اپنا ضلع منتخب کریں۔

    کشمیری پنڈتوں کی سیکورٹی کا خاکہ تیار، دھمکی کے بعد پھر جموں لوٹنے لگے اہلکار

    کشمیری پنڈتوں کی سیکورٹی کا خاکہ تیار، دھمکی کے بعد پھر جموں لوٹنے لگے اہلکار۔ فائل فوٹو۔

    کشمیری پنڈتوں کی سیکورٹی کا خاکہ تیار، دھمکی کے بعد پھر جموں لوٹنے لگے اہلکار۔ فائل فوٹو۔

    میٹنگ میں کشمیری پنڈتوں، اقلیتوں جب کہ بیرونی مزدوروں کی ٹارگیٹ کلنگ کے واقعات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے اس پر مؤثر کنٹرول کی ہدایت دی گئی۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Jammu and Kashmir, India
    • Share this:
      وادی کشمیر میں دہشت گردانہ واقعات میں ہورہی لگاتار کمی کے باوجود کشمیری پنڈتوں کی سیکورٹی مرکز کے لیے تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔ منگل کو اس بارے میں نئی دہلی میں واقع وزارت داخلہ میں ہوئی اعلیٰ سطحی میٹنگ میں اس سے نمٹنے کی منصوبہ بندی کی گئی۔ ساتھ ہی کشمیری پنڈتوں کی سیکورٹی کا خاکہ تیار کیا گیا ہے۔

      اس درمیان دو دن پہلے دہشت گرد تنظیم ٹی آر ایف کی جانب سے جن 56 ملازمین کی ہٹ لسٹ جاری کی گئی تھی ان میں سے چھ سات فیملی منگل کو جموں لوٹ آئے۔ ادھر کشمیر میں رہ رہے پی ایم پیکیج ملازمین میں دہشت ہے۔

      ان کا کہنا ہے کہ ماحول وادی میں کام کرنے لائق نہیں ہے۔ ذرائع کے مطابق داخلہ سکریٹری اجئے بھلا کی قیادت میں ہوئی اس میٹنگ میں دو دن پہلے دہشت گرد تنظیم کی جانب سے کشمیری پنڈت ملازمین کے نام کی فہرست عام کرنے کے واقعہ کو کافی سنجیدگی سے دیکھا گیا۔ اس کے ساتھ ہی سرحد سے دھماکو مادے اور ہتھیاروں کی اسمگلنگ کے لیے ڈرون کا استعمال کے بڑھتے واقعات پر طویل بحث ہوئی۔

      یہ بھی پڑھیں:
      ایل جی سنہا کا حکم-امرناتھ یاتراکاموں کی تقسیم مارچ تک کردیں،زائرین کے لیے بڑھیں گے انتظام

      یہ بھی پڑھیں:
      جموں و کشمیر : دہشت گردوں کے ٹھکانہ کا پردہ فاش، اے کے 47 ، پستول اور ڈرگس کا ذخیرہ ملا

      وادی میں اگلے دنوں میں سردی میں مزید اضافے کا امکان

      میٹنگ میں کشمیری پنڈتوں، اقلیتوں جب کہ بیرونی مزدوروں کی ٹارگیٹ کلنگ کے واقعات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے اس پر مؤثر کنٹرول کی ہدایت دی گئی۔ سرویلنس بڑھانے کے ساتھ ہی ہائبرڈ دہشت گردوں جب کہ او جی ڈبلیو نیٹ ورک کو تباہ کرنے پر زور دیا گیا۔ معلوم ہو کہ وزیرداخلہ امیت شاہ کے اکتوبر مہینے میں دورے کے بعد یہ پہلی اعلیٰ سطحی میٹنگ کی ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: