ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں۔ سرینگر قومی شاہراہ پر سفری اجازت کے باوجود شیطان نالہ پر واقع کووڈ چیک پوسٹ مسافروں کیلئے درد سر

جموں سرینگر شاہراہ پر سفر کرنے والے کئی مسافروں نے بتایا کہ لاک ڈاون ہٹائے جانے اور شاہراہ پر کووڈ شرائط کے مطابق سفر کرنے کی سرکاری اجازت کے باوجود بانہال کے شیطان نالہ پر چیکنگ کے جاری سلسلے سے عام مسافر تنگ ہیں اور یہاں ابھی بھی کووڈ منفی رپورٹ مانگی جاتی ہے اور وادی کشمیر سے جموں جانے والے مسافروں کو واپس وادی کی طرف بھی لوٹنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

  • Share this:
جموں۔ سرینگر قومی شاہراہ پر سفری اجازت کے باوجود شیطان نالہ پر واقع کووڈ چیک پوسٹ مسافروں کیلئے درد سر
جموں۔ سرینگر قومی شاہراہ پر سفری اجازت کے باوجود شیطان نالہ پر واقع کووڈ چیک پوسٹ مسافروں کیلئے درد سر

عالمی وبا کورونا وائرس کے پھوٹ پڑنے اور ریاست میں لاک ڈاون کے نفاذ کے ساتھ ہی کووڈ انیس کے پھیلاو کی روک تھام کیلئے جموں سرینگر قومی شاہراہ پر بانہال کے شیطان نالہ علاقے میں مسافروں کی چیکنگ کیلئے مارچ کے مہینے میں ضلع انتظامیہ رامبن کی طرف سے ایک انتظامی چیک پوسٹ کا قیام بھی عمل میں لایا گیا تھا  اور یہ چیک پوسٹ شاہراہ پر کووڈ احتیاطی تدابیر کے ساتھ سفری اجازت کے باوجود مسافروں کیلئے درد سر بنی ہوئی ہے  اور حکام اسے جواہر ٹنل کے دونوں اطراف مسلسل ریڈ زون کے زمرے میں ہونے کی وجہ قرار دیتے ہیں۔


شیطان نالہ کے اس چیک پوسٹ پر دن رات ڈیوٹی نبھانے کیلئے لیکچررز ، ماسٹروں اور ٹیچروں کو روزانہ کی بنیادوں پر بطور مجسٹریٹ تعینات کیا جاتا ہے اور ان کی مدد اور مسافر گاڑیوں کو روکنے کیلئے وہاں سی آر پی ایف تعینات کی گئی ہے۔


جموں سرینگر شاہراہ پر سفر کرنے والے کئی  مسافروں نے بتایا کہ لاک ڈاون ہٹائے جانے  اور شاہراہ پر کووڈ شرائط  کے مطابق  سفر کرنے کی سرکاری اجازت کے باوجود بانہال کے شیطان نالہ پر چیکنگ کے جاری سلسلے سے عام مسافر تنگ ہیں اور یہاں ابھی بھی کووڈ منفی رپورٹ مانگی جاتی ہے اور وادی کشمیر سے جموں جانے والے مسافروں کو واپس وادی کی طرف  بھی لوٹنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف سے مرکزی وزیر اور صوبائی انتظامیہ شاہراہ پر بغیر کسی پابندی یا پاس کے سفر کرنے کا اعلان کرتے ہیں وہیں دوسری طرف پہلے جواہر ٹنل پر اور اب شیطانی نالہ کے مقام انتظامی چیک پوسٹ بدستور متحرک ہے اور یہاں وادی  کشمیر سے جموں آنے والی تمام مسافر گاڑیوں کو روکا جاتا ہے اور کووڈ رپورٹ طلب کی جاتی ہے۔


انہوں نے کہا کہ شیطان نالہ کے مقام  مسافر گاڑیوں کی چیکنگ  کیلئے ٹین کے ایک شیڈ میں قائم چیک پوسٹ پر روزانہ کی بنیادوں پر تعینات اساتذہ ٹھٹھرتی سردی میں ڈیوٹی انجام دے رہے ہوتے ہیں اور مسافروں کو روک کر ان سے کووڈ منفی رپورٹ طلب کی جاتی ہے جس کی وجہ سے مسافروں کو واپس جانے یا آگے بڑھنے میں مزید کئی گھنٹوں کا وقت ضائع کیا جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جموں سرینگر قومی شاہراہ پر کسی بھی دوسری جگہ پر کووڈ انیس  سے متعلق کوئی چیکنگ نہیں کی جاتی  ہے تاہم بانہال سے بارہ کلومیٹر دور شیطانی نالہ کے مقام پر قائم چیک پوسٹ پر مسافروں سے کووڈ منفی رپورٹ اور پاس طلب کئے جاتے ہیں اور زور زبردستی کرکے مجبور مسافروں کو واپس لوٹنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

شیطان نالہ پر تعینات کئی سرکاری ملازمین جو بطور مجسٹریٹ کام کرتے ہیں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط  پر نیوز 18 کو بتایا کہ وہ ضلع انتظامیہ رامبن  کے احکامات کی عمل آوری کر رہے ہیں اور کسی بھی مسافر  کو آگے کا سفر جاری رکھنے  کیلئے ضروری کاغذی لوازمات پیش کرنا ضروری ہوتا ہے اور اس  کے بغیر وادی کشمیر سے جموں کی طرف مسافروں کو نہیں چھوڑا  جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو مسافر سفر جاری رکھنے کے خواہشمند ہوتے ہیں ان کے کووڈ نمونے موقع پر ہی محکمہ صحت کے ملازمین کی طرف سے لئے جاتے  ہیں  اور ان کے نتائج بھی جلد ہی دیئے جاتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جو مسافر سفر کیلئے ضروری دستاویزات کے ساتھ نہیں ہوتے ہیں انہیں واپس وادی کشمیر کی طرف بھیجا جاتا ہے اور بعض معاملات  ضلع انتظامیہ رامبن اور سب ضلع انتظامیہ بانہال کی نوٹس میں بھی لائے جاتے ہیں جہاں  کووڈ رپورٹ کے بغیر مسافروں کو چھوڑنے یا نہ چھوڑنے کا حتمی فیصلہ لیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہاں ڈیوٹی دینےوالے لیکچررز ، ماسٹروں اور ٹیچروں کو بھی ناقابل بیان مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور آن لائن کلاسز ، اسکول میں ڈیوٹی دینے اور اسکول کے کاغذی کام انجام دینے کے ساتھ ساتھ کووڈ انیس کیلئے شیطان نالہ اور جواہر ٹنل پر ڈیوٹی انجام دینا ان کیلئے انتہائی دشوار ہوگیا ہے۔ اس سلسلے میں رابطہ کرنے پر ضلع مجسٹریٹ رامبن ناظم زئی خان نے بتایا کہ جواہر ٹنل کے دونوں اطراف مسلسل ریڈ زون کے زمرے میں آتے ہیں اور اسی وجہ سے یہاں کووڈ چیک پوسٹ ابھی بھی قائم ہے اور کام کر رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جواہر ٹنل کے علاقے میں چیکنگ کا  یہ سلسلہ اگلے احکامات تک جاری رہے گا اور اس کیلئے مسافروں کو تعاون کرنا چاہئے۔

 
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Oct 19, 2020 01:14 PM IST