ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

وسطی کشمیر کے بڈگام میں سلامتی دستوں کے ساتھ تصادم میں ایک دہشت گرد ہلاک

سرکاری ذرائع نے بتایا کہ چرار شریف میں دہشت گردوں کی موجودگی سے متعلق خفیہ اطلاع ملنے پر پولیس، فوج اور سی آر پی ایف نے مذکورہ علاقے میں گزشتہ شام کارڈن اینڈ سرچ آپریشن شروع کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مشتبہ جگہ کو محاصرے میں لینے کے دوران وہاں موجود دہشت گردوں نے سکیورٹی فورسز پر فائرنگ کی جس کے بعد طرفین کے درمیان باضابطہ طور پر مسلح تصادم چھڑ گیا۔

  • Share this:
وسطی کشمیر کے بڈگام میں سلامتی دستوں کے ساتھ تصادم میں ایک دہشت گرد ہلاک
فائل فوٹو

سری نگر۔  جموں وکشمیر کے وسطی ضلع بڈگام کے چرار شریف میں جاری مسلح تصادم میں اب تک ایک نامعلوم دہشت گرد مارا گیا ہے۔ کشمیر زون پولیس کے آفیشیل ٹویٹر ہینڈل پر ایک ٹویٹ میں کہا گیا کہ چرار شریف میں جاری تصادم میں ایک نامعلوم دہشت گرد مارا گیا ہے۔ اس میں مزید کہا گیا ہے کہ آپریشن جاری ہے۔ وہیں، سلامتی دستوں کے مطابق، علاقے میں دو دیگر دہشت گردوں کے چھپے ہونے کا اندیشہ ہے، اس لئے ابھی تلاشی مہم جاری ہے۔


ذرائع نے بتایا کہ تصادم کے دوران فوج کا ایک اہلکار زخمی ہوا ہے جنہیں علاج و معالجہ کے لئے سری نگر میں قائم فوجی ہسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ انتظامیہ نے مسلح تصادم کے پیش نظر پورے ضلع بڈگام میں موبائل انٹرنیٹ خدمات منقطع کر دی ہیں جس کی وجہ سے طلبہ اور پیشہ ور افراد کو کافی دقتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔



سرکاری ذرائع نے بتایا کہ چرار شریف میں دہشت گردوں کی موجودگی سے متعلق خفیہ اطلاع ملنے پر پولیس، فوج اور سی آر پی ایف نے مذکورہ علاقے میں گزشتہ شام کارڈن اینڈ سرچ آپریشن شروع کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مشتبہ جگہ کو محاصرے میں لینے کے دوران وہاں موجود دہشت گردوں نے سکیورٹی فورسز پر فائرنگ کی جس کے بعد طرفین کے درمیان باضابطہ طور پر مسلح تصادم چھڑ گیا۔

قبل ازیں، 19 ستمبر کو جموں و کشمیر پولیس نے ضلع راجوری میں جنوبی کشمیر سے تعلق رکھنے والے تین مشتبہ دہشت گردوں کو گرفتار کر کے ان کی تحویل سے اسلحہ و گولہ باردو برآمد کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ جموں پولیس زون کے انسپکٹر جنرل مکیش سنگھ نے یو این آئی کو بتایا تھا کہ پولیس اور سیکورٹی فورسز نے ضلع راجوری میں تین مسلح دہشت گردوں کو گرفتار کیا ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ یہ تینوں دہشت گرد لشکر طیبہ نامی دہشت گرد تنظیم سے وابستہ ہیں اور کشمیر سے راجوری آئے ہوئے تھے۔

یو این آئی، اردو کے ان پٹ کے ساتھ
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Sep 22, 2020 12:31 PM IST