உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    عمر عبداللہ کا بڑا انکشاف، بولے PDP کو بغیر شرط حمایت دینے کا کیا تھا وعدہ، بیان پر چھڑ گئی سیاسی بحث، PAGD کے مستقبل پر اٹھائے سوال

     عمر عبداللہ نے دعویٰ کیاکہ نیشنل کانفرنس نے پی ڈی پی PDP  کے بانی مرحوم مفتی محمد سعید کو حکومت سازی کے لیے بلا شرط حمایت دینے کی پیش کش کی تھی تاکہ بی جے پی کو اقتدار سے دور رکھا جاسکے۔ تاہم مرحوم لیڈر نے اقتدار کی حصولی کے لیے بی جے پی کا دامن تھام لیا اور وہی سے جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن کو ختم کرنے کی شروعات ہوئی۔

    عمر عبداللہ نے دعویٰ کیاکہ نیشنل کانفرنس نے پی ڈی پی PDP کے بانی مرحوم مفتی محمد سعید کو حکومت سازی کے لیے بلا شرط حمایت دینے کی پیش کش کی تھی تاکہ بی جے پی کو اقتدار سے دور رکھا جاسکے۔ تاہم مرحوم لیڈر نے اقتدار کی حصولی کے لیے بی جے پی کا دامن تھام لیا اور وہی سے جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن کو ختم کرنے کی شروعات ہوئی۔

    عمر عبداللہ نے دعویٰ کیاکہ نیشنل کانفرنس نے پی ڈی پی PDP کے بانی مرحوم مفتی محمد سعید کو حکومت سازی کے لیے بلا شرط حمایت دینے کی پیش کش کی تھی تاکہ بی جے پی کو اقتدار سے دور رکھا جاسکے۔ تاہم مرحوم لیڈر نے اقتدار کی حصولی کے لیے بی جے پی کا دامن تھام لیا اور وہی سے جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن کو ختم کرنے کی شروعات ہوئی۔

    • Share this:
    نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ  (Omar Abdullah) کی جانب سے پی ڈی پی سے متعلق دئیے گئے بیان نے دیگر سیاسی جماعتوں کو پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن کو تنقید کا نشانہ بنانے کا موقع فراہم کیاہے۔عمر عبداللہ نے تیس نومبرکو کشتواڑ ضلع کے چھاترو علاقے میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھاکہ پی ڈی پی نے دوہزار چودہ میں منعقدہ انتخابات کے نتائج کے بعد بی جے پی کے ساتھ اتحاد کرکے حکومت بنانے کا فیصلہ کیا اور اسی فیصلے کی وجہ سے جموں وکشمیر میں غیر یقینی صورتحال کا آغاز ہوا عمر عبداللہ نے دعویٰ کیاکہ نیشنل کانفرنس نے پی ڈی پی PDP  کے بانی مرحوم مفتی محمد سعید کو حکومت سازی کے لیے بلا شرط حمایت دینے کی پیش کش کی تھی تاکہ بی جے پی کو اقتدار سے دور رکھا جاسکے۔ تاہم مرحوم لیڈر نے اقتدار کی حصولی کے لیے بی جے پی کا دامن تھام لیا اور وہی سے جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن کو ختم کرنے کی شروعات ہوئی۔ انہوں نے دعویٰ کیااگر مرحوم مفتی محمد سعید نے اس وقت اقتدار کی لالچ میں آکر بی جے پی کا ساتھ نہ دیا ہوتا تو دفعہ تین سو ستہر اور پینتیس اے منسوخ نہیں ہوتا۔ پی ڈی پی نے عمر عبداللہ کے اس بیان پر کوئی پلٹ وار کرنے سے گریز کیا ۔پی ڈی پی کے ترجمان سہیل بخاری کہاکہ وہ اس طرح کے بیانات پر رد عمل ظاہر کرکے رنجشیں بڑھانا نہیں چاہتے نیوز18اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے سہیل بخاری نے کہاکہ پی ڈی پی کے سامنے اس وقت جموں وکشمیر کے عوام کے حقوق بحال کرنااولین ترجیحات میں شامل ہے۔

    بی جے پی کانام لئے بغیر بخاری نے کہاکہ اس طرح کے بیانات ان سیاسی طاقتوں کے خاکو میں رنگ بھرنے کے مترادف ہیں جنہوں نے جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن کو ختم کرنے کا کام انجام دیاہے۔ ادھر پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس کی حریف سیاسی جماعتوں نے اس بیان کے منظر عام پر آتے ہی پی اے جی ڈی کو حدف تنقید بنایا ہے۔بھارتی جنتا پارٹی کاکہناہے کہ دوہزار چودہ میں اقتدار سازی کے بارے میں لیا گیا فیصلہ جموں وکشمیر کے ووٹروں کی جانب سے ظاہر کئے گئے فیصلے کے پیش نظر لیا گیا تھا۔ پارٹی کے سینئر لیڈر اور جموں وکشمیر کے سابق نائب وزیر اعلیٰ کویندر گپتا نے تاہم کہاکہ اس بیان سے عیاں ہوتاہے کہ پی اے جی ڈی میں شامل جماعتیں انفرادی طور پر ایک دوسرے کے خلاف ہیں۔



    نیوز 18 اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کویندر گپتا نے کہا کہ پی اے جی ڈی میں شامل نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن بحال کرنے کے بارے میں ایک جھٹ ہونے کا دعویٰ تو کرتی ہیں تاہم ان کا سیاسی مؤقف مختلف ہے۔ لہذا یہ ظاہر ہے کہ پی اے جی ڈی کا مستقبل خطرے میں ہے اور یہ اتحاد عنقریب ہی زوال پذیر ہوگا۔جموں وکشمیر اپنی پارٹی کاکہناہے کہ وہ پی اے جی ڈی کے وجود میں آنے کے فوراً بعد سے کہتی آئی ہے کہ یہ اتحاد عارضی ہے اور اس میں شامل سیاسی جماعتیں زیادہ وقت تک ایک دوسرے کا ساتھ نہیں دے سکتیں۔پارٹی کے جنرل سیکرٹری وجے بکایا کاکہناہے کہ پی اے جی ڈی جلد بازی میں وجود میں آیا تھا اور یہی وجہ ہے کہ اس اتحاد میں شامل کئی سیاسی جماعتیں پی اے جی ڈی کو ماضی قریب میں خیر باد کہہ چکی ہیں نیوز18اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے وجے بکایا نے کہاکہ عمر عبداللہ کے تازہ بیان سے ایک مرتبہ پھر یہ واضح ہوچکا ہے کہ یہ اتحاد عارضی ہے جموں وکشمیر کانگریس نے اس پورے معاملے پر محتاط رد عمل کا اظہار کیا۔

     

    پارٹی کے ترجمان روندر شرما کاکہناہے کہ ان کی پارٹی اس معاملے میں دخل اندازی نہیں کرسکتی نیوز18اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے تاہم انہوں نے کہاکہ ان کی جماعت جموں وکشمیر میں جمہوریت بحال کرنے کے اپنے موقف پر ڈٹی ہوئی ہے روندر شرما نے کہاکہ نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی دفعہ تین سو ستہر کی بحالی کے معاملے پر ایک جھٹ ہیں تاہم دونوں جماعتیں سیاسی حریف ہونے کے ناطے اس طرح کے بیانات دے سکتی ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ کانگریس جموں وکشمیر کو ریاست کا درجہ دینے کے بعد یہاں جلد از جلد اسمبلی انتخابات کرانے کے حق میں ہیں تاکہ ریاست کے لوگوں کو درپیش مسائل کا ازالہ ہوسکے عمر عبداللہ کے اس بیان کے بعد پی اے جی ڈی کا مستقبل کیا ہوگا اس کے بارے میں کوئی حتمی رائے قائم کرنا قبل از وقت ہوگا۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: