உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    'طالبان دہشت گرد ہیں یا نہیں' ، افغانستان ۔ ہندوستان گفتگو پر عمر عبد اللہ نے کیا طنز

    'طالبان دہشت گرد ہیں یا نہیں' ، افغانستان ۔ ہندوستان گفتگو پر عمر عبد اللہ نے کیا طنز

    'طالبان دہشت گرد ہیں یا نہیں' ، افغانستان ۔ ہندوستان گفتگو پر عمر عبد اللہ نے کیا طنز

    عمر عبد اللہ نے کہا کہ یا تو طالبان ایک دہشت گرد تنظیم ہے یا نہیں ، برائے کرم ہمیں واضح کریں کہ آپ انہیں کیسے دیکھتے ہیں ۔ اگر وہ ایک دہشت گرد گروپ ہے تو آپ ان سے بات چیت کیوں کررہے ہیں ؟۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:


      سری نگر : جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلی عمر عبد اللہ نے ہندوستان پر افغانستان کے نئے حکمران طالبان کے ساتھ بات چیت کرنے پر مرکزی حکومت پر طنز کسا ہے ۔ عمر عبد اللہ نے پڑوس میں نئی حکومت کے تئیں مرکزی حکومت کے موقف پر وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا کہ طالبان کو دہشت گرد کے طور پر دیکھا جائے یا نہیں ۔ نیشنل کانفرنس کے لیڈر نے مبینہ طور پر وزیر اعظم نریندر مودی کی سرکار سے اس معاملہ پر اپنا موقف واضح کرنے کیلئے کہا ہے ۔

      نیوز ایجنسی اے این آئی کے مطابق عمر عبد اللہ نے کہا کہ یا تو طالبان ایک دہشت گرد تنظیم ہے یا نہیں ، برائے کرم ہمیں واضح کریں کہ آپ انہیں کیسے دیکھتے ہیں ۔ اگر وہ ایک دہشت گرد تنظیم ہے تو آپ ان سے بات کیوں کررہے ہیں ؟ اگر نہیں تو کیا آپ اقوام متحدہ میں چلے جائیں گے اور انہیں ایک دہشت گرد تنظیم کے طور پر ہٹا دیا جائے گا ؟

      بتادیں کہ قطر میں ہندوستان کے سفیر دیپک متل نے دوحہ میں ہندوستانی سفارت خانہ میں طالبان کے اہم سفارت کار شیر محمد عباس استانکزئی سے ملاقات کی تھی ۔ ایک طرف ہندوستان طالبان کے ساتھ بات چیت کررہا ہے تو دوسری طرف طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سیکورٹی سے وابستہ چیلنجز پر نظر رکھنے کیلئے وزیر اعظم نریندر مودی نے وزیر خارجہ ایس جے شنکر اور قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال کو ملا کر ایک اعلی سطحی کمیٹی تشکیل دی ہے ۔

      ہندوستان کی صدارت میں ہوئی اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی پیر دیر رات میٹنگ کے ذریعہ بھی عالمی برادری نے صاف اشارہ دیدیا ہے کہ افغانستان کو دہشت گردی کا اڈہ نہیں بننے دیا جائے گا ۔

      طالبان نے ہندوستان کو کرائی یہ یقین دہانی

      طالبان کے نمائندہ نے ہندوستان کا بھروسہ دلایا ہے کہ وہ ان سبھی معاملات کو دیکھیں گے اور یقینی بنائیں گے کہ ایسا نہیں ہو ۔ وزارت خارجہ نے جس طرح سے طالبان کے لیڈر کے ساتھ ہندوستانی سفیر کی ملاقات پر آفیشیل بیان جاری کیا ہے ۔ اس سے صاف ہے کہ اب ہندوستان کابل کے اقتدار پر طالبان کے قابض ہونے کے بعد زیادہ عملی نقطہ نظر کے ساتھ آگے بڑھے گا ۔

      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: