உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں وکشمیر میں دہشت گردوں کو منہ توڑ جواب دے گی ہندوستانی فوج، ایل جی نے کہا- لیں گے ہر موت کا بدلہ

    لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا- ہر موت کا بدلہ لیں گے

    لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا- ہر موت کا بدلہ لیں گے

    Jammu Kashmir Latest News: لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جموں وکشمیر کے لوگوں کو یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت نے خفیہ ایجنسیوں اور سیکورٹی اہلکاروں کی مدد سے صورتحال سے نمٹنے کے لئے حکمت عملی تیار کی ہے، جس پر جلد ہی کارروائی کی جائے گی۔

    • Share this:
      سری نگر: جموں وکشمیر میں دہشت گردوں کے ذریعہ کئے جارہے عام شہریوں کے قتل عام کی لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ منوج سنہا نے کہا کہ وادی میں ہوئی معصوموں کی موت کا بدلہ دہشت گردانہ نظام کو تباہ کرکے لیا جائے گا۔ جموں وکشمیر کے لوگوں کو یقین دہانی کراتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نے خفیہ ایجنسیوں اور سیکورٹی اہلکاروں کی مدد سے صورتحال سے نمٹنے کے لئے حکمت عملی تیار کی ہے، جس پر جلد ہی کارروائی کی جائے گی۔

      سی این این- نیوز 18 کے ساتھ بات چیت میں لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا، ’میں ان بدقسمت ہلاکتوں کی ذمہ داری لیتا ہوں۔ وادی میں اس طرح کا قتل نہ ہوسکے اس کے لئے ہم نے منصوبہ بندی کی ہے اور جلد ہی اسے زمینی سطح پر نافذ کیا جائے گا‘۔ انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر میں خوف کا ماحول بنانے کے لئے ٹارگٹ کلنگ کے حادثات کو انجام دیا گیا۔ منوج سنہا نے کہا، گزشتہ دو سالوں میں جموں وکشمیر میں سیاحت، خوشحالی اور ترقی میں تیزی آئی ہے، جو لوگ اسے برداشت نہیں کر پارہے ہیں، انہوں نے امن وامان کو ختم کرنے لئے اس طرح کے حادثات کو انجام دیا ہے۔ جو بھی لوگ وادی میں مارے گئے ہیں، ان کی موت کا بدلہ لیا جائے گا۔ دہشت گردی کا یہ سسٹم اور نظام تباہ ہوجائے گا۔


      منوج سنہا نے کہا، ’یہ ایک حقیقت ہے کہ اب کشمیر میں کوئی پتھراو نہیں ہو رہا ہے۔ سیاحت میں اضافہ ہوا ہے، پورے ملک کے لوگ یہاں آنے میں محفوظ محسوس کرتے ہیں۔ جموں میں جہاں تک لا اینڈ آرڈر کا سوال ہے، کشمیر بہت اچھا کر رہا ہے۔ جیسا کہ میں نے پہلے کہا، میں ان بدقسمت قتل کی ذمہ داری لیتا ہوں۔ یہ یقینی بنانے کے لئے کہ ایسے قتل دوبارہ نہ ہوں۔

      وادی میں ہوئے حملوں کی مذمت پورے ملک میں ہونی چاہئے

      لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے وادی میں ہوئے گزشتہ دنوں ہوئے قتل کا ذکر کرتے ہوئے کہا، ’یہ بھی سچ ہے کہ کچھ لوگ حالات کا غلط فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ ایک خاتون جو بچوں کو پڑھاتی ہے اور ایک یتیم کو پالتی ہے، ایک فارمسسٹ جو رات میں بھی اپنی دوکان کھولتا ہے تاکہ لوگوں کو دوا مل سکے، ایک غریب سڑک پر دوکان لگانے والا جو اپنی روز مرہ کمائی کے لئے دور سے آتا ہے، انہیں انتظامی ناکامی کہنے کے بجائے اس پر بحث کی جانی چاہئے۔ ملک میں سبھی کو ان حملوں کی مذمت کرنی چاہئے۔ آپ سے اور اس ملک کے لوگوں سے میری دردمندانہ اپیل ہے کہ جو لوگ جان بوجھ کر ان موضوعات کو پٹری سے اتار رہے ہیں، ان کے جھانسے میں نہ آئیں‘۔

      خاص بات چیت کے دوران منوج سنہا نے کہا، ہم قومی ٹیلی ویژن پر سیکورٹی تیاریوں سے متعلق بحث نہیں کرسکتے ہیں۔ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ خفیہ ایجنسیوں کے ساتھ ہمارے سیکورٹی اہلکاروں نے ایک مضبوط حکمت عملی تیار کی ہے۔ سیکورٹی اہلکاروں کو ہماری طرف سے پوری آزادی ہے کہ وہ جہاں چاہیں، کارروائی کرسکتے ہیں۔ کچھ لوگ ایسے بیان دے رہے ہیں، جو یہاں محفوظ صورتحال کو خراب کر رہے ہیں۔ انہوں نے بولنے سے پہلے سوچنا چاہئے۔ سیکورٹی اہلکار زور دے کر جوابی حملے کے لئے تیار ہیں۔

      انہوں نے یہ یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ جلد ہی حکومت کا وادی کی صورتحال پر مکمل کنٹرول ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ سچ ہے کہ معاشرے کے مختلف طبقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ جیسے سیاسی جماعتوں کے کارکنان، ہمارے مسلم بھائی، اقلیتی طبقے کے افراد کو۔ ہمیں قاتلوں کی ذہنیت کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: