ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں وکشمیر: تین سالوں میں 305 جوان شہید، دہشت گردانہ حملے میں کمی آئی، 2018 رہا سب سے خونی

Jammu-Kashmir Update: اس کے علاوہ سال 2018 میں 614 دہشت گردانہ حملے (Terrorist Attack) ہوئے تھے، جس میں 39 شہری مارے گئے تھے۔ ان حادثات میں 91 جوان شہید ہوئے تھے۔ حالانکہ، سال 2020 میں دہشت گردانہ حادثات میں کافی کمی آئی۔

  • Share this:
جموں وکشمیر: تین سالوں میں 305 جوان شہید، دہشت گردانہ حملے میں کمی آئی، 2018 رہا سب سے خونی
جموں وکشمیر: تین سالوں میں 305 جوان شہید، دہشت گردانہ حملے میں کمی آئی

نئی دہلی: گزشتہ تین سالوں میں جموں وکشمیر (Jammu-Kashmir) میں سیز فائر کی خلاف ورزی (Ceasefire Violation) کے حادثات میں اضافہ ہوا ہے۔ جبکہ، دہشت گردانہ حملے کم ہوئے ہیں۔ اس بات کی جانکاری وزارت داخلہ (Ministry of Home Affairs) نے منگل کو دی ہے۔ وزارت داخلہ نے 2018، 2019 اور 2020 میں ہوئے دہشت گردانہ حملے اور سیز فائر کی خلاف ورزی کے معاملوں سے متعلق تفصیل پیش کی۔ اس کے علاوہ وزارت کی طرف سے کسان آندولن، نکسلی سمیت کئی بڑے موضوعات کی اطلاع دی گئی۔


وزارت داخلہ کی طرف سے جاری کئے گئے اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ سال 2020 میں سیز فائر کی خلاف ورزی کے 5133 معاملے سامنے آئے تھے، جس میں 22 عام شہریوں کی موت ہوگئی تھی۔ جبکہ، 71 زخمی ہوگئے تھے۔ وہیں، اس دوران سیکورٹی اہلکاروں کے 24 جوان شہید ہوگئے تھے۔ سال 2019 میں سیز فائر کی 3479 حادثات ہوئے، جن میں 18 عام شہریوں کو موت ہوئی تھی اور 19 جوان شہید ہوگئے تھے۔ سال 2018 میں سیز فائر کے کل 2140 حادثات ہوئے۔


تصویر کریڈٹ: اے این آئی
تصویر کریڈٹ: اے این آئی


اس کے علاوہ سال 2018 میں 614 دہشت گردانہ حملے ہوئے تھے، جس میں 39 شہری مارے گئے تھے۔ ان حادثات میں 91 جوان شہید ہوئے تھے۔ حالانکہ، سال 2020 میں دہشت گردانہ حادثات میں کافی کمی آئی۔ گزشتہ سال 244 دہشت گردانہ حملے ہوئے تھے۔ ان حادثات میں سیکورٹی اہلکاروں اکے 62 جوان شہید ہوئے تھے۔ جبکہ، 37 عام شہریوں کی موت ہوگئی تھی۔ سیکورٹی اہلکاروں نے سال 2020 میں 221 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا تھا۔ جبکہ، 2018 میں یہ اعدادوشمار 257 اور 2019 میں 157 پر تھا۔ تین سالوں میں فوج کے 305 جوان شہید ہوگئے ہیں۔

سال 2018 میں سب سے زیادہ اموات

وزارت داخلہ کی طرف سے بتائے گئے اعدادوشمار کے مطابق، سیز فائر کی خلاف ورزی اور دہشت گردانہ حملوں میں سب سے زیادہ اموات سال 2018 میں ہوئیں۔ اس دوران سیزفائر کے حادثات میں کل 59 جانیں گئیں۔ وہیں، دہشت گردوں کے سبب 130 لوگوں نے اپنی جان گنوائی۔ حالانکہ، سال 2020 میں ان دونوں طرح کے حادثات پر کافی حد تک قابو پالیا گیا ہے۔ فوج نے تین سالوں میں 635 دہشت گرد مار گرائے ہیں۔ سیز فائر سے متعلق حادثات میں تین سال میں 70 عام شہریوں کی اموات ہوچکی ہیں۔ وہیں، دہشت گردانہ حملوں میں 115 لوگوں نے اپنی جان گنوائی ہے۔ گزشتہ کچھ وقت سے ریاست میں دہشت گرد کافی سرگرم نظر آرہے ہیں۔

 

 
Published by: Nisar Ahmad
First published: Feb 02, 2021 07:51 PM IST