ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں وکشمیر: 2019 میں مارے گئے 160 دہشت گرد، 102 کوکیا گیا گرفتار: ڈی جی پی

جموں وکشمیرکے پولیس جنرل ڈائریکٹر دلباغ سنگھ نےکہا '2018 میں اس طرح کے 218 (مقامی) نوجوان دہشت گردانہ تنظیموں میں شامل ہوئے تھے، لیکن 2019 میں صرف 139 شامل ہوئے ہیں'۔

  • Share this:
جموں وکشمیر: 2019 میں مارے گئے 160 دہشت گرد، 102 کوکیا گیا گرفتار: ڈی جی پی
ڈی جی پی نےکہاکہ گزشتہ سال کےمقابلے لاء اینڈ آرڈر سےمنسلک حادثات میں 36 فیصدکی کمی آئی ہے۔

جموں: جموں وکشمیرکےڈائریکٹرجنرل آف پولیس دلباغ سنگھ نےمنگل کوکہا ہےکہ اس  مرکزکے زیرانتظام ریاست میں 2019 میں 160 دہشت گرد مارے گئےاور102 کوگرفتار کیا گیا جبکہ دہشت گردانہ تنظیموں میں شامل ہونے والے مقامی نوجوانوں کی تعداد میں کمی آئی ہے۔ دلباغ سنگھ نےنامہ نگاروں سےکہا، '2018 میں اس طرح کے 218 (مقامی) نوجوان دہشت گردانہ تنظیموں میں شامل ہوئےتھے، لیکن 2019 میں صرف 139 شامل ہوئے۔ انہوں نےکہا کہ دہشت گردانہ حادثات میں 30 فیصد کی کمی آئی ہےاورگزشتہ سال کےمقابلےمیں لاء اینڈ آرڈرسےمنسلک حادثات میں 36 فیصد کی گراوٹ آئی ہے۔


ڈی جی پی نےکہا، 'اس سال اس طرح (لاء اینڈ آرڈر) کی صرف 481 حادثات ہوئی ہے جبکہ گزشتہ سال یہ تعداد 625 تھی'۔ اس سے پہلےطلباء، اسکالرشپ کے لئے درخواست دینے کے لئے، تاجروں اوردیگرکی سہولت کےلئے10 دسمبرکوموبائل فون پرایس ایم ایس خدمات شروع کی گئی تھی۔ کنسل نےکہا کہ 31 دسمبرکی نصف شب سے پورے کشمیرمیں خدمات پوری طرح بحال کرنےکا فیصلہ لیا گیا ہے۔


لاء اینڈ آرڈرکی صورتحال میں سدھار


انہوں نےکہا کہ ان نئے رنگ روٹوں میں بس 89 بچ گئے۔ پولیس سربراہ نےکہا، 'باقی کا صفایا کیا گیا کیونکہ دہشت گردی سے منسلک ہونےکےبعد ان کی زندگی محض 24 گھنٹے سےلےکردوماہ تک رہی۔ بمشکل ہی کچھ پرانےدہشت گرد بچے ہوئے ہیں، جن میں جہانگیر سروری اورریاض نائیکوشامل ہیں'۔ انہوں نےکہا کہ 2019 میں لاء اینڈ آرڈرسےمنسلک 481 حادثات ہوئےجبکہ 2018 میں 625 ایسے حادثات رونما ہوئے تھے۔

دلباغ سنگھ نےکہا، 'جموں وکشمیرمیں 250 دہشت گرد سرگرم ہیں۔ 2018 کے مقابلے میں اس سال سرگرم دہشت گردوں کی تعداد میں کمی آئی ہے'۔ انہوں نےکہا کہ اس سال 80 فیصد دہشت گردی مخالف مہم کامیاب رہی اوربیرون ملکیوں سمیت 160 دہشت گرد مارے گئے۔ انہوں نےکہا، 'جموں وکشمیرپولیس کے 11 جوان اوردیگرسیکورٹی اہلکاروں کے 72 جوان شہید ہوگئے'۔

دس دہشت گردوں نے کیا سرینڈر

دلباغ سنگھ  نےکہا کہ اس سال 102 دہشت گردوں کوگرفتارکیا گیا جبکہ 10 دہشت گردوں   نےسرینڈرکیا۔ انہوں نےکہا کہ دہشت گردی مخالف مہم میں دیگرلوگوں کی جان نہیں گئی کیونکہ لوگوں نے مکمل تعاون کیا۔ انہوں نےکہا 'اس سال (انسداد دہشت گردی کارروائیوں کے دوران) لاء اینڈآرڈرکی پریشانی نہیں آئی'۔

پولیس سربراہ نےکہا 'اس سال سرحدپارسےبڑی تعداد میں دراندازی کی کوشش اورجنگ بندی کی خلاف ورزی کےحادثات رونما ہوئے۔ لیکن سیکورٹی اہلکاروں نےان کوششوں کو کامیابی کےساتھ ناکام کردیا۔ 2019 میں 130 دراندازوں نےدراندازی کی جبکہ گزشتہ سال 143 نےایسا کیا تھا'۔ انٹرنیٹ خدمات بحال کرنےسےمتعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نےکہا، 'میں سمجھتا ہوں کہ جموں وکشمیر(لاء اینڈ آرڈرکےمحاذ پر) ایسی حالت کی طرف بڑھ رہا ہے۔ جلد ہی آپ کومثبت اعلان سننےکوملےگا'۔ انہوں نےکہا کہ کچھ لوگ انٹرنیٹ کا استعمال کرنےکی کوشش کریں گے۔ انہوں نےکہا 'ماضی میں ہم نےان کا نوٹس لیا تھا اور مستقبل میں بھی ہم ایسے لوگوں پرنظررکھیں گے'۔
First published: Dec 31, 2019 10:34 PM IST