உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Jammu and Kashmir: ہم ساری امید کھو بیٹھے تھے، لیکن فوج کی وجہ سے آج زندہ ہیں، ’جموں تصادم میں پھنسی فیملی کی آپ بیتی‘

    Jammu and Kashmir: ہم ساری امید کھو بیٹھے تھے، لیکن فوج کی وجہ سے آج زندہ ہیں، ’جموں تصادم میں پھنسی فیملی کی آپ بیتی‘

    Jammu and Kashmir: ہم ساری امید کھو بیٹھے تھے، لیکن فوج کی وجہ سے آج زندہ ہیں، ’جموں تصادم میں پھنسی فیملی کی آپ بیتی‘

    Jammu Encounter: افسران نے بتایا کہ یہ تصادم تقریباً چھ گھنٹے تک چلا اور علاقے میں ابھی تلاشی مہم چل رہی ہے۔ تصادم میں دو دہشت گرد مارے گئے اور وہ پاکستان واقع جیش محمد کی فدائین ٹیم کا حصہ بتائے جا رہے ہیں۔

    • Share this:
      جلال آباد: (جموں) ذوالفقار علی نے جمعہ کی صبح یہاں سیکورٹی اہلکاروں اور دہشت گردوں کے درمیان ہوئی خطرناک تصادم کے بعد کی خوفناکی یاد کرتے ہوئے کہا، ’ہم نے سوچا تھا کہ ہم پھر کبھی ایک دوسرے کو نہیں دیکھ پائیں گے۔ ساری امید کھو بیٹھے تھے، لیکن فوج نے وقت پر کارروائی کی اور ہمیں بچا لیا‘۔ علی (34) نے کہا کہ بھاری گولی باری وئی اور گرینیڈ سے دھماکہ ہوا اور گرینیڈ سے دھماکہ ہوئے اور ہمارے زندہ باہر آنے کی امید بہت کم تھی۔ گھر کی دیواروں اور باہر کھڑی گاڑیوں کے گولیوں سے چھلنی ہونے کے درمیان وہ اپنی فیملی کے ساتھ گھر کے ایک کونے میں چھپ گیا۔ اس نے کہا کہ اس خوفناک صورتحال میں فوج کی ایک ٹیم گھر میں گھسی اور بھاری سیکورٹی کے درمیان فیملی کے ہر ایک رکن کو نکالنا شروع کردیا۔

      ذوالفقار علی نے دعویٰ کیا کہ گھنی آبادی والے جلال آباد علاقے میں صبح چار بجے کے بعد تصادم شروع ہوا۔ اس نے کہا، ’فوج کی ٹیم ہمیں ایک محفوظ مقام پر لے گیا اور آج ہم زندہ ہیں‘۔ افسران نے بتایا کہ یہ تصادم تقریباً چھ گھنٹے تک چلی اور علاقے میں ابھی تلاشی مہم چل رہی ہے تصادم میں دو دہشت گرد مارے گئے اور وہ پاکستان واقع جیش محمد کی فدائین ٹیم کا حصہ بتائے جا رہے ہیں۔ ذوالفقار علی نے کہا، ’گھر کے آنگن میں ایک تیز دھماکے سے ہم اٹھے۔ اس کے بعد خودکار رائفل سے گولیاں چلنے اور دھماکوں کی آواز آنے لگی‘۔

      Jammu and Kashmir: کشمیری پنڈتوں کے خلاف دھمکی آمیز خط کے بعد ڈی سی کو سونپا گیا میمورنڈم

      ’باہر سے آرہی گولی اور دھماکوں کی آواز ڈراونی تھی‘

      ایک دیگر باشندہ مسرج حسین نے کہا، ’ہم سحری کے لئے اٹھے تھے، جب گولی باری اور دھماکوں کی آواز سے دہل گئے‘۔ اس نے بتایا کہ دروازے اور کھڑکیاں بند کردی گئیں اور باہر سے آرہی آواز خوفناک تھی۔ ذوالفقار علی نے کہا کہ دھماکے کی آواز سے اٹھنے کے بعد اس نے فوراً مدد کے لئے مقامی پولیس تھانہ افسر کو فون کیا۔ انہوں نے وقت پر کارروائی کی۔ اس نے اپنے گھر کی دیواریں دکھائیں، جس پر گولیوں کے نشان دیکھے جاسکتے ہیں۔

      ذوالفقار علی نے کہا، ‘ہم نے ایسا ہوتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا۔ ہم پھر سے یہ نہیں دیکھنا چاہتے۔ میں فوج کا دل سے شکریہ ادا کرنا چاہتاہوں۔ وہ ہمیں گھر سے باہر نکال کر لائے‘۔ دہشت گرد سی آئی ایس ایف کی ایک بس پر حملہ کرنے کے بعد جلال آباد میں گھس گئے تھے۔ افسران نے بتایا کہ سیکورٹی اہلکاروں نے اس گھر کو گھیر لیا تھا، جس میں دہشت گرد چھپے ہوئے تھے۔ سیکورٹی اہلکاروں نے دہشت گردوں کو مار گرایا۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: