ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں و کشمیر : امرناتھ ٹریک پر شدومد سے کام جاری ، لوگوں میں پیدا ہوئی نئی امید

Jammu and Kashmir News : شری امرناتھ جی یاترا -2021 کے انعقاد پر تذبذب برقرار ہے اور اس حوالے سے سرکار کی جانب سے کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا ہے ۔ تاہم چندن واڑی سے مقدس گپھا تک یاترا ٹریک پر شروع کئے گئے کام سے یاترا سے منسلک افراد میں امید کی کرن روشن ہوئی ہے ۔

  • Share this:
جموں و کشمیر : امرناتھ ٹریک پر شدومد سے کام جاری ، لوگوں میں پیدا ہوئی نئی امید
جموں و کشمیر : امرناتھ ٹریک پر شدومد سے کام جاری ، لوگوں میں پیدا ہوئی نئی امید

جموں کشمیر: شری امرناتھ جی یاترا -2021 کے انعقاد پر تذبذب برقرار ہے اور اس حوالے سے سرکار کی جانب سے کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا ہے ۔ تاہم چندن واڑی سے مقدس گپھا تک یاترا ٹریک پر شروع کئے گئے کام سے یاترا سے منسلک افراد میں امید کی کرن روشن ہوئی ہے ۔ جبکہ یاترا کے اہتمام پر مختلف حلقوں سے ملاجلا ردعمل بھی سامنے آ رہا ہے ۔ خیال رہے کہ موجودہ صورتحال میں اس سال بھی شری امرناتھ جی یاترا کے اہتمام کے حوالے سے تذبذب برقرار ہے۔ ایسے میں یاترا کے روایتی پڑھاؤ چندن واڑی سے پسو ٹاپ تک پہلگام ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کی جانب سے تعمیراتی و تجدیدی کام کے آغاز سے یاترا سے منسلک افراد میں امید کی کرن نظر آ رہی ہے ۔ جبکہ پسو ٹاپ سے مقدس گپھا تک ہمالیائی ٹریک کو بھی پہلے ہی قابل آمد و رفت بنانے کیلئے پہل کی گئی ہے۔ اگرچہ متعلقہ حکام کے مطابق یہ تعمیراتی کام معمول کے ڈی پی آر کے مطابق انجام دیا جا رہا ہے، تاہم اسے یقینی طور پر یاترا کے انعقاد پر مزید چمہ گوئیاں ہو رہی ہیں۔


چندن واڑی سے یاترا کے پہاڑی ٹریک کو وسعت دینے کا کام جاری ہے ، جس کے ساتھ یاترا پر روزگار کے تناظر سے انحصار کرنے والے تمام افراد میں خوشی کا ماحول پیدا ہو گیا ہے۔ ان افراد کا کہنا ہے کہ ٹریک کے تعمیراتی و تجدیدی کام سے امرناتھ یاترا کے اہتمام کی ان کی امیدیں جاگ اٹھی ہیں ۔ فاروق احمد نامی ایک مقامی باشندے کا کہنا ہے کہ پہلگام اور اس سے متصل علاقوں کی آبادی کے ایک کثیر حصے کے روزگار کا دارومدار سالانہ امرناتھ یاترا پر ہوتا ہے۔ ایسے میں گزشتہ دو برسوں سے لگاتار یاترا کے متاثر ہونے سے ان افراد کا روزگار بھی بری طرح سے متاثر ہوا۔ فاروق کا کہنا ہے کہ کووڈ معاملات میں اب جبکہ نمایاں گراوٹ آئی ہے تو ایسے میں اب سرکار کو مناسب پروٹوکولز کے تحت یاترا کا اہتمام کرانا چاہئے  ۔


ادھر یاترا کے اہتمام کے حوالے سے طرح طرح کی افواہیں گشت کر رہی ہیں ۔ لیکن یاترا سے منسلک لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر اس سال امرناتھ یاترا منعقد ہوگی تو سرکار بال تل کے ساتھ ساتھ پہلگام کے روایتی راستے سے بھی اس کا انعقاد کرے ۔ کیونکہ یہاں کی آبادی کا ایک کثیر حصہ کا ذریعہ معاش صرف اور صرف یہی یاترا ہے۔ جو 2019 سے لگاتار متاثر ہو رہا ہے ۔ غلام نبی نامی ایک گھوڑے بان کا کہنا ہے کہ ان کے اور دیگر لوگوں کے روزگار کا دارومدار صرف اور صرف امرناتھ یاترا پر ہی ہے ، لیکن گزشتہ برس یاترا نہ ہونے کی وجہ سے ان کا روزگار بری طرح سے متاثر ہوا ہے۔ اب چندن واڑی ٹریک سے ہمالیائی گپھا تک کام کے آغاز سے ایسے افراد میں یقینی طور پر ایک امید جاگ اٹھی ہے کہ شاید اس برس یاترا کا اہتمام ممکن ہو سکے ۔


پہلگام کے ایک مقامی سماجی کارکن و ٹینٹ آنرس ایسوسی ایشن مشتاق پہلگامی کا کہنا ہے کہ امرناتھ یاترا سے کشمیری عوام کے احساسات اور جذبات جڑے ہوئے ہیں اور صدیوں سے اس یاترا کے انعقاد میں یہاں کے مقامی لوگوں کا ایک کلیدی رول رہا ہے۔ پہلگامی کے مطابق اس یاترا کو صرف یہاں کے معاشی ذریعہ کے طور پر دیکھنا بے جا ہے ، کیونکہ یہاں کے لوگوں نے ہمیشہ بلاامتیاز مذہب و ملت اس یاترا کا کھلے دل سے استقبال کیا ہے ، اس لئے کووڈ کے باوجود بھی یہاں کے لوگوں کی دلی خواہش ہے کہ یاترا کو بحال کیا جائے۔ مشتاق پہلگامی نے مزید کہا کہ اگر سرکار کو مناسب لگے تو بال تل کے ساتھ ساتھ پہلگام کے روایتی راستوں سے کووڈ رہنما خطوط کو نافذ العمل بنا کر یاترا کا آغاز کیا جا سکتا ہے۔

اگرچہ فوجی سربراہ نے حال ہی میں امرناتھ یاترا کے اہتمام کے حوالے سے تیار رہنے کا بیان دیا تھا ، لیکن اس کے باوجود بھی یاترا سے منسلک افراد کی جانب سے یاترا کے انعقاد کی وکالت کے باوجود بھی مختلف سیاسی حلقوں میں اس حوالے سے اختلاف رائے پائی جا رہی ہے۔ پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے حال ہی میں یاترا کے انعقاد پر مرکزی سرکار پر نشانہ سادھتے ہوا کہا تھا کہ اس حوالے سے کوئی بھی فیصلہ سرکار کا یک طرفہ فیصلہ ہوگا۔ جبکہ کئی سماجی و سیاسی افراد کا کہنا ہے کہ کووڈ کی وبائی صورتحال میں امرناتھ یاترا کو منعقد کرانے کا فیصلہ لوگوں کے حق میں نہیں ہوگا۔

ذرائع کے مطابق اس سال بھی یاترا کے مکمل انعقاد پر سوالیہ نشان برقرار ہے جبکہ کووڈ کی وبائی صورتحال کے تناظر میں اس سال بھی علامتی یاترا کے انعقاد کا امکان ہے۔ واضح رہے کہ 2019 میں دفعہ 370 کی منسوخی سے قبل ہی سیکورٹی وجوہات کی بنا پر امرناتھ یاترا کو بیچ میں ہی رد کر دیا گیا تھا۔ جبکہ 2020 میں بھی کووڈ کی وجہ سے یاترا کا اہتمام نہیں ہو پایا تھا۔ ایسے میں لوگوں کا کہنا ہے کہ سرکار اس سال امرناتھ یاترا کے اہتمام کے حوالے سے جو بھی فیصلہ کرے ، یہاں کے لوگوں کو اعتماد میں لیکر ان کے احساسات و جذبات کو مدنظر ہی رکھ کرے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jun 15, 2021 10:37 PM IST