உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    دہشت گردوں کی مدد کے الزام میں جموں۔کشمیر میں 6 سرکاری ملازمین کو نوکری سے کیا گیا برخاست

    جموں وکشمیر

    جموں وکشمیر

    حمید وانی پر الزام ہے کہ وہ ملازمت میں شامل ہونے سے پہلے دہشت گرد تنظیم اللہ ٹائیگر کے ضلعی کمانڈر کے طور پر کام کر رہا تھے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      سری نگر: جموں و کشمیر حکومت نے 6 سرکاری ملازمین کو برخاست کر دیا ہے جن کا دہشت گردوں سے تعلق تھا اور اوور گراؤنڈ ورکرز(OGW) کے طور پر کام کرتے تھے۔ وادی کشمیر کے اننت ناگ کے ایک استاد حمید وانی ان 6 سرکاری ملازمین میں شامل ہیں جنہیں نوکری سے نکالا گیا ہے۔ حمید وانی پر الزام ہے کہ وہ ملازمت میں شامل ہونے سے پہلے دہشت گرد تنظیم اللہ ٹائیگر کے ضلعی کمانڈر کے طور پر کام کر رہا تھے۔
      حمید وانی کو یہ سرکاری نوکری جماعت اسلامی کی مدد سے ملی تھی۔ حمید وانی پر 2016 میں برہان وانی کے ا نکاؤنٹر کے بعد کشمیر میں ملک مخالف سرگرمیوں کے لیے چلائے جانے والے پروگراموں کے اہم مقررین میں سے ایک ہونے کا الزام بھی ہے۔
      اس کے ساتھ ہی جموں کے ضلع کشتواڑ کے ظفر حسین بھٹ کو بھی سرکاری نوجکری سے نکالنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی کشتواڑ کے رہائشی اور روڈ اینڈ بلڈنگ ڈیپارٹمنٹ میں جونیئر اسسٹنٹ کے عہدے پر تعینات محمد رفیع کو بھی برطرف کردیا گیا ہے۔ محمد رفیع پر الزام ہے کہ انہوں نے ضلع کشتواڑ میں حزب المجاہدین کے دہشت گردوں کو ان کے دہشت گردانہ منصوبے انجام  تک پہنچانے کے لیے جگہ دیتا تھا۔ این آئی اے پہلے ہی اس پر چارج شیٹ داخل کر کے اسے گرفتاری بھی کر چکی ہے۔

      بتادیں کہ ریاستی حکومت نے قومی سلامتی کے لیے کئی اہم اقدامات کیے ہیں۔ اس ضمن میں کچھ عرصہ قبل جموں و کشمیر حکومت نے ایک حکم بھی جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ سرکاری ملازمین ملک دشمنوں کی حمایت کرنے پر اپنی ملازمتیں کھو دیں گے۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: