ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

کشمیر: دو بہنوں کی عصمت ریزی کے الزام میں فرضی پیر گرفتار،کافی وقت سے دونوں بہنوں کے علاج کے بہانے کرتا رہا ان کا جنسی استحصال

دونوں بہنوں نے پولیس کے سامنے دردناک کہانی بیان کرتے ہوئے اپنی آپ بیتی سنائی۔ بہنوں کے مطابق، فرضی پیر علاج کے نام پر ان کا جنسی استحصال کر رہا تھا اور اس دوران اس کی ہوس اس قدر بڑھ گئی کہ اس نے دونوں بہنوں کو اپنی حیوانیت کا نشانہ بناکر ان کی عزت کو نیلام کر دیا۔

  • Share this:
کشمیر: دو بہنوں کی عصمت ریزی کے الزام میں فرضی پیر گرفتار،کافی وقت سے دونوں بہنوں کے علاج کے بہانے کرتا رہا ان کا جنسی استحصال
علامتی تصویر

اننت ناگ۔ جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے اکنگام اچھہ بل علاقے سے پولیس نے ایک فرضی پیر کو دو بہنوں کی عصمت ریزی کے الزام میں گرفتار کر کے سلاخوں کے پیچھے کر دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق دونوں بہنوں کے والد نے اچھہ بل پولیس تھانے میں اپنی دو بیٹیوں کی عصمت دری اور انہیں دھوکہ دینے کی پاداش میں ایک تحریری شکایت درج کرائی جس کے بعد پولیس نے اکنگام کے رہنے والے اشرف میر کے خلاف ایف آئی آر درج کر کے فوری کاروائی کے تحت اسے گرفتار کر لیا۔ پولیس کے مطابق دونوں بہنیں اور ان کے گھر والے گزشتہ کافی عرصے سے اشرف میر کے پاس بطور مرید حاضری دیتے تھے اور ان کا اس کے ساتھ گہرا تعلق رہا ہے۔


تاہم اس دوران کچھ روز قبل دونوں بہنوں نے اپنے والدین کے سامنے فرضی پیر کی کرتوت رکھی جس کے بعد دونوں بہنوں کے والد کی شکایت پر فرضی پیر کو گرفتار کر لیا گیا۔ دونوں بہنوں نے پولیس کے سامنے دردناک کہانی بیان کرتے ہوئے اپنی آپ بیتی سنائی۔ بہنوں کے مطابق، فرضی پیر علاج کے نام پر ان کا جنسی استحصال کر رہا تھا اور اس دوران اس کی ہوس اس قدر بڑھ گئی کہ اس نے دونوں بہنوں کو اپنی حیوانیت کا نشانہ بناکر ان کی عزت کو نیلام کر دیا۔ پولیس نے تمام الزامات کی پاداش میں ایس ایچ او اچھہ بل کی قیادت میں ایک تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی ہے اور ان الزامات کی جانچ میں جٹ گئی ہے۔


پولیس نے اس سلسلے میں مزید تفصیلات فراہم کرنے سے گریز کیا ہے۔ تاہم ان الزامات نے پھر ایک بار سماج میں انسانی قدروں کی گراوٹ کو موضوع بحث بنا دیا ہے۔ لوگوں کے مطابق، مذہب اور پیر پرستی کے نام پر ایسے افراد کو سخت ترین سزا دی جانی چاہیے تاکہ انسانوں کے بھیس میں چھپے ان حیوان بھیڑیوں کو سماج سے نکال باہر پھینکا جائے۔ جبکہ سماج کے ذمہ داران اور مذہبی رہنماؤں کو بھی اس طرح کے واقعات پر روک لگانے کے لئے اپنا کلیدی رول ادا کرنے کی تلقین کی جا رہی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے فاسٹ ٹریک بنیادوں پر عدالتوں میں مقدمات چلائے جانے چاہئیں تاکہ ایسے حیوانوں کی سزا دوسروں کے لیے ایک عبرت بن سکے۔

Published by: Nadeem Ahmad
First published: Aug 31, 2020 10:49 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading