உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    J&K News: ایل جی انتظامیہ نے کشمیری مائیگرنٹ پی ایم پیکیج ملازمون کیلئے کیا پرموشن پالیسی کا اعلان

    J&K News: ایل جی انتظامیہ نے کشمیری مائیگرنٹ پی ایم پیکیج ملازمون کیلئے کیا پرموشن پالیسی کا اعلان

    J&K News: ایل جی انتظامیہ نے کشمیری مائیگرنٹ پی ایم پیکیج ملازمون کیلئے کیا پرموشن پالیسی کا اعلان

    Jammu and Kashmir : جموں و کشمیر ایڈمنسٹریٹو کونسل نے اپنے ایک فیصلے میں پی ایم پیکیج کے تحت وادی میں اپنی ڈیوٹی انجام دے رہے کشمیری مائیگرنٹ ملازمین کے لئے باظابطہ پرموشن کا فیصلہ کیا ہے ۔

    • Share this:
    جموں : جموں و کشمیر ایڈمنسٹریٹو کونسل نے اپنے ایک فیصلے میں پی ایم پیکیج کے تحت وادی میں اپنی ڈیوٹی انجام دے رہے کشمیری مائیگرنٹ ملازمین کے لئے باظابطہ پرموشن کا فیصلہ کیا ہے ۔ فیصلے کے تحت سینیئریٹی بنیادوں پر ان ملازمین کی پرموشن اب ہوگی ۔ ان کی پرموشن دیگر عا م ملازمین کی طرح ہی ہوگی ، تاہم ان کی سینیئریٹی لسٹ عام ملازمین سے الگ ہوگی ۔ اس کے ساتھ ساتھ پی ایم پیکیج کے تحت تمام اسامیوں کو ڈویژنل کیڈر کے پوسٹ کے تحت قرار دیا گیا ہے اور اب ایسے ملازمین ڈسٹرکٹ کیڈر پوسٹس کی بجائے ڈویژنل کیڈر کے پوسٹ مانے جائیں گے اور اس کے سبب وادی کے مختلف اضلاع میں ان کی تقرری ممکن بن پائے گی۔  ایڈمنسٹریٹو کونسل نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ پی ایم پیکیج کے ملازمین کے لئے لئیے گئے ان فیصلوں پر اعلی سطح پر نگرانی ہوگی تاکہ یہ فیصلے من و عن عملائے جاسکیں۔

    وہیں دوسری طرف پی ایم پیکیج کے تحت کام کر رہے ملاز مین نے  سرکار کے اس فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اپنا یہ مطالبہ دُہرایا کہ انہیں حالات ٹھیک ہونے تک جموں میں تعینات کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ وادی میں وہ محفوظ نہیں ہے ، لہذا انہیں جموں منتقل کیا جائے۔ ایک ملازم  رنجن زُتشی نے نیوز18 اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ  سرکار اس وقت یہ فیصلے لے کر پی ایم پیکیج کے ملازمین کو پھنسا رہی ہے اور ان کے ایجٹیشن کو ختم کر نے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن ملازمین اپنی جان بچانے کے لئے جموں منتقل کرنے کے مطالبے سے نہیں ہٹ سکتے ہیں ۔

    ایک اور ملازم رُبن سپرو نے کہا کہ ملازمین جموں اور کشمیر میں اپنا احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں اور ایل جی انتظامیہ اس کوشش میں ہے کہ ان کے ایجٹیشن کو ختم کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ پہلے انہیں اپنی جان کی فکر ہے اور بعد میں یہ چیزیں ، جن کا سرکار اس وقت انہیں لالچ دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تین گھنٹے ایل جی سے ملاقات کے دوران بھی ملازمین نے یہی مطالبہ کیا تھا کہ انہیں جموں منتقل کیا جائے ۔ کیونکہ وادی کے موجودہ حالات میں وہ ہرگز محفوظ نہیں ہیں۔

     

    یہ بھی پڑھئے : وادی کے بیشتر علاقوں میں میلہ کھیر بھوانی کی تقریبات رہی پھیکی، جانیے کیوں


    ایک اور ملازم ارچنا کول نے کہا کہ خواتین ملازمین کو سب سے زیادہ مشکلات درپیش ہیں ، ایسے میں سرکار کو سبھی ملازمین کے بارے میں سوچنا چاہئے اور انہیں جموں منتقل کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اگر سرکار ایسا نہیں کرتی تو ملازمین جموں میں بھی بہت جلد سڑکوں پر آکر اپنا احتجاج جاری رکھیں گے، جس کی ذمہ داری سرکار پر ہوگی۔ غور طلب ہے کہ سرکار نے پی ایم پیکیج ملازمین کو کئی مراعات دینے کا اعلان تو کیا ، لیکن  ملازمین کی درخواست ہے کہ انہیں اسلئے جموں منتقل کیا جائے کیونکہ وادی میں وہ ان حالات میں محفوظ نہیں ہیں۔

     

    یہ بھی پڑھئے : ڈی ڈی سی حلقہ لارنو کیلئے تیسری مرتبہ ہوئی ووٹوں کی گنتی، جانئے اب کس کو ملی جیت


    دوسری طرف اس معاملہ پر سیاست بھی ہورہی ہے اور اپوزیشن پارٹیاں سرکار سے کہہ رہی ہیں کہ وہ ان ملازمین کو جموں منتقل کرے ۔ جبکہ بی جے پی کے لیڈران ایسا کرنے کو پاکستان کے ناپاک منصوبوں کے جیت سے تعبیر کررہے ہیں۔ ان کا یہ بھی دعوی ہے کہ سرکار اور حفاظتی عملہ ایسے اقدامات اٹھا رہا ہے، جن سے وادی میں کام کر رہے اقلیتی فرقے کے ملازمین کا تحفظ یقینی بن پائے۔

    شیوسینا کی لیڈر اور راجیہ سبھا ممبر پرینکا چترویدی نے بھی آج جموں پہنچ کر ان ملازمین کی جموں منتقلی کی حمایت کی اور بی جے پی پر الزام لگایا کہ وہ کشمیر میں کام کر رہے اقلیتی فرقے کے لوگوں کے تحفظ کو یقینی بنانے میں ناکام ہوگئی ہے۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: