உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں وکشمیر انکاونٹر: پوچھ گچھ کے لئے ماں بیٹے سمیت حراست میں لئے گئے تین لوگ، 7ویں دن بھی تلاشی مہم جاری

    جموں وکشمیر انکاونٹر: پوچھ گچھ کے لئے ماں بیٹے سمیت حراست میں لئے گئے تین لوگ، 7ویں دن بھی تلاشی مہم جاری

    جموں وکشمیر انکاونٹر: پوچھ گچھ کے لئے ماں بیٹے سمیت حراست میں لئے گئے تین لوگ، 7ویں دن بھی تلاشی مہم جاری

    جموں وکشمیر کے سرحدی علاقے پونچھ اور راجوری ضلع کے جنگلی علاقے میں چل رہی تلاشی مہم کے دوران ماں بیٹے سمیت تین لوگوں کو پوچھ گچھ کے لئے حراست میں لیا گیا ہے۔ ان اضلاع میں گزشتہ ہفتے سے لے کر اب تک دہشت گردوں کے ساتھ دو الگ الگ تصادم میں 9 فوجی مارے گئے ہیں۔

    • Share this:
      جموں: جموں وکشمیر کے سرحدی علاقے پونچھ اور راجوری ضلع کے جنگلی علاقے میں چل رہی تلاشی مہم کے دوران ماں بیٹے سمیت تین لوگوں کو پوچھ گچھ کے لئے حراست میں لیا گیا ہے۔ ان اضلاع میں گزشتہ ہفتے سے لے کر اب تک دہشت گردوں کے ساتھ دو الگ الگ تصادم میں 9 فوجی مارے گئے ہیں۔ دونوں اضلاع کے جنگلی علاقے میں سیکورٹی اہلکاروں کی تلاشی مہم ساتویں دن بھی جاری ہے۔

      پیر کو ایک جونیئر کمیشنڈ افسر (جے سی او) سمیت فوج کے پانچ جوان اس وقت شہید ہوگئے جب دہشت گردوں نے پونچھ کے سورن کوٹ جنگل میں فوج کے ایک گشتی ٹیم پر حملہ کردیا تھا۔ جمعرات کی شام کو مینڈھیر سیکٹر میں ایک دیگر تصادم میں ایک دیگر جے سی او سمیت چار جوان شہید ہوگئے تھے۔

      افسران نے بتایا کہ 45 سالہ خاتون اور اس کے بیٹے کے ساتھ ایک شخص کو دہشت گردوں کو سازوسامان سے متعلق تعاون دینے کے خدشات پر پوچھ گچھ کے لئے حراست میں لیا گیا ہے۔ یہ سبھی بھٹہ دریاں جنگلی علاقے کے رہنے والے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ جانچ کی جانی ہے کہ کیا انہوں نے دہشت گردوں کو اپنی خواہش سے کھانا کھانے اور رہنے کی جگہ دی یا بندوق کے خوف سے۔

      افسران نے بتایا کہ یہ علاقہ پہاڑی ہے اور جنگل گھنا ہے، جس سے مہم مشکل اور خطرناک ہوگئی ہے۔ ابھی تک علاقے میں چھپے دہشت گردوں سے تین بار سامنا ہوا ہے۔ پہلی بار پونچھ کے سورن کوٹ میں 11 اکتوبر کو اور اس کے بعد اسی دن راجوری ضلع میں تھانہ منڈی جنگل میں سیکورٹی اہلکاروں اور دہشت گردوں کے درمیان تصادم ہوا، لیکن دونوں ہی تصادم میں دہشت گرد فرار ہوگئے۔ تیسرا تصادم جمعرات کی شام کو پونچھ کے مینڈھر علاقے میں نرخاص جنگل میں ہوا۔ راجوری - پونچھ رینج کے پولیس ڈپٹی انسپکٹر جنرل وویک گپتا نے ہفتہ کے روز بتایا،  ’پونچھ اور راجوری کو جوڑنے والے جنگلی علاقے میں دہشت گردوں کی موجودگی ڈھائی ماہ پہلے دیکھی گئی تھی اور ان کا پتہ لگانے کے لئے اسٹریٹجک مہم چلائی گئی، لیکن علاقے کے جغرافیائی محل وقوع کو دیکھتے ہوئے کئی بار وقت لگتا ہے۔ خفیہ اطلاع کی بنیاد پر اس ہفتے تین بار دہشت گردوں کے ساتھ تصادم ہوا‘۔ انہوں نے بتایا کہ دہشت گرد چھپے ہوئے ہیں اور مشترکہ ٹیم اس مہم کو ایک منطقی انجام تک لے جانے میں مصروف ہیں۔

      افسران نے بتایا کہ مینڈھر سے تھانہ منڈی تک کے پورے جنگلی علاقے کی سخت گھیرا بندی کردی گئی ہے اور دہشت گردوں کا پتہ لگانے کے لئے بڑے پیمانے پر تلاشی مہم چلائی گئی ہے۔ دہشت گرد گھیرا بندی سے بچنے کی کوشش میں ایک جگہ سے دوسری جگہ جارہے ہیں۔ فوج نے پیرا کمانڈو کو تعینات کیا ہے اور ہفتہ کے روز نگرانی کے لئے جنگلی علاقے پر ایک ہیلی کاپٹر کو بھی چکر کاٹتے ہوئے دیکھا گیا۔

      افسران نے بتایا کہ تلاشی مہم کے سبب جموں - راجوری شاہراہ پر مینڈھر اور تھانہ منڈی کے درمیان نقل وحمل اتوار کے روز تیسرے دن بھی معطل رہی۔ جموں علاقے کے راجوری اور پونچھ علاقوں میں اس سال جون کے بعد سے دراندازی کی کوششیں بڑھ گئی ہیں۔ الگ الگ تصادم میں 9 دہشت گرد مارے جاچکے ہیں۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: