ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں : جگتی مائیگرینٹ کیمپ میں کشمیری پنڈت کرافٹ ، کلچر اور فوڈ فیسٹول کا انعقاد

فیسٹول کے دوران جہاں جموں و کشمیر کے معروف فنکاروں دیپالی واتل ، شازیہ بشیر اور دیگر فنکاروں نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا تو وہیں اس فیسٹول کے دوران کئی اسٹال بھی قائم کئے گئے تھے ۔ ان اسٹالوں میں ان چیزوں کو رکھا گیا تھا جو کہ کشمیری پنڈتوں کے کلچر کا حصہ تھا ۔

  • Share this:
جموں : جگتی مائیگرینٹ کیمپ میں کشمیری پنڈت کرافٹ ، کلچر اور فوڈ فیسٹول کا انعقاد
جموں : جگتی مائیگرینٹ کیمپ میں کشمیری پنڈت کرافٹ ، کلچر اور فوڈ فیسٹول کا انعقاد

جموں کے جگتی مائیگرینٹ کیمپ میں گزشتہ تیس سال سے فضائیں بھی مایوس ہیں اور اس کیمپ میں رہنے والے لوگ بھی اندر ہی اندر جلاوطنی کا درد سہہ رہے ہیں ۔ تیس سال پہلے اپنا سب کچھ لُٹانے کے بعد مائیگرینٹ کیمپ میں زندگی گزارنے والے تقریبا بیالیس سو کنبوں کے چہروں پر اُس وقت مسکراہٹ دیکھنے کو ملی ، جب جموں و کشمیر ٹورسٹ ڈیولپمینٹ کارپوریشن کی جانب سے یہاں دو روزہ کشمیری پنڈت کرافٹ کلچر اور فوڈ فیسٹول منعقد کیا گیا ۔ فیسٹول کا افتتاح ایل جی کے مشیر بصیر احمد خان نے کیا ۔ اس دو روزہ فیسٹول میں کشمیری پنڈتوں کے علاوہ مقامی مسلمانوں نے بھی شرکت کی ۔


فیسٹول کے دوران جہاں جموں و کشمیر کے معروف فنکاروں دیپالی واتل ، شازیہ بشیر اور دیگر فنکاروں نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا تو وہیں اس فیسٹول کے دوران کئی اسٹال بھی قائم کئے گئے تھے ۔ ان اسٹالوں میں ان چیزوں کو رکھا گیا تھا جو کہ کشمیری پنڈتوں کے کلچر کا حصہ تھا ۔ بات کشمیری سماوار کی ہو یا کانگڈی کی یا ہاتھ سے بنائی گئی دیگر چیزوں کی ۔ یہ چیزیں کشمیری پنڈتوں کے کلچر کا حصہ رہی ہیں اور ان چیزوں کو دیکھ کر جلا وطنی جیسی زندگی گزار رہے ان کشمیری پنڈتوں کے دلوں میں ضرور درد اُٹھا ہوگا ۔ کیونکہ ان چیزوں کو دیکھ کر انھیں یاد آیا ہوگا کہ وہ کشمیری مسلمانوں کے ساتھ مل کر کس طرح پرسکون زندگی گزار رہے تھے اور کشمیر کی پر کیف فضاوں میں ان کا ماضی کس طرح شاندار و جاندار تھا اور اب بات جموں کی ہو یا ملک کے دوسرے حصوں کی یہاں کا موسم یا ماحول ان کے من کو کبھی نہیں بھایا ۔


فیسٹول کے دوران کھانے پینے کی وہ اشیا بھی رکھی گئی تھیں جو کہ کشمیری پنڈتوں کے رسوئی گھروں کی شان تھیں ۔ بات دم آلو کی ہو یا ندرو کی یا کشمیری ساگ کی ، یہ چیزیں کشمیری پنڈت نہ صرف اپنے طریقہ سے بناتے تھے ۔ بلکہ یہ چیزیں ان کے کلچر کا ایک حصہ تھیں ۔ گویا اس فیسٹول کے دوران وہی سب کچھ دکھانے کی کوشش کی گئی ، جو کچھ کشمیری پنڈتوں کے کلچر کا حصہ رہا ہے ۔ تاکہ ایک بار پھر اس کلچر کو کشمیری پنڈتوں کے دلوں میں تازہ کیا جاسکے ۔ کیونکہ تیس سال کی اس مدت نے کشمیری پنڈتوں کو اپنے کلچر سے کافی حد تک دور رکھا ہے ۔


فیسٹول کے دوران جے اینڈ کے ٹی ڈی سی کے منجینگ ڈائریکٹر نثار احمد وانی کا کہنا تھا کہ فیسٹول کا مقصد کشمیری پنڈتوں کے دلوں میں اپنے کلچر کو دوبارہ زندہ کرنا تھا ۔ کیونکہ اس مدت کے دوران یہ لوگ اپنے کلچر سے دور ہوگئے ہیں ۔  فیسٹول کے دوران سکریٹری ٹورزم سرمد حفیظ کا کہنا تھا کشمیر کشمیری پنڈتوں کے بغیر ادھورا ہے اور کشمیریت کشمیری پنڈتوں کے بغیر نامکمل ہے ۔

فیسٹول میں شامل کچھ کشمیری پنڈت نوجوانوں کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے کلچر کے بارے میں صرف کتابوں میں پڑھا تھا ۔ تاہم آج اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے کلچر کی جھلک دیکھ کر انھیں اس بات کا احساس ہوگیا کہ ان کا تعلق کس عظیم ورثے اور ثقافت کے ساتھ ہے ۔ کل ملا کر یہ فیسٹول انتہائی کامیاب رہا اور اس دوران کشمیری پنڈتوں کا یہی کہنا تھا کہ وہ واپس اپنے گھروں کو جانا چاہتے ہیں اور اب سرکار کو ایک منصوبہ بنانا چاہئے تاکہ وہ اپنے گھروں کو واپس لوٹ سکیں ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Mar 21, 2021 11:16 PM IST