உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    J&K News: حتمی ووٹر لسٹ 31 اکتوبر کو ہوگی جاری، حدبندی کے بعد الیکشن کمیشن کررہا ہے تیار

    J&K News: حتمی ووٹر لسٹ 31 اکتوبر کو ہوگی جاری، حدبندی کے بعد الیکشن کمیشن کررہا ہے تیار ۔ علامتی تصویر ۔

    J&K News: حتمی ووٹر لسٹ 31 اکتوبر کو ہوگی جاری، حدبندی کے بعد الیکشن کمیشن کررہا ہے تیار ۔ علامتی تصویر ۔

    Jammu and Kashmir : جموں و کشمیر میں حد بندی کی کارروائی کے بعد ووٹر لسٹ پر نظرثانی کا عمل شروع کردیا گیا ہے اور ووٹر لسٹ کو 31 اکتوبر کو شائع کیا جائے گا ۔

    • Share this:
      نئی دہلی : الیکشن کمیشن جموں و کشمیر کی حتمی شکل دی گئی ووٹر لسٹ کو 31 اکتوبر کو جاری کرے گا ۔ دراصل جموں و کشمیر میں حد بندی کی کارروائی کے بعد ووٹر لسٹ پر نظرثانی کا عمل شروع کردیا گیا ہے اور ووٹر لسٹ کو 31 اکتوبر کو شائع کیا جائے گا ۔ اس سلسلہ میں چیف الیکشن کمشنر راجیو کمار اور الیکشن کمشنر انوپ چند پانڈے نے نطرثانی کا عمل شروع کیا اور جموں و کشمیر کے چیف الیکشن افسر کو اسمبلی حلقوں کی نئی حدوں کا نقشہ تیار کرنے کی ہدایت دی گئی تھی ۔

       

      یہ بھی پڑھئے: پہلے دن ہزاروں یاتریوں نے امرناتھ گپھا میں مقدس شیو لنگم کے کئے درشن


      یونین ٹیریٹری میں میں اسمبلی انتخابات سے پہلے ووٹر لسٹ پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے ۔ ووٹر لسٹ کو اپ ڈیٹ کرنے کیلئے افسران کی تقرری کی بھی ہدایت دی گئی ہے ۔ چونکہ جموں و کشمیر میں حدبندی کے عمل کے دوران کافی تبدیلیاں کی گئی ہیں، اس لئے ووٹر لسٹ، نئے ووٹنگ مراکز اور اسمبلی حلقوں کی نئی حدود پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے ۔ ایسا امکان ہے کہ جموں و کشمیر میں اس سال کے آخر تک یا اگلے سال فروری میں اسمبلی انتخابا کرائے جاسکتے ہیں ۔

       

      یہ بھی پڑھئے: دی بوائز نیکسٹ ڈور سے رہیں ہوشیار، کون ہے ہائبرڈ دہشت گرد؟


      بتادیں کہ 26 مہینے کی کارروائی کے بعد جموں و کشمیر میں اسمبلی اور لوک سبھا سیٹوں کی حدبندی کی گئی ہے ۔ جموں و کشمیر میں اسمبلی کی کل 90 سیٹیں ہیں اور پہلی مرتبہ نو سیٹیں درج فہرست قبائل کیلئے مختص کی گئی ہیں ۔

      اس کے علاوہ پہلی مرتبہ جموں و کشمیر کی سبھی پانچ لوک سبھا سیٹوں میں برابر ۔ برابر یعنی 18۔ 18 اسمبلی سیٹوں کو رکھا گیا ہے ۔ یعنی ایک لوک سبھا حلقہ کی حد میں 18 اسمبلی سیٹیں ہوں گی ۔ جموں خطہ میں 43 اور کشمیر خطہ میں 47 سیٹیں ہیں ۔ کسی بھی ایک اسمبلی حلقہ کی حد کو ایک سے زیادہ ضلع میں نہیں رکھا گیا ہے ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: