உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کشمیر سے متعلق فوجی افسر نے کہا- کیا آپ پاکستان جیسا معاشرہ بنانا چاہتے ہیں؟

    کشمیر سے متعلق فوجی افسر نے کہا- کیا آپ پاکستان جیسا معاشرہ بنانا چاہتے ہیں؟

    کشمیر سے متعلق فوجی افسر نے کہا- کیا آپ پاکستان جیسا معاشرہ بنانا چاہتے ہیں؟

    اجپوتانہ رائفلس کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل کے جے ایس ڈھلن (KJS Dhillon) نے کہا ہے کہ لوگ بیرون ممالک جاتے ہیں تو ایئر پورٹ سخت چیکنگ ہوتی ہے۔ مغربی ممالک میں کسی کو ’پاکی‘ یعنی پاکستانی کہنا گالی ہے۔ کیا آپ بھی ایسا ہی معاشرہ بنانا چاہتے ہیں؟ کیا آپ چاہتے ہیں کہ جب کوئی آپ کو کشمیری کہے تو یہ برا لگے؟

    • Share this:
      نئی دہلی: جموں وکشمیر (Jammu-Kashmir) میں حال کے دنوں میں عام شہریوں کے قتل (Civilians Target Killings) کا دور تیز ہوگیا ہے۔ سیکورٹی اہلکاروں نے بھی دہشت گردوں کی کمر توڑنے کے لئے کارروائی تیز کردی ہے۔ اس درمیان راجپوتانہ رائفلس کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل کے جے ایس ڈھلن (KJS Dhillon) نے کہا ہے کہ لوگ بیرون ممالک جاتے ہیں تو ایئر پورٹ سخت چیکنگ ہوتی ہے۔ مغربی ممالک میں کسی کو ’پاکی‘ یعنی پاکستانی کہنا گالی ہے۔ کیا آپ بھی ایسا ہی معاشرہ بنانا چاہتے ہیں؟ کیا آپ چاہتے ہیں کہ جب کوئی آپ کو کشمیری کہے تو یہ برا لگے؟

      کے جی ایس ڈھلن نے کہا ہے کہ کشمیر میں سب سے بڑی شکست وہاں کی ان ماوں کی ہے، جن کے بچے مدرسوں میں دھکیلے جا رہے ہیں۔ ایک پروگرام کے دوران انہوں نے کہا ہے کہ کشمیر میں کون ہار رہا ہے؟ ہماری کشمیری مائیں، جن کے بچے مدرسوں میں دھکیلے جا رہے ہیں۔ پھر ان بچوں کی موت ہوتی ہے، چاہے ایک دن یا ایک سال میں۔ 90 کی دہائی کے بعد جو سسٹم سامنے آیا، اس میں اس ماں کے بچے کو اچھی تعلیم نہیں مل پا رہی ہے بلکہ اس کی موت انکاونٹر میں ہوتی ہے۔ انہوں نے حالیہ ٹارگیٹ کلنگ پر کہا ہے کہ اس وقت کشمیر میں اکثریت خاموش کیوں ہے؟ جب کسی دہشت گرد کو مارا جاتا ہے تو ہنگامہ کیوں مچتا ہے؟

      ٹارگیٹ کلنگ کے خلاف نئی پالیسی

      کشمیر میں ٹارگیٹ کلنگ سے متعلق آئی بی، این آئی اے اور سیکورٹی اہلکاروں کی بنائی گئی ٹیم نے خاص حکمت عملی تیار کی ہے۔ اس کے تحت انٹلی جنس کلیکشن اور جدید ہتھیاروں سے لیس ہونے کے سیکورٹی اہلکاروں کو خاص احکامات دیئے گئے ہیں۔ اطلاع کے مطابق، ہر ایک دہشت گرد اور اس کے سبھی ممکنہ معاونین کی مین ٹو مین مارکنگ ہو رہی ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: