ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

انتہائی خوبصورت باغ گل لالہ میں پانچ روزہ (Tulip festival) تین اپریل سے شروع، منوج سنہا کریں گے فیسٹول کا افتتاح

سرینگر (Srinagar) میں باغ گل لالہ (Tulip garden ) میں پانچ روزہ ٹیولپ فیسٹول ( Tulip festival) ہفتے کے روز شروع ہوگا۔ پانچ روزہ اس فیسٹول کا افتتاح جموں و کشمیر کے لیفٹننٹ گورنر منوج سنہا (LG Manoj Sinha) کریں گے۔

  • Share this:
انتہائی خوبصورت باغ گل لالہ میں پانچ روزہ  (Tulip festival)  تین اپریل سے شروع،   منوج سنہا کریں گے فیسٹول کا افتتاح
پانچ روزہ ٹیولپ فیسٹول ( Tulip festival) ہفتے کے روز شروع ہوگا

سرینگر (Srinagar) میں باغ گل لالہ (Tulip garden) میں پانچ روزہ ٹیولپ فیسٹول ( Tulip festival) ہفتے کے روز شروع ہوگا۔ پانچ روزہ اس فیسٹول کا افتتاح جموں و کشمیر کے لیفٹننٹ گورنر منوج سنہا (LG Manoj Sinha) کریں گے۔ میلے کے پہلے دو دن محکمہ سیاحت کی طرف سے میگا پروگرام منعقد کئے جائیں گے جبکہ اگلے تین روز تک محکمہ فلوریکلچر کی طرف سے مختلف پروگراموں کا انعقاد کیا جائے گا۔ میلے کا مقصد ٹیولپ گارڈن (Tulip garden) کو قومی اور بین الا اقوامی سطح پر تشہیر کرنا ہے۔ رواں برس پہلے آٹھ دنوں کے دوران لگ بھگ ۷۰ ہزار سیاحوں نے باغ گُل لالہ کی سیر کی ہے۔


محکمہ فلوریکلچر کے ڈائئریکٹر فاروق احمد راتھر نے نیوز ایٹین اردو کے ساتھ خصوصی بات چیت میں کہا کہ اسبار ابتدائی مرحلے میں ہی لوگوں کی بھاری تعداد میں باغ گُل لالہ کی سیر کی۔ انہوں نے کہا " جمعہ کے روز تک ۶۶ ہزار سے زاید افراد ٹیولپ گارڈن دیکھنے آئے جن میں لگ بھگ پچاس فی صد بیرون یوٹی سے آئے ہوئے سیاح شامل ہیں۔"


دنیا بھر میں ٹیولپ کی 150 سے زیادہ پرجاتیاں اور 3 ہزار سے زائد اقسام موجود ہیں۔ یعنی وقت اور حالات کچھ بھی ہوں۔ یہ پھول حالات کے مطابق ہر رنگ میں بدلتے ہیں۔ بعض اوقات آپ کے لئے حالات کو اپنانا مشکل ہوتا ہوگا۔ ایسی صورتحال میں آپ ان پھولوں سے inspiration لے سکتے ہیں۔


انہوں نے کہا کہ سال دو ہزار اُنیس میں اڑھائی لاکھ سیاحوں نے باغ گُل لالہ کی سیر کی تھی جو اب تک کی سب سے بڑی تعداد ہے تاہم انہیں امید ہے کہ اس سال ریکارڈ تعداد میں سیاح باغ گُل لالہ کی سیر کریں گے۔ ٹیولپ گارڈن کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے محکمہ فلوریکلچر اس باغ کو مزید دلکش بنانے کے لئے ایک اور پروجیکٹ پر کام کر رہا ہے۔ ڈائیریکٹر فلوریکلچر کا کہنا ہے کہ باغ کے کُل رقبہ تیس ہیکٹئیر میں سے بیس ہیکٹیر رقبے پر گُل لالہ اگائے جاتے ہیں۔ جبکہ باقی ماندہ دس ہیکٹئیر رقبے پر Early bloom cherry garden قائیم کرنے کے پروجیکٹ پر کام ہورہا ہے۔ فاروق احمد راتھر نے کہا کہ اس پروجیکٹ پر دس کروڑ روپئے صرف ہونے کا اندازہ ہے اور اس پر کام کی ابتدا ہوچکی ہے۔

کورونا وائرس کے ڈر سے اگر آپ گھر سے باہر نہیں نکل پا رہے ہیں یا آپ کو کسی پابندی کا ڈر ہے تو اب آپ خوش ہو جائیں کیونکہ آپ کیلئے خود وزیر اعظم نے سوشل میڈیا سائٹ ٹویٹر پر لکھا " پچیس مارچ جموں و کشمیر کے لئے ایک خاص دن ہے۔ زبرون پہاڑی سلسلے کے دامن میں واقع باغ گُل لالہ عوام کے لئے کھول دیا جائے گا۔ باغ میں 64 اقسام کے پندرہ لاکھ ٹیولپ کھلے ہوئے ہیں۔" (photo credit:@NarendraModi/twitter)۔


انہوں نے کہا کہ Cherry کے ان پودوں کے شگوفے عام cherryکے پودوں سے لگ بھگ دو ہفتے پہلے ہی کھل اٹھتے ہیں اور انکی دلکشی سیاحوں کو اپنی طرف لُبھاتی ہے۔ انہوں نے کہا " یہ Concept جاپان سے لیا گیا ہے جہاں کا سکورہ باغ کافی مشہور ہے اور وہاں ہر سال ایک میلے کا اہتمام کیا جاتا ہے جو ہنامی فیسٹول کے نام سے دُنیا بھر میں مقبول ہے اور اس میں لاکھوں کی تعداد میں سیاح شامل ہوجاتے ہیں۔" انہوں نے کہا کہ اس طرح کے باغات یورپی ممالک میں بھی قائیم کئے گئے ہیں اور یہ سیاحوں کو راغب کرنے میں کافی مدد گارثابت ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے باغ گُل لالہ میں سیاحوں کی آمد موجودہ وقت سے لگ بھگ دو ہفتے پہلے ہی شروع ہوجائے گی اور یوں وادی میں سیاحتی سیزن مزید پندرہ دن پہلے ہی شروع ہوگا۔

وادی کے دیگر مغل باغات کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں ڈائیریکٹر فلوریکلچر نے کہا کہ ان باغات میں پھولوں کی روایتی اقسام کو زیادہ تعدادمیں اگانے کے لئے اقدامات کئے جارہے ہیں تاکہ ان تواریخی باغات کی شان رفتہ بحال ہوسکے۔ فاروق احمد راتھر نے کہا کہ ٹیولپ گارڈن میں سیاحوں کی بھاری آمد سے یہ امید کی جارہی ہے کہ آنے والے دنوں میں کسیر تعداد میں سیاح کشمیر وادی کے مغل باغات اور دیگر سیاحتی مقامات کا رُخ کریں گے۔
Published by: Sana Naeem
First published: Apr 02, 2021 04:43 PM IST