ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

وادی کشمیر میں ہوئی برفباری سے متاثرہ خاندانوں اور محکموں کو امداد فراہم ہوگی

تین سے نو جنوری کو وادی کشمیت میں بھاری برفباری کو ایل جی انتظامیہ نے خطہ کی قدرتی آفت قرار دیا تھا ۔ وضع کردہ ضوابط کے تحت ریلیف فراہم ہوگا ۔ متاثرہ خاندانوں اور محکموں کو امداد دی جائے گی۔

  • Share this:

تین سے نو جنوری کو وادی کشمیت میں بھاری برفباری کو ایل جی انتظامیہ نے خطہ کی قدرتی آفت قرار دیا تھا ۔ وضع کردہ ضوابط کے تحت ریلیف فراہم ہوگا ۔ متاثرہ خاندانوں اور محکموں کو امداد دی جائے گی۔ کشمیر میں موسم سرما کے دوران برفباری کا ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ کشمیر میں صدیوں سے یہ سلسلہ جاری ہے۔ برفباری کے بعد انتظامیہ اس قدر مستعدی سے کام کرتی تھی کہ ترجیحی بنیادوں پر برف ہٹانے کا کام انجام دیا جاتا ہے۔


رواں برس انتظامیہ نے برف ہٹانے کے حوالے سے بلنگ بانگ دعوے تو کئے مگر زمینی صورتحال اسکے برعکس ہے۔ نیوز ایٹین اردو آج آپ کو اس سلسلہ میں ایک زندہ مثال دکھا رہی ہے۔ سرینگر شہر میں بھی برف ہٹانے کے حوالے سے کیا کچھ کیا گیا ہے اس حوالے سے آپ خود اندازہ لگاسکتے ہیں۔۔ ٹی وی اسکرین پر دیکھے جارہے یہ نظارے کسی نجی املاک کے نہیں ہیں۔ یہ ایک سرکاری دفتر ہے ۔ ان تصاویر سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ کتنی برف ہٹائی گئی ہے۔۔ وادی کشمیر بدستور شدید سردی کی لپیٹ میں ہے ۔ رواں برس سردی نے گزشتہ تین دہائیوں کا ریکارڈ توڑا ہے۔ سرینگر شہر میں گزشتہ شب کم سے کم درجہ حرارت منفی پانچ اعشاریہ چھ ڈگری ریکارڈ کیا گیا۔ سیاحتی مقام گلمرگ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی تیرہ اعشاریہ چار ڈگری سلسیس درج کیا گیا ہے۔۔


شدید سردی کی وجہ سے معمول کی زندگی کافی متاثر ہوئی ہے۔ رات کے دوران پانی کی پائپیں اور نل جم جاتے ہیں۔ اس وجہ سے لوگوں کو پانی کی سپلائی کے حوالے مشکلات پیش آرہے ہیں ۔۔۔شدید سردی کے ان ایام میں سرینگر سمیت دیگر مقامات پر روایتی فیرن اور کانگڑی ہی لوگوں کو گرمی بخشنے کے اہم وسائل ہیں ۔۔واضح رہے کہ کشمیر میں سخت ترین سردی کے چالیس روز یعنی چلہ کلاں اکتیس جنوری کو ختم ہونگے۔ اس بیچ محکمہ موسمیات کے مطابق اکتیس جنوری تک موسم خشک ہی رہے گا اور اسکے بعد موسم تبدیل ہوگا۔ اس سے لوگوں کو سردی سے کچھ راحت ملنے کی امید ہے۔


وہیں اگلی خبر ہے کہ سینٹرل وقف کونسل نے تمام ریاستوں اور یوٹیز کے نمائندوں کے لئے دہلی میں ایک پروگرام کا انعقاد کیا۔ مرکزی وزیر اقلیتی امور مختار عباس نقوی نے ریاستی وقف بورڈس کو مزید مستحکم کرنے،شفافیت کو یقینی بنانے اور اسکیموں کے نفاذ پر زور دیا۔نقوی نے لداخ اور جموں کشمیر میں وقف بورڈ جلد ہی بنائے جانے کا یقین دلایا۔ڈیولپمنٹ کمیٹی کی چیئرپرسن ڈاکٹر درخشاں اندرابی نے بھی خطاب کیا اور جموں کشمیر کو سینٹرل وقف کونسل کے تحت لانے پر مسرت کا اظہار کیا۔ اندرابی نے کہا کہ وہ ایل جی انتظامیہ کے ساتھ تمام وقف ریکارڈس کو ڈیجیٹائز کرنے کا کام کریں گی۔اندرابی کی تفصیلی رپورٹ کے بعد مرکزی وزیر اقلیتی امور نے جموں کشمیر کو باضابطہ طور پر قومی وقف بورڈ ترقیاتی اسکیم کے دائرے میں لایا۔ وقف املاک کی جیو ٹیگنگ پر بھی غور کیاگیا۔
Published by: Sana Naeem
First published: Jan 28, 2021 09:46 PM IST