ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

رامبن : جموں-سرینگرقومی شاہراہ پرسفرکرناموت کو دعوت دینے کے مترادف۔ دیکھیں ویڈیو

رامبن میں جموں سرینگر قومی شاہراہ پر مسافروں کو جن تکلیفوں سے گذرنا پڑرہاہے وہ نا قابل بیان ہیں۔ لوگوں نے الزام لگایا ہے کہ انتظامیہ،ہائی وے اتھاریٹی اور ٹھیکےدار کمپنیوں کی ملی بھگت کا خمیازہ انھیں بھگتنا پڑرہا ہے۔

  • Share this:

اس ویڈیو میں دل دہلادینے والی ان تصویروں کو دیکھ کر بخوبی اندازہ لگایاجاسکتا ہے کہ لوگ کس طرح اپنی جان بچانے کے لئے دوڑ رہے ہیں۔ان میں بزرگ،خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ یہ منظر رامبن میں جموں۔سرینگر قومی شاہراہ پردرماندہ مسافروں کی پریشانیوں کو بیان کرنے کے لئے کافی ہے۔ان دنوں جموں سرینگر شاہراہ بند رہنا ایک معمول بن گیا ہے اور ایسے میں لوگ جان جوکھم میں ڈال کر پیدل ہی اپنی منزل کی جانب نکل پڑتے ہیں۔ ایسے میں پسیاں اوربولڈر کھسکنے لگیں توان لوگوں کا جو حال ہوتا ہے وہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس تصویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ اپنی جان بچانے کے لئے دوڑنے کےدوران کس طرح ایک خاتون زمین پر گر گئی ۔ وہاں موجود افراد نے بروقت اقدام کرتے ہوئے اس خاتون کووہاں سے بچالیا۔ یہ تو ہے پیدل چلنے والوں کا حال جو مجبوری میں دشوار گذار راستوں پر نکل پڑتے ہیں ۔


لیکن جو گاڑیوں میں پھنس کر رہ جاتے ہیں انھیں بھی بہت تکلیفوں کا سامنا رہتا ہے۔ عام طور پر بارش کے موسم میں اس راستے پر پسیاں گرنے اور چٹانوں کے سڑک پر گرنے کے سبب شاہراہ بند رہتی ہے تاہم آئے دن شاہراہ بند ہونا، معمول کی بات ہوگئی ہے۔ دراصل اس شاہراہ پر سڑک کو کشادہ کرنے کا کام جاری ہے۔این ایچ اے آئی کی طرف سے جن ٹھیکیدارایجنسی کو کام سونپا گیا ہے،ان کی سرگرمیوں کی وجہ سے یہاں سے گاڑیوں کا گذرنا دشوار ہوتاجارہا ہے اور ہر تھوڑے دن شاہراہ کو بند کردیا جارہا ہے۔ جس کی وجہ سے ہزاروں مسافر اور مال بردار گاڑیاں درماندہ ہورہی ہیں۔ شدید ٹھنڈ کے ان دنوں میں شاہراہ پر پھنسنے والوں کا جو حال ہورہا ہوگا اس کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا۔لوگوں میں مقامی انتظامیہ،ٹھیکیدار کمپنیاں اور محکمہ ٹریفک پر شدید برہمی پائی جارہی ہے۔


لوگوں کے مطابق انتظامیہ اور ٹھیکیدار وں کی ملی بھگت ہےاوروہ اپنےمفادات کے لئے عوام کومشکل میں ڈال رہے ہیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ ٹھیکیدار ایجنسی ، اصول وضوابط کی پاسداری نہیں کررہی ہے۔ایجنسی کے کاموں کی وجہ سے شاہراہ پر پسیاں گرنا معمول کا عمل ہوگیا ہے۔اس روٹ پر حالیہ دنوں پیش آئے سڑک حادثات میں کئی جانیں ضائع ہوگئی ہیں۔جبکہ متعدد افراد معذور بھی ہوگئے ہیں۔ اس کے علاوہ ماحولیات کو نقصان پہنچانے والی سرگرمیاں انجام دی جارہی ہیں اور پہاڑوں کی کٹائی کےملبے کو دریائے چناب اور بچھلڑی میں ڈالا جارہا ہے۔ اگر انتظامیہ کی بات کریں تو شاہراہ پر درماندہ افراد کو راحت پہنچانے کے بلنگ بانگ دعوے کئے جاتے ہیں لیکن زمینی حقیقت اس کے برعکس ہے۔ گاڑیاں درماندہ رہنے سے لوگوں کو دشواریاں تو ہوتی ہی ہیں ساتھ ہی مال بردار گاڑیوں میں سامان خراب ہونے سے انھیں مالی نقصان بھی جھیلنا پڑرہا ہے۔لوگوں نے ٹریفک پولیس کی کارکردگی پر بھی سوال کھڑے کئے ہیں۔ خاص کر ٹرک ڈرائیورس،پولیس کے رویے سے سخت نالاں ہیں۔


ضلع رامبن میں ناشری سے بانہال تک شاہراہ کا سفریقیناًجوکھم بھرا ہے اور اس روٹ پر سفر کرنے والے اس غیر یقینی کیفیت میں رہتے ہیں کہ وہ اپنی منزل مقصود تک، وقت پر اور صحیح سلامت پہنچیں گے بھی یا نہیں ۔متعلقہ محکموں کے رول کو لیکر لوگوں میں جو برہمی پائی جارہی ہے وہ جائز لگ رہی ہے۔ ایسے میں انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ ٹھیکیدار ایجنسی کو من مانی کرنے سے روکے اور جہاں بھی غیر مجاز طور پر سرگرمیاں ہورہی ہیں اس پر فوری روک لگائے۔انسانی جانوں کی سلامتی کو یقینی بنایا جائے اورٹریفک کی آمد ورفت کے لئے راہ ہموار کرنے موثر حکمت عملی اپنائی جائے۔

نیوز 18 اردو کے لئے رامبن سے بلال بالی کی رپورٹ
First published: Jan 07, 2020 06:16 PM IST