உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں وکشمیر میں نشانے پر ہیں 10 دہشت گرد، کل 225 ہیں سرگرم، پولیس نے جاری کی ہٹ لسٹ

    Jammu Kashmir: جموں وکشمیر پولیس کی نئی ہٹ لسٹ میں مبینہ دہشت گرد سلیم پرے، عباس شیخ، یوسف کانترو، ریاض شتیر گنڈ، فاروق نلی، زبیر وانی اور اشرف مولی شامل ہیں۔

    Jammu Kashmir: جموں وکشمیر پولیس کی نئی ہٹ لسٹ میں مبینہ دہشت گرد سلیم پرے، عباس شیخ، یوسف کانترو، ریاض شتیر گنڈ، فاروق نلی، زبیر وانی اور اشرف مولی شامل ہیں۔

    Jammu Kashmir: جموں وکشمیر پولیس کی نئی ہٹ لسٹ میں مبینہ دہشت گرد سلیم پرے، عباس شیخ، یوسف کانترو، ریاض شتیر گنڈ، فاروق نلی، زبیر وانی اور اشرف مولی شامل ہیں۔

    • Share this:
      سری نگر: جموں وکشمیر (Jammu Kashmir) کے پلوامہ (Pulwama) میں سال 2019 میں سی آرپی ایف (CRPF) کے قافلے پر ہوئے دہشت گردانہ حملے میں شامل جیش محمد کے دو اعلیٰ دہشت گردوں کو ہفتہ کے روز جنوبی کشمیر کے پلوامہ ضلع میں ہی سیکورٹی اہلکاروں نے تصادم میں مار گرایا ہے۔ اس کے ساتھ ہی جموں وکشمیر پولیس نے 10 دہشت گردوں (Terrorist) کی ہٹ لسٹ جاری کی ہے۔ اس میں تین نام نئے ہیں۔ پولیس وادی میں سیکورٹی اہلکاروں کے ساتھ مل کر دہشت گردوں پر گرفت مضبوط کرنے کا کام کر رہی ہے۔ آئی جی وجے کمار نے پیر کے روز ٹوئٹر پر دہشت گردوں کی یہ فہرست جاری کی ہے۔

      جموں وکشمیر پولیس کی نئی ہٹ لسٹ میں مبینہ دہشت گرد سلیم پرے، عباس شیخ، یوسف کانترو، ریاض شتیر گنڈ، فاروق نلی، زبیر وانی اور اشرف مولی شامل ہیں۔ جبکہ نئے دہشت گردوں میں ثاقب منظور، عمر مشتاق کھانڈے اور وکیل شاہ کا نام شامل ہے۔ آئی جی وجے کمار کے مطابق، اب یہ سبھی دہشت گرد ہٹ لسٹ میں شامل ہیں۔ انہیں جلد ہی تلاش کرکے ہلاک کیا جائے گا۔

      بتایا گیا ہے کہ وادی میں اب تک اس سال 89 دہشت گردوں کو مار گرایا گیا ہے۔ ان میں سے 7 غیر ملکی دہشت گرد تھے۔ اب موجودہ وقت میں کشمیر وادی میں تقریباً 200 سے 225 دہشت گرد سرگرم ہیں۔ یہ تعداد گزشتہ سالوں کے مقابلے کم ہوئی ہے۔ سال 2019 میں وادی میں تقریباً 400 دہشت گرد سرگرم تھے۔ سال 2020 میں یہ تعداد 300 رہ گئی تھی۔

      دہشت گرد شاکر الطاف بھٹ کے حال ہی میں مارے جانے اور اس کے بعد جانچ میں سامنے آئے حقائق نے جموں وکشمیر میں سیکورٹی ایجنسیوں کے لئے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔
      دہشت گرد شاکر الطاف بھٹ کے حال ہی میں مارے جانے اور اس کے بعد جانچ میں سامنے آئے حقائق نے جموں وکشمیر میں سیکورٹی ایجنسیوں کے لئے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔


      وہیں دہشت گرد شاکر الطاف بھٹ کے حال ہی میں مارے جانے اور اس کے بعد جانچ میں سامنے آئے حقائق نے جموں وکشمیر میں سیکورٹی ایجنسیوں کے لئے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ جانچ میں پتہ چلا ہے کہ شاکر الطاف بھٹ سال 2018 میں قانونی پاسپورٹ کے ذریعہ پڑھائی کے لئے پاکستان گیا تھا اور وہاں سے دہشت گرد بن کر لوٹا۔

      افسران نے کہا کہ سیکورٹی ایجنسیوں نے سال 2015 اور سال 2019 کے درمیان جاری کئے گئے پاسپورٹ کی تحقیق کی تو پتہ چلا کہ جو 40 نوجوان پڑھائی کے لئے بنگلہ دیش یا پاکستان گئے تھے، ان میں سے 28 نے تربیت یافتہ دہشت گرد کے طور پر ملک میں واپس دراندازی کی تھی۔ اس کے علاوہ 100 سے زیادہ کشمیری نوجوانوں نے کم مدت کے لئے قانونی ویزا پر پاکستان کا سفر کیا اور یا تو واپس نہیں آئے یا گزشتہ تین سالوں میں اپنی واپسی کے بعد غائب ہوگئے۔ سیکورٹی ایجنسیوں کو خدشہ ہے کہ یہ سرحد پار سے سرگرم دہشت گرد گروپوں کے سلیپر سیل ہوسکتے ہیں۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: