ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

کورونا وائرس کا اثر: نودل ترال میں موجود تاریخی چشمے پر قلیل تعداد میں کشمیری پنڈتوں کی حاضری 

ضلع انتظامیہ نے پوجا کے لئے تمام تر انتظامات کئے تھے تاکہ لوگوں کو کسی بھی طرح کی مشکل نہ ہو۔

  • Share this:
کورونا وائرس کا اثر: نودل ترال میں موجود تاریخی چشمے پر قلیل تعداد میں کشمیری پنڈتوں کی حاضری 
نودل ترال میں موجود تاریخی چشمے پر قلیل تعداد میں کشمیری پنڈتوں کی حاضری

جنوبی کشمیر کے قصبہ ترال میں نودل کے مقام پر ہر سال امر ناتھ یاترا کے بعد اسی مخصوص دن پر یہاں وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے پنڈت برادری کے لوگ حاضری دیتے تھے۔ تاہم امسال کورونا وائرس کے نتیجے میں صرف مقامی پندٹوں نے یہاں حاضری دیکر ایک مختصر تقریب کا اہتمام کیا جس کے مقامی انتظامیہ نے انتظامات کئے تھے۔


تفصیلات کے مطابق جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ ترال سب ضلع کے نودول کے مقام پر پندٹ برادری کے لوگ ہر سال امر ناتھ یاترا کے اختتام پر یہاں ایک خاص تقریب کا اہتمام ہوتا تھا جس میں وادی کشمیر کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی ایک بڑی تعداد حصہ لیتی تھی اور یہاں دن بھر موجود رہ کر پوجا پاٹ کرنے کے بعد یہاں ہی کھانا بھی کھاتے تھے ،جس کے لئے انتظامیہ ہر سال مکمل انتظامات بھی کرتی تھی۔ تاہم امسال موجودہ کورونا وائرس کے نتیجے میں یہاں مقامی پنڈتوں نے ہی استاپھن پر حاضری دے کر پوجا پاٹ کی۔ پنڈت لوگوں کا کہنا ہے کہ استاپھن اس لئے مشہورہے کہ امرناتھ یاترا کے بعد چھڑی مبارک کو یہاں سران کرنے لے لئے لایا جارہا ہے اور یاتری اس چشمے میں سران کرتے ہیں۔ اس چشمے کا نام اسلئے نو ناگ رکھا گیا ہے کیوں کہ اس چشمے میں نو چشموں کا پانی ایک ساتھ نکل رہا ہے۔ اس لئے اس کا پانی پینے کے لئے بھی استمال کیا جارہا ہے اور بیرون ریاستوں کے لوگ اس چشمے کے پانی کو بطور تحفہ اپنے علاقوں میں لے جاتے ہیں۔


ادھرضلع انتظامیہ نے پوجا کے لئے تمام تر انتظامات کئے تھے تاکہ لوگوں کو کسی بھی طرح کی مشکل نہ ہو۔ مقامی لوگوں نے اس چشمے کے ارد گرد دیوار بندی کرنے کا سرکار سے مطالبہ کیا ہے تاکہ یہ استاپھن محفوظ رہے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ اگرچہ وادی میں خشک سالی کی وجہ سے اکثر چشمے سوکھ گئے ہیں تاہم اس چشمے میں ابھی بھی پانی کی سطح برابر موجود ہے ۔یہ استھاپن ہندو مسلم بھائی چارے کا صدیوں سے گہوارہ رہا ہے ۔اگرچہ آج بھی یہاں صرف مقامی پنڈت برادری کے کم تعداد میں لوگوں نے حصہ لیا ہے جس دوران یہاں حسب معمول مقامی مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد پنڈت برادری کے لئے پیش پیش تھی ۔غلام نبی نامی ایک شہری نے بتایاکہ وادی کشمیر سے ہجرت کرنے والے پنڈت برداری کے لوگ ہر سال اس جگہ حاضری دینے کے لئے یہاں آتے تھے جہاں مقامی مسلمان اپنے دوستوں اور ہمسائیوں کے ساتھ اسی جگہ پر ملاقات کرتے تھے اور لوگ اس پروگرام کا انتظار بھی کرتے رہتے ہیں۔

Published by: Nadeem Ahmad
First published: Aug 08, 2020 11:11 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading