உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    دیوالی کی آمد کے پیش نظر جموں میں خریداری عروج پر ، خریدار چین میں بنی اشیا کی بجائے ملک میں بنی چیزوں کی خریداری دے رہے ہیں ترجیح

    دیوالی کی آمد کے پیش نظر جموں میں خریداری عروج پر ، خریدار چین میں بنی اشیا کی بجائے ملک میں بنی چیزوں کی خریداری دے رہے ہیں ترجیح

    دیوالی کی آمد کے پیش نظر جموں میں خریداری عروج پر ، خریدار چین میں بنی اشیا کی بجائے ملک میں بنی چیزوں کی خریداری دے رہے ہیں ترجیح

    Jammu and Kashmir News : روشنی کا تہوار دیوالی قریب آنے کے ساتھ ہی جموں کے بازاروں میں کافی چہل پہل دیکھی جارہی ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں مقامی لوگ اس سالانہ تہوار کے لئے خریداری کرنے میں مصروف نظر آرہے ہیں۔

    • Share this:
    جموں : روشنی کا تہوار دیوالی قریب آنے کے ساتھ ہی جموں کے بازاروں میں کافی چہل پہل دیکھی جارہی ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں مقامی لوگ اس سالانہ تہوار کے لئے خریداری کرنے میں مصروف نظر آرہے ہیں۔ پیر کے روز جموں کے روایتی بازاروں میں لوگ مورتیاں، مٹی سے بنے چراغ، موم بتیاں اور تحائف خریدتے ہوئے نظر آئے۔ گزشتہ برسوں کے برعکس اس سال خریدار دیوالی کے موقعے پر ملک میں بنی ہوئی اشیا ہی خریدتے نظر آئے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ کم قیمت ہونے کے سبب ماضی میں وہ زیادہ تر چین میں بنی اشیاء کی خریداری کرتے تھے۔ تاہم اس سال لوگوں نے فیصلہ کیا ہے کہ چین میں تیار کردہ اشیا کی بجائے اپنے ہی ملک میں بنی چیزوں کی خریداری کریں گے۔

    عام لوگوں کا ماننا ہے کہ اس قدم سے اپنے ملک کے کاریگروں اور فیکٹری مالکان کو فائدہ ہوگا اور صرف کی گئی رقم اپنے ہی ملک میں رہے گی ، جس سے ملک کی اقتصادی حالت میں کافی حد تک سدھار آئے گا۔ جموں شہر کے پرانی منڈی علاقے میں خریداری کرنے والی ایک مقامی خاتون پرنما منہاس نے نیوز18اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں زیادہ تر لوگ چین میں بنی اشیاء جیسے چراغاں کرنے کے لیے استعمال میں آجانے والی روشنیاں خریدتے تھے تاہم اس بار زیادہ تر لوگ اپنے ہی ملک میں تیار کردہ موم بتی اور مٹی کے بنے چراغوں کی خریداری کررہے ہیں۔ میں نے آج جتنے بھی خریداری کی اس میں ایک بھی شیئے چین میں نہیں بنی ہے اس سے ہمارے ملک کے ان لوگوں کو فائدہ ہوگا جنہوں نے دیوالی کے موقعے پر یہ چیزیں بنائی ہیں۔ پورنما نے کہا کہ اس قدم سے ہمارا پیسہ چین یا کسی دیگر ملک میں جانے کے بجائے اپنے بھارت میں ہی رہے گا جس سے ہمارے ہم وطنوں کو فائدہ ہوگا۔

    ایک اور عام شہری ونود کمار شرما نے نیوز18 اردو کو بتایا کہ چین ہندوستان کے خلاف سازشیں کر رہا ہے، چاہے وہ لداخ کے علاقے میں لائن آف ایکچول کنٹرول پر چینی فوج کی طرف سے انجام دی جارہی ناپاک حرکتیں ہی یا پھر اروناچل پردیش میں اس کی ناکام کارستانی۔ ایسے میں ہندوستان کے ہر فرد کا فرض ہے کہ وہ چین میں بنی اشیاء کا بائیکاٹ کرے۔ انہوں نے کہاکہ چین میں بنی اشیاء کا بائیکاٹ کرنے سے بھیجنگ کویہ پیغام ملے گا کہ بھارت کے لوگ اس کی مالی حالت کو بھگاڑ سکتے ہیں۔

    خریداری میں مصروف ایک اور مقامی خاتون وندھنا نے نیوز18 اردو کو بتایا کہ انہوں نے اپنی زندگی میں کبھی بھی چینی اشیاء کی خریداری نہیں کی ہے کیونکہ وہاں بنی چیزیں معیاری نہیں ہوتی ہیں۔ جبکہ ہندوستان میں بنی اشیاء معیاری اور قابل بھروسہ ہیں۔ انہوں نے جموں وکشمیر کے باشندوں سے اپیل کی کہ وہ ہمیشہ اپنے ہی ملک میں بنی اشیاء کی خریداری کریں تاکہ ہمارے اپنے لوگوں کو ہی فائدہ حاصل ہو۔

    چھایا نامی ایک اور مقامی خاتون نے اس موقع پر نیوز18 اردو کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ جب ہمارے ملک میں اتنی بہترین اور معیاری چیزیں بنائی جاتی ہیں وہ ہمیں چین میں بنی اشیاء کی خریداری کیوں کریں میں نے آج جتنے بھی چیزیں خریدی ہیں وہ سب بھارت میں بنی ہیں۔ اس لئے میں سب لوگوں سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ صرف تہواروں کے موقع پر ہی نہیں بلکہ سال بھر چینی اشیاء کا بائیکاٹ کرکے اپنے ہی ملک میں بنی اشیاء خریدیں۔

    خریداروں کے ساتھ ساتھ جموں شہر کے تجارت پیشہ افراد نے بھی چینی سامان کے بجائے اپنے ہی ملک میں تیار کردہ اشیاء دستیاب رکھنے کو ترجیح دی ہے ۔ جموں کے معروف تاجر سندیپ وید پرکاش مہاجن نے کہا کہ کوویڈ وبا سے قبل وہ تہواروں کے موقع پر چین میں بنی اشیا بھی دستیاب رکھتے تھے ، تاہم گزشتہ دو برسوں سے انہوں نے ہندوستان میں بنی اشیا ہی خریداروں کے لیے دستیاب رکھی ہیں۔ نیوز18 اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اب عام لوگ اپنے ہی ملک میں بنی ہوئی چیزیں خریدنا پسند کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ خریدار اب چین میں بنی روشنی کرنے والی اشیا کے بجائے مٹی سے بنے چراغ اور موم بتیاں وغیرہ خریدنا ہی پسند کرتے ہیں۔ دیوالی کے موقع پر لوگ مورتیاں وغیرہ بھی خریدتے ہیں لہذا ہم نے ملک میں بنی مورتیاں ہی اپنی دکان پر دستیاب رکھی ہیں۔

    ایک اور دکاندار سنجے نے نیوز18 اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ کیونکہ خریدار چین میں بنی اشیا کی بجائے اب ملک میں تیار کردہ چیزیں خریدنا چاہتے ہیں لہذا ہم نے ہندوستان میں بنے چیزیں دستیاب رکھی ہیں ۔ واضح رہے کہ جموں کے لوگوں نے اس مرتبہ دیوالی کے روز آتش بازی کا کم سے کم استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ تاکہ ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے میں مدد مل سکے۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: