உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں۔کشمیر: سکیورٹی فورسز کو ملی 24گھنٹے میں تیسری بڑی کامیابی، شوپیاں میں ڈھیر ہوئے لشکر طیبہ کے دو دہشت گرد

    Youtube Video

    Shopian Encounter: ترجمان نے کہا کہ ابتدائی تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ دونوں لشکر طیبہ کے کمانڈروں سے رابطے میں تھے اور دہشت گردوں کو اسلحہ اور گولہ بارود کی فراہمی اور انہیں ضلع کے مختلف علاقوں میں پناہ دینے سمیت لاجسٹک سپورٹ فراہم کرنے میں ملوث تھے۔

    • Share this:
      شوپیاں۔ جموں و کشمیر (Jammu and Kashmir) میں شوپیاں کے چوگام (Chowgam) علاقے میں سنیچر کو سکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان تصادم ہوا۔ اس دوران فوجیوں نے لشکر طیبہ کے دو دہشت گردوں کو مار گرایا ہے۔ کشمیر زون پولیس نے یہ اطلاع دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ موقع سے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد ہوا ہے۔ جمعہ کو بھی اننت ناگ میں سکیورٹی فورسز نے ایک دہشت گرد کو مار گرایا تھا۔

      سی آر پی ایف CRPF ذرائع کے مطابق مارے گئے دونوں دہشت گردوں کی شناخت ساجد احمد اور باسط نذیر کے طور پر کی گئی ہے۔ ہلاک ہونے والوں کے پاس سے دو اے کے 47، ایک پستول، ایک ہینڈ گرینیڈ بم بھی ملا ہے۔ ذرائع کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران تیسرا دہشت گرد مارا گیا ہے۔ کل اننت ناگ علاقے میں دہشت گرد تنظیم حزب المجاہدین کے ایک دہشت گرد کو گولی مار دی گئی تھی

      کشمیر کے آئی جی پی وجے کمار نے کہا، “شوپیاں کے چوگام علاقے میں سکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان انکاؤنٹر encounter میں لشکر طیبہ Laskhar e Taiba کے دو دہشت گرد مارے گئے ہیں۔ ایک دہشت گرد ہینڈ گرینیڈ بم حملہ کرنے اور شہریوں کو ہلاک کرنے میں بھی ملوث تھا۔ ایک اور دہشت گرد نے حال ہی میں شمولیت اختیار کی تھی۔۔

      ترجمان نے کہا کہ ابتدائی تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ دونوں لشکر طیبہ کے کمانڈروں سے رابطے میں تھے اور دہشت گردوں کو اسلحہ اور گولہ بارود کی فراہمی اور انہیں ضلع کے مختلف علاقوں میں پناہ دینے سمیت لاجسٹک سپورٹ فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے کہا کہ چاڈورہ پولس اسٹیشن میں کیس درج کیا گیا ہے اور مزید تحقیقات جاری ہے۔
      (بھاشا انپٹ کے ساتھ)

      قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں ۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: