உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں وکشمیر: جلد پورا ہوگا دنیا کے سب سے اونچے ریلوے آرک برج کا کام، بادلوں کے اوپر ایسا انجینئرنگ کرشمہ شاید ہی کبھی دیکھا ہو

    جموں وکشمیر: جلد پورا ہوگا دنیا کے سب سے اونچے ریلوے آرک برج کا کام

    جموں وکشمیر: جلد پورا ہوگا دنیا کے سب سے اونچے ریلوے آرک برج کا کام

    ہندوستان کے جموں وکشمیر ریاست میں بن رہا دنیا کا سب سے اونچا ریلوے آرک برج کی مرکزی وزیر ریل اشونی ویشنو نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل کے ذریعہ ایک تصویر شیئر کی ہے۔ وہیں بادلوں کے اوپر بغیر چناب برج حقیقت میں ایک انجینئرنگ کرشمہ ہیں۔

    • Share this:
      ہندوستان کے جموں وکشمیر ریاست میں بن رہا دنیا کا سب سے اونچا ریلوے آرک برج کا تعمیری کام مکمل ہونے کی دہلیز پر ہیں۔ سال 2022 یعنی اسی سال کے آخر تک یہ پل ریل نقل وحمل کے لئے چالو ہوسکتا ہے۔ چناب ندی پر بن رہے اس ریلوے آرک برج کی تل سے اونچائی 359 میٹر اور لمبائی 1,315 میٹر ہے۔ بادلوں کے اوپر آرک کی بناوٹ کا یہ پل کسی انجینئرنگ کرشمہ سے کم نہیں ہے۔ اس ریلوے آرک برج کی خاصیت یہ ہے کہ اس کی اونچائی فرانس کی راجدھانی پیرس کے ایفل ٹاور سے 35 میٹر زیادہ ہے۔ اس کے ساتھ ہی چناب ندی پر بن رہے پل کی اونچائی چین میں بیپن ندی پر بنے ڈیوگ پل کی اونچائی سے بھی زیادہ ہے۔



      مرکزی وزیر ریلوے اشونی ویشنو نے پیر کو دنیا کے سب سے اونچے ریلوے پل ’چناب برج‘ کی تصاویر اپنے آفیشیل ٹوئٹر ہینڈل کے ذریعہ شیئر کی ہے۔ مرکزی وزیر نے تصویر کو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ بادلوں کے اوپر دنیا کا سب سے اونچا آرک چناب برج۔ دراصل تصاویر میں اس برج کی اونچائی اتنی ہے کہ بادل بھی اس کے نیچے نظر آرہے ہیں۔ وہیں ہندوستانی ریلوے نے سال 2021 کے اپریل میں ہی پل پر آخری آرک کلوزر پورا کیا تھا۔



      دراصل پُل کا اہم مقصد کشمیر وادی سے کنیکٹیوٹی کو بڑھاوا دینا ہے۔ وہیں اس پُل پر پٹریوں کو اس طریقے سے بچھایا جائے گا کہ ٹرین 100 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑ سکے گی۔ وہیں ادھم پور-سری نگر-بارہمولہ ریل لنک پر 111 کلو میٹر کے سب سے مشکل سیکشن کو شمالی ریلوے نے دسمبر 2022 تک پورا کرنے کا ہدف رکھا ہے۔ واضح رہے کہ جلد ہی سیاح اس پُل سے سفر بھی کرسکیں گے۔



      اس منصوبہ میں جس طرح سے انڈین ریلوے کی شاندار انجینئرنگ نظر آئی ہے، یہ اس لئے بھی خاص ہے کیونکہ چناب برج جہاں بن رہا ہے، اس کے آس پاس کے پہاڑوں کی زمین کافی کچی ہے۔ ایسے میں کچے پہاڑوں اور چٹانوں کے درمیان اتنے بڑے پُل کی تعمیر کرنا، اپنے آپ میں ہی ایک مثال اور کرشمہ ہے۔ اب یہ کام پورا ہونے کی دہلیز پر ہے۔ وہیں جانکاری کے مطابق، اس برج پر 15 ڈگری سیلسیس درجہ حرارت کا بھی کوئی اثر نہیں پڑے گا۔



      اس کے علاوہ یہ برج 250 کلو میٹر فی گھنٹہ سے زیادہ رفتار سے چلنے والی ہواوں کو بھی آسانی سے برداشت کرسکے گا۔ وہیں پُل کو دہشت گردوں اور دوسرے کسی بھی طرح کے حملے سے بچانے کے لئے کچھ مناسب سیکورٹی کا انتظام کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ برج کے ایک طرف کے کھمبے کی اونچائی تقریباً 131 میٹر کی ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: