உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    شوپیاں انکاؤنٹر میں ایک دہشت گرد ہلاک، سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کو گھیرا، آپریشن جاری

    Youtube Video

    Jammu Kashmir Encounter: تازہ ترین معلومات کے مطابق ایک دہشت گرد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ فی الحال یہ دہشت گرد کون ہے اس کے بارے میں مزید معلومات موصول نہیں ہوئی ہیں۔ فی الحال آپریشن مسلسل جاری ہے۔.

    • Share this:
      جموں: جموں و کشمیر کے شوپیاں میں سکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان انکاؤنٹر (Jammu Kashmir Encounter)  میں ایک دہشت گرد مارا گیا ہے۔ جموں و کشمیر پولیس کے مطابق سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کو گھیر لیا ہے۔ تازہ ترین معلومات کے مطابق ایک دہشت گرد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ فی الحال یہ دہشت گرد کون ہے اس کے بارے میں مزید معلومات موصول نہیں ہوئی ہیں۔ فی الحال آپریشن مسلسل جاری ہے۔

      بتادیں کہ جمعرات کو سکیورٹی فورسز نے جموں و کشمیر کے ضلع راجوری میں سرچ آپریشن کے دوران تقریبا دو درجن کارتوس برآمد کیے۔ حکام کے مطابق بدھ کی شام بدھل تحصیل کے علاقے ترگین جالان میں سرچ آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز نے ایک چٹان کے نیچے چھپا ہوا پیکٹ برآمد کیا۔

      قابل ذکر ہے اسی ہفتے جموں و کشمیر کے اُری سیکٹر میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر دراندازی کے خلاف آپریشن کے دوران لشکر طیبہ کا ایک 19 سالہ پاکستانی دہشت گرد زندہ پکڑا گیا۔ آپریشن کے دوران ایک دہشت گرد ہلاک اور تین ہندستانی فوجی زخمی ہوئے۔ ایل او سی پر مشکوک سرگرمیوں کے بعد فوج نے 18 ستمبر کو آپریشن شروع کیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ انکاؤنٹر اس وقت ہوا جب دراندازوں جن کی تعداد چھ تھی کو چیلنج کیا گیا۔ ان میں سے چار باڑ کے دوسری طرف تھے جبکہ دو ہندوستانی علاقے طرف آ گئے تھے۔

      واضح ہوکہ شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ میں فوج کی جانب سے انجام دئے گیے اوڑی آپریشن (Uri Operation) کے دوران گرفتار کئے گیے پاکستانی دہشت گرد علی بابر ( Ali Babar) کو فوج نے میڈیا کے سامنے پیش کیا۔ اس دوران دہشت گرد علی بابر ( Ali Babar) نے یہ بات تسلیم کی کہ وہ پاکستان کا رہنے والا ہے اور پاکستان میں اسے دہشت گردی ( Pakistani terrorist) کی تربیت دی گئی تھی۔ اس کا کہنا ہے کہ خودسپردگی کے بعد ہندوستانی فوج نے اس کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا۔

      قابل ذکر ہے کہ فوج نے بارہمولہ ضلع کے اری سیکٹر میں دراندازی کی ایک کوشش کو ناکام بنا دیا۔ جس دوران ایک درانداز کو ہلاک کیاگیاجبکہ ایک اور پاکستانی درانداز نے فوج کے سامنے ہتھیار ڈال دئے۔ آپریشن کی تفصیلات دیتے ہوئے فوج کے انیس انفنٹری کے جنرل آفیسر کمانڈنگ میجر جنرل ورندر وتس نے کہاکہ پاکستانی دہشت گردوں نے اٹھارہ اور انیس ستمبر کی درمیانی رات کو اری سیکٹر میں لائن آف کنٹرول پر دراندازی کی کوشش کی اور اسے ہندوستانی فوج نے ناکام بنادیا۔ اندھیری رات، گھنے جنگلات اور خراب موسم کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان نے اری سیکٹر میں لائن آف کنٹرول پر اپنے ایک پوسٹ سے لشکر طیبہ کے چھ دہشت گردوں پر مشتمل گروہ کو اس پار دھکیلنے کی کوشش کی۔ دراندازی کی کوشش کے دوران جب دو دہشت گرد لائن آف کنٹرول عبور کرتے ہوئے دیکھے گئےتو ہندوستانی فوج کی گشتی پارٹی نے ان کا گھراؤکیا اور اس کے بعد ان کا آمنا سامنا ہوا۔ اس دوران چار دہشت گرد اندھیرے کا فائدہ اٹھاکر ایل او سی کے اس پار واپس بھاگ گئے جبکہ دیگردو دہشت گرد کنٹرول لائن کے اس پار داخل ہونے میں کامیاب ہوئے۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: