உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں۔کشمیر: شویپاں میں سکیورٹی فورسز نے 2سے3 دہشت گردوں کو گھیرا، سرچ آپریشن جاری

    Jammu Kashmir Encounter: کہا جا رہا ہے کہ اس علاقے میں مزید دہشت گرد ہو سکتے ہیں۔ اس وقت پورے علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ خفیہ اطلاع ملنے کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کا محاصرہ کر لیا اور وہاں تلاشی مہم شروع کی۔بتا دیں کہ شوپیاں انتہائی حساس علاقہ ہے۔

    Jammu Kashmir Encounter: کہا جا رہا ہے کہ اس علاقے میں مزید دہشت گرد ہو سکتے ہیں۔ اس وقت پورے علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ خفیہ اطلاع ملنے کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کا محاصرہ کر لیا اور وہاں تلاشی مہم شروع کی۔بتا دیں کہ شوپیاں انتہائی حساس علاقہ ہے۔

    Jammu Kashmir Encounter: کہا جا رہا ہے کہ اس علاقے میں مزید دہشت گرد ہو سکتے ہیں۔ اس وقت پورے علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ خفیہ اطلاع ملنے کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کا محاصرہ کر لیا اور وہاں تلاشی مہم شروع کی۔بتا دیں کہ شوپیاں انتہائی حساس علاقہ ہے۔

    • Share this:
      سری نگر: جموں و کشمیر کے شوپیاں ضلع میں سکیورٹی فورسز نے 2 سے 3 دہشت گردوں کو گھیرے میں لے لیا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ اس علاقے میں مزید دہشت گرد ہو سکتے ہیں۔ اس وقت پورے علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ خفیہ اطلاع ملنے کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کا محاصرہ کر لیا اور وہاں تلاشی مہم شروع کی۔بتا دیں کہ شوپیاں انتہائی حساس علاقہ ہے۔

      گزشتہ ہفتے یہاں ایک انکاؤنٹر میں لشکر طیبہ کا ایک دہشت گرد مارا گیا تھا۔ جبکہ فوج کے دو جوان بھی شہید ہوئے۔ افسر نے بتایا تھا کہ فائرنگ کے بعد شروع ہونے والے انکاؤنٹر میں لشکر کے دہشت گرد عبدالقیوم ڈار جو پلوامہ ضلع کے لارو کاک پورہ کا رہنے والا تھا مارا گیا۔

      اس دوران سیکورٹی فورسز نے جموں و کشمیر کے بارہمولہ اور شوپیاں اضلاع سے لشکر طیبہ کے دہشت گردوں کے چار ساتھیوں کو گرفتار کیا ہے۔ پولیس کے ایک ترجمان نے بتایا کہ پولیس کا کہنا ہے کہ ان کے قبضے سے گولہ بارود سمیت دیگر دھماکہ خیز اشیا کو برآمد کیا گیا ہے۔

      اس تصادم میں سکیورٹی فورسز نے ایک دہشت گرد کو مار گرایا تھا۔ لیکن اس تصادم میں دو فوجی بھی شہید ہوگئے تھے۔ سرچ آپریشن تاحال جاری ہے۔ سکیورٹی فورسز پوری طرح تیار ہیں اور اپنی پوزیشنوں پر آگے بڑھ رہی ہیں۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: