உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں وکشمیر کے ڈی جی پی دلباغ سنگھ کا دعویٰ- کشمیر میں ترنگا لہرانے سے بوکھلائے ہیں دہشت گرد، بے گناہ لوگوں کو بنا رہے ہیں نشانہ

    جموں وکشمیر کے ڈی جی پی دلباغ سنگھ کا دعوعیٰ- کشمیر میں ترنگا لہرانے سے بوکھلائے ہیں دہشت گرد

    جموں وکشمیر کے ڈی جی پی دلباغ سنگھ کا دعوعیٰ- کشمیر میں ترنگا لہرانے سے بوکھلائے ہیں دہشت گرد

    Kashmir Terrorist Indian Flag: جموں وکشمیر پولیس جنرل ڈائریکٹر دلباغ سنگھ نے کہا کہ گزشتہ ایک سال میں پاکستان سے چل رہی دہشت گردی کی فیکٹری پر نکیل کسی کی گئی ہے۔

    • Share this:

      سری نگر: کشمیر وادی میں 48 گھنٹوں کے اندر دہشت گردوں نے دو دہشت گردانہ حادثات کو انجام دیا۔ پہلے پیر کو دہشت گردوں نے سرپنچ غلام رسول ڈار اور ان کی اہلیہ کو نشانہ بنایا، پھر منگل کو ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ بازار میں حملہ کیا گیا۔ ذرائع بتاتے ہیں کشمیر میں لال چوک، ہاری پروت اور گلمرگ میں ترنگا لہرائے جانے سے دہشت گرد بوکھلا گئے ہیں، اسی لئے منگل کو گرینیڈ حملے میں عام لوگوں کو نشانہ بنایا گیا، جس میں کچھ لوگ زخمی ہوئے۔ جموں وکشمیر پولیس ڈائریکٹر جنرل دلباغ سنگھ نے کہا کہ یہ دہشت گردوں کی بوکھلاہٹ ہے کہ وہ اب بے گناہ لوگوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔


      پیر کو کشمیر کے اننت ناگ ضلع میں دہشت گردوں نے سرپنچ غلام رسول ڈار اور ان کی اہلیہ جواہرہ بانو کے گھر میں گھس کر ان پر اندھا دھند گولیاں چلائی، جس سے دونوں کی موت ہوگئی۔ غلام رسول ڈار کلگام بی جے پی کسان مورچہ کے صدر بھی تھے۔ ذرائع نے نیوز 18 کو بتایا کہ ابھی تک غلام رسول ڈار اپنی اہلیہ کے ساتھ کلگام میں سیکورٹی گھیرے میں ایک ہوٹل میں رہے تھے، لیکن وہ اپنے گھر لوٹنا چاہتے تھے۔ اجازت ملنے کے بعد غلام رسول ڈار اپنی اہلیہ کے ساتھ اپنے گھر لوٹے اور اس کے بعد ان پر دہشت گردانہ حملہ ہوگیا۔




      کشمیر وادی میں 48 گھنٹوں کے اندر دہشت گردوں نے دو دہشت گردانہ حادثات کو انجام دیا۔ پہلے پیر کو دہشت گردوں نے سرپنچ غلام رسول ڈار اور ان کی اہلیہ کو نشانہ بنایا، پھر منگل کو ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ بازار میں حملہ کیا گیا۔
      کشمیر وادی میں 48 گھنٹوں کے اندر دہشت گردوں نے دو دہشت گردانہ حادثات کو انجام دیا۔ پہلے پیر کو دہشت گردوں نے سرپنچ غلام رسول ڈار اور ان کی اہلیہ کو نشانہ بنایا، پھر منگل کو ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ بازار میں حملہ کیا گیا۔

      اطلاعات کے مطابق، غلام رسول ڈار کے ساتھ تعینات ایک سیکورٹی اہلکار کو معطل کر دیا گیا ہے۔ آپ کو بتا دیں کہ کشمیر میں پنچوں اور سرپنچوں کے رہنے کے لئے سیکورٹی گھیرے میں کچھ ہوٹلوں کی پہچان کی گئی ہے، جہاں ہمیشہ سیکورٹی رہتی ہے۔ غلام رسول ڈار پر ہوا حملہ کسی سرپنچ یا لیڈر پر پہلا حملہ نہیں ہے۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ کشمیر میں 15 اگست سے پہلے دہشت گرد کسی بڑے حملے کو انجام دینے کے فراق میں ہیں۔


      سری نگر میں سیکورٹی اہلکاروں پر دہشت گردوں نے کیا گرینیڈ حملہ


      سری نگر میں منگل کو سیکورٹی اہلکاروں پر نشانہ بناکر پھینکے گئے گرینیڈ حملے میں پانچ شہری زخمی ہوگئے۔ دہشت گردوں نے سری نگر کے ہری سنگھ اسٹریٹ پر سیکورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ دہشت گردوں نے ہری سنگھ سڑک پر جوانوں کے اوپر گرینیڈ سے حملہ کیا، جس میں پانچ شہری زخمی ہوگئے۔ اس درمیان، گزشتہ ایک ماہ میں ڈرون سرگرمیاں بڑھ جانے کے درمیان جموں کے سینئر پولیس سپرنٹنڈنٹ (ایس ایس پی) چندن کوہلی نے بتایا کہ آئندہ یوم آزادی سے قبل کسی بھی ناپاک منصوبے کو ناکام کرنے اور اس (یوم آزادی) تقریب کو پُرامن طریقے سے منعقد کرانے کے لئے سرحد پر سیکورٹی انتظامات کو سخت کردیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ ہتھیاروں اور نشیلی اشیا کی اسمگلنگ کے لئے سرحد پر ڈرون سرگرمیاں گزشتہ ایک ماہ میں بڑھ گئی ہیں، لیکن جب دو ایسے ڈرونوں کا استعمال 27 جون کو یہاں ہندوستانی فضائیہ کے اسٹیشن پر بم گرانے کے لئے کیا گیا تو ایک بڑی دیگر چیلنجز سامنے آگئے۔

      Published by:Nisar Ahmad
      First published: