ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں کشمیر: گزشتہ 2 برس اور 7 ماہ  کےدوران 8571مرتبہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہوئی

دفاعی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ جموں وکشمیر میں ملیٹنٹوں کے حوصلے پست ہیں اور ان کا حوصلہ بڑھانے کے لئے پاکستان ہر ممکن مدد کرنے کی کوشش کررہا ہے۔

  • Share this:
جموں کشمیر: گزشتہ 2 برس اور 7 ماہ  کےدوران 8571مرتبہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہوئی
جموں کشمیر: گزشتہ 2 برس اور 7 ماہ  کےدوران 8571مرتبہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہوئی

جموں۔ پاکستان کی جانب سے ہر روز  بین الاقوامی سرحد پر لگاتار جنگ بندی  معاہدے کی خلاف کی جارہی ہے۔ پونچھ ،راجوری ،کپواڑہ،،کھٹوہ ،سانبہ اور اکھنور کے سرحدی علاقوں میں خاص طور پر پاکستان بلا اشتعال گولہ باری کررہا ہے۔گزشتہ ڈھائی برس میں پاکستان کی ان ناپاک حرکتوں میں کافی اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ آرٹی آئی کارکن رمن شرما نے نیوز 18 اردو کو بتایاکہ انہوں نے جو آرٹی آئی کیا ہے اس سے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی پوری تفصیل سامنے آئی ہے۔آرٹی آئی کی حاصل شدہ اس جانکاری کے مطابق گزشتہ دو برس اور سات ماہ  کےد وران آٹھ ہزار پانچ سو اکہتر مرتبہ سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔


اس دوران چھپن سیکورٹی اہلکاروں سمیت 119افرادکی موت ہوئی ہے ۔تین سیکورٹی اہلکاروں سمیت 608افراد زخمی ہوئے ہیں ۔رواں برس کے پہلے سات ماہ کے دوران ہی 2952مرتبہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہوئی ہے ۔اس دوران 15 شہریوں اور 8 سیکورٹی اہلکاروں کی موت ہوئی ہے۔ آرٹی آئی سے ملی جانکاری سے پتہ چلا کہ گزشتہ تین برس کے دوران سرحدی علاقوں کے لوگوں کو جان ومال کا کافی نقصان ہوا ہے۔ اس دوران روزانہ اوسطاً نو مرتبہ فائر بندی کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ 2018میں 2140مرتبہ خلاف وزری کی گئی اس دوران تیس شہریوں سمیت 59 افراد کی موت ہوئی ۔2019میں 3479مرتبہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہوئی ہے ۔اس دوران 19سیکورٹی اہلکاروں سمیت37افراد کی موت ہوگئی ہے۔


دفاعی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ جموں وکشمیر میں  ملیٹنٹوں کے حوصلے پست ہیں اور ان کا حوصلہ بڑھانے کے لئے پاکستان ہر ممکن مدد کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ہند۔ چین سرحدی تنازعہ کے بیچ آئی ایس آئی نے تربیت یافتہ ملیٹنٹوں کو جموں و کشمیر میں داخل ہونے کی ہدایت دی ہے۔ دفاعی ماہرین کاکہنا ہے کہ چین پاکستان کو اپنے مفادات کے لئے استعمال کرتا ہے۔ وزارت داخلہ کے جواب کے مطابق جموں کشمیر میں 2019میں پاکستان کی اشتعال انگیزی میں پچاس فیصد اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان اور اس کے تربیت یافتہ ملیٹنٹوں کے ناپاک عزائم کو ناکام بنانے کے لئے فو ج چوکس ہے۔


دفاعی امور کے ماہر کیپٹن انل گورو نے نیوز 18 اردو کو بتایا کہ پاکستان اب تربیت یافتہ اور خاص طور پر افغان تربیت یافتہ ملٹینٹوں کو یہاں بھیجنے کی فراق میں ہے۔ اسی لئے لائن آف کنٹرول پر مختلف جگہوں پر جنگ بندی کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ ایک طرف پاکستان کی معشیت کافی منفی چلی گئی ہے۔ اس کے باوجود یہ دہشت گردی کے پھیلاو میں لگا ہوا ہے۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Sep 09, 2020 10:15 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading