گُپتا نے نیوز 18 اردو کو بتایا کہ سرکار کو تجارت پیشہ افراد کی مدد کے لئے ایک مالی پیکیج کا اعلان کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ برس سرکار نے تجارتی قرضہ جات پر عائد ٹیکس میں پانچ فیصد چھوٹ دی تھی اور یہ چھوٹ اس سال بھی دی جانی چاہئے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jun 14, 2021 05:19 PM IST