உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں وکشمیر: Election Commission نے بلائی کل جماعتی میٹنگ، اس اہم امور پر ہوگا تبادلہ خیال

    جموں وکشمیر: الیکشن کمیشن نے بلائی کل جماعتی میٹنگ

    جموں وکشمیر: الیکشن کمیشن نے بلائی کل جماعتی میٹنگ

    Jammu Kashmir Election Commission: ووٹر لسٹ کے مسودے پر مہر لگانے سے پہلے جموں وکشمیر کے چیف الیکشن افسر (سی ای او) ہردیش کمار سبھی جماعتوں سے تبادلہ خیال کرنا چاہتے ہیں۔ یہ میٹنگ 5 ستمبر کو جموں کے نروان بھون میں ہوگی۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Jammu, India
    • Share this:
      جموں: چیف الیکشن کمشنر جموں وکشمیر نے پیر کی شام 4:00 بجے جموں میں کل جماعتی میٹنگ بلائی ہے۔ مرکز کے زیر انتظام ریاست میں اسمبلی انتخابات سے متعلق یہ میٹنگ اہم ہوگی۔ مانا جا رہا ہے کہ اس میٹنگ میں نئے ووٹر لسٹ سے متعلق غوروخوض ہوسکتا ہے۔ دراصل حال کے دنوں میں 25 لاکھ نئے رائے دہندگان سے متعلق افواہ پھیلائی جا رہی ہے۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ باہر کے لوگوں کو اس فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ اسی افواہوں پر چیف الیکشن کمشنر سبھی پارٹیوں سے بات کرسکتے ہیں۔

      ووٹر لسٹ کے مسودے پر مہر لگانے سے پہلے جموں وکشمیر کے چیف الیکشن افسر (سی ای او) ہردیش کمار سبھی جماعتوں سے تبادلہ خیال کرنا چاہتے ہیں۔ یہ میٹنگ 5 ستمبر کو جموں کے نروان بھون میں ہوگی۔ سی ای او دفتر کے ایک افسر کے مطابق اس میٹنگ کے لئے نیشنل کانفرنس، بی جے پی، کانگریس، پیپلز کانفرنس اور پیپلز ڈیمو کریٹک پارٹی سمیت سبھی اہم سیاسی جماعتوں کو پیر کے روز شام 4 بجے ہونے والی میٹنگ کے لئے سی ای او دفتر کے ذریعہ مدعو کیا گیا ہے۔

      تنازعہ پر صفائی!

      پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر وقار رسول وانی نے کہا کہ وہ میٹنگ میں حصہ لیں گے۔ بی جے پی کے جنرل سکریٹری (تنظیم) اشوک کول نے تصدیق کی کہ انہیں میٹنگ کے لئے مدعو کیا گیا ہے۔ یہ میٹنگ چیف الیکشن افسر کے اس تبصرہ پر چل رہے تنازعہ کے درمیان بلائی گئی ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ جموں کو ووٹرز کی خصوصی سمری ترمیم کے بعد باہر کے لوگوں سمیت اضافی 25-20 لاکھ ووٹر ملیں گے۔ ذرائع نے کہا کہ سی ای او اپنی پریس کانفرنس سے پیدا ہوئے خدشات اور شکوک وشبہات کو بھی دور کرسکتے ہیں۔

      الیکشن کمیشن کی صفائی

      سی ای او کی پریس کانفرنس کے بعد، جموں وکشمیر انتظامیہ نے رائے دہندگان کی فہرست کی ترمیم کے بعد 25 لاکھ رائے دہندگان کے ممکنہ جوڑ کی رپورٹ کو خارج کردیا تھا اور تنازعہ کو 'مفادات کی غلط بیانی' قرار دیا تھا۔ سی ای او کے بیان کو سیاسی عمل کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ فاروق عبداللہ نے اس موضوع پر ایک کل جماعتی میٹنگ کی صدارت کی تھی۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: