உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں وکشمیر دہشت گردانہ حملہ: 36 گھنٹوں تک چلے تصادم میں لشکر طیبہ کے 3 فدائین ہلاک، یہ تھا پاکستان سے آئے دہشت گردوں کا منصوبہ

    جموں وکشمیر دہشت گردانہ حملہ: 36 گھنٹوں تک چلے تصادم میں لشکر طیبہ کے 3 فدائین ہلاک

    جموں وکشمیر دہشت گردانہ حملہ: 36 گھنٹوں تک چلے تصادم میں لشکر طیبہ کے 3 فدائین ہلاک

    Jammu Encounter with Terrorist: وزیراعظم نریندر مودی کے دورہ سے قبل (PM Modi Jammu Visit) فدائین حملہ کرنے کی دہشت گرد تنظیم جیش محمد کی کوشش ناکام ہوگئی۔ انکاونٹر میں ہندوستانی سیکورٹی اہلکاروں نے تین مشتبہ پاکستانی دہشت گردوں کو مار گرایا۔ اس تصادم میں سی آئی ایس ایف کا ایک افسر بھی شہید ہوگیا۔ افسران نے یہ جانکاری دی ہے۔

    • Share this:
      جموں: جموں وکشمیر کے بارہمولہ ضلع میں سیکورٹی اہلکاروں کے ساتھ تقریباً 36 گھنٹوں تک چلے تصادم میں لشکر طیبہ کے تین دہشت گرد مارے گئے۔ ان میں اس دہشت گرد تنظیم کا اعلیٰ کمانڈر یوسف کانترو بھی شامل ہے۔ پولیس نے جمعہ کو یہ جانکاری دی۔ اس سے قبل، پولیس نے بارہمولہ تصادم میں چار دہشت گردوں کے مارے جانے کا دعویٰ کیا تھا، لیکن جائے حادثہ سے تین لاشیں برآمد کی گئی ہیں۔ لشکر طیبہ کا اعلیٰ کمانڈر یوسف کانترو سمیت دو دہشت گرد جمعرات کو تصادم میں مارے گئے تھے، جبکہ ایک دیگر دہشت گرد جمعہ کے روز مارا گیا۔ کشمیر زون کی پولیس نے ایک ٹوئٹ کیا، ‘تصادم کی جگہ سے صرف تین لاش برآمد کی گئی ہیں‘۔

      پولیس نے مارے گئے دہشت گردوں کی پہچان یوسف ڈار، حلال شیخ عرف حنزلہ اور فیصل ڈار کے طور پر کی ہے۔ پولیس نے کہا کہ تصادم کی جگہ سے ہتھیار اور گولہ بارود ضبط کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مہم ختم ہوگئی ہے۔ پولیس کے مطابق، کانترو سیکورٹی اہلکاروں کے کئی ملازمین اور غیر فوجی شہریوں کے قتل میں ملوث رہا ہے اور وہ کشمیر وادی کے ٹاپ 10 مطلوبہ دہشت گردوں میں شامل تھا۔ انہوں نے بتایا کہ کانترو حزب المجاہدین میں سرگرم اراکین کے طور پر شامل ہوا تھا اور اسے 2005 میں گرفتار کیا گیا۔

      سال 2008 میں کانترو کو چھوڑا گیا، لیکن وہ 2017 میں دوبارہ حزب المجاہدین سے جڑ گیا اور بے قصور عام شہریوں، پولیس اہلکاروں اور سیاسی کارکنان کا قتل کرنے لگا۔ بعد میں وہ حزب المجالدین سے لشکر طیبہ میں شامل ہوگیا۔ کانترو مارچ میں خصوصی پولیس افسر محمد اشفاق ڈار اور اس کے بھائی عمر احمد ڈار، ستمبر 2020 میں بڈگام ضلع کے کھاگ علاقے میں بی ڈی سی صدر سردار بھوپیندر سنگھ اور دسمبر 2017 میں سی آرپی ایف ملازم ریاض احمد راٹھیر کے قتل میں بھی شامل تھا۔

      اس کے علاوہ وہ کئی سیاسی کارکنان کے قتل، گرینیڈ پھینکنے کے حادثات اور پولیس اور فوجی اہلکاروں کے اغوا اور قتل میں بھی شامل رہا ہے۔ کشمیر کے پولیس انسپکٹر جنرل وجے کمار نے دہشت گردی مخالف کامیاب مہم چلانے اور وادی کے سب سے محروم دہشت گردی کے خاتمے کے لئے سیکورٹی اہلکاروں کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کانترو کو مار گرائے جانے کو بڑی کامیابی قرار دیا۔

      پولیس ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی پی) دلباغ سنگھ نے تصادم کی جگہ کا دورہ کرنے کے بعد کہا کہ دہشت گرد پاکستان واقع جیش محمد کے خود کش حملے کا حصہ تھے اور ان کی دراندازی وزیر اعظم نریندر مودی کی جموں وکشمیر یاترا میں رخنہ اندازی کرنے کی ایک ‘بڑی سازش‘ ہوسکتی ہے۔ ابتدائی جانچ کے مطابق، دہشت گرد سانبہ ضلع میں بین الاقوامی سرحد سے دراندازی کرنے کے بعد جمعرات کو جموں شہر کے باہری علاقے میں گھسے اور وہ فوج کے کیمپ کے قریب ایک علاقے میں تھے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: