உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    J&K News : حد بندی کمیشن مارچ میں کرسکتا ہے جموں وکشمیر کا دورہ

    J&K News : حد بندی کمیشن مارچ میں کرسکتا ہے جموں وکشمیر کا دورہ

    J&K News : حد بندی کمیشن مارچ میں کرسکتا ہے جموں وکشمیر کا دورہ

    Jammu and Kashmir News : مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے جموں و کشمیر میں رواں برس کے آخر میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کا اشارہ دینے والے بیان کے ایک دن بعد مرکزی حکومت نے مرکزی زیر انتظام علاقوں میں انتخابات کرانے کا ایک اور اشارہ دیا ہے۔ وزارت قانون نے حد بندی کمیشن کی مدت میں توسیع کی ہے۔

    • Share this:
    Jammu and Kashmir News :  مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے جموں و کشمیر میں رواں برس کے آخر میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کا اشارہ دینے والے بیان کے ایک دن بعد مرکزی حکومت نے مرکزی زیر انتظام علاقوں میں انتخابات کرانے کا ایک اور اشارہ دیا ہے۔ وزارت قانون نے حد بندی کمیشن کی مدت میں توسیع کی ہے۔ اب  پینل کو 6 مئی سے پہلے رپورٹ کو حتمی شکل دینا ہوگی۔ ذرائع کے مطابق اگر پینل اپنی رپورٹ 6 مئی کو پیش کرتا ہے تو اسمبلی انتخابات اس سال نومبر دسمبر یا اگلے سال مارچ اپریل میں کرائے جا سکتے ہیں جیسا کہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اشارہ دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ جموں و کشمیر میں انتخابات حد بندی کمیشن کی سفارشات کو حتمی شکل دینے کے بعد چھ سے آٹھ ماہ کے اندر کرائے جائیں گے۔

    جموں و کشمیر میں 19 جون 2018 سے منتخب حکومت نہیں ہے ۔ یعنی گزشتہ ساڑھے تین سال سے زیادہ عرصے سے جب بی جے پی نے محبوبہ مفتی کی قیادت والی پی ڈی پی و بی جے پی مخلوط حکومت سے حمایت واپس لے لی تھی ، تب سے یہاں گونر راج نافذ ہے۔ حد بندی کی مشق مکمل ہونے کے بعد جموں و کشمیر میں اسمبلی کی نشستوں کی تعداد 83 سے بڑھ کر 90 ہو جائے گی ۔ اسمبلی حلقوں کی حد بندی آخری بار 1994-95 میں صدر راج کے دوران ہوئی تھی ، جب سابقہ ​​ریاستی اسمبلی کی نشستیں 76 سے بڑھا کر 87 کر دی گئی تھیں۔ جموں خطے کی نشستیں 32 سے بڑھا کر 37، کشمیر کی نشستیں 42 سے بڑھا کر 46 اور لداخ کی دو سے چار کر دی گئی تھیں۔ تاہم اٹل بہاری واجپئی کی قیادت میں اس وقت کی مرکزی حکومت کے فیصلے کے مطابق 2002 میں اس وقت کی نیشنل کانفرنس حکومت نے ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی سربراہی میں اس حد بندی کو کیا تھا۔

    اب ایسے اشارے ملے ہیں کہ کمیشن مارچ کے مہینے میں سیاسی جماعتوں، تنظیموں اور افراد کے دعوؤں اور اعتراضات کے لیے رپورٹ کا مسودہ پبلک ڈومین میں رکھے گا اور پھر عوامی سماعتوں کے لیے جموں و کشمیر کا بھی دورہ کرے گا۔ مرکزی وزارت قانون و انصاف کے محکمہ کی طرف سے آج جاری کردہ ایک نوٹیفکیشن نے جسٹس (ریٹائرڈ) رنجنا پرکاش دیسائی کی سربراہی میں اور چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) سشیل چندر اور ریاستی الیکشن کمشنر (ایس ای سی) کے کے شرما پر مشتمل حد بندی کمیشن کے لیے دو ماہ کی توسیع کو منظوری دی۔ کمیشن کی میعاد 6 مارچ کو ختم ہونے والی تھی، اب اسے 6 مئی تک بڑھا دیا گیا ہے ، جس میں اسے جموں و کشمیر کے مرکز کے زیر انتظام علاقے میں 90 اسمبلی حلقوں کی حد بندی کے لیے اپنی سفارشات کو حتمی شکل دینی ہوگی۔

    یہ پینل کی میعاد میں دوسری توسیع ہے ۔ پینل کا قیام 6 مارچ 2020 کو قائم کیا گیا تھا اور اسے رپورٹ پیش کرنے کے لیے ایک سال کا وقت دیا گیا تھا۔ تاہم پینل نے پہلے سال نئی دہلی میں ایسوسی ایٹ ممبران کے ساتھ صرف ایک میٹنگ کی اور 6 مارچ 2021 کو اس کی مدت میں مزید ایک سال کی توسیع کر دی گئی۔ کمیشن نے گزشتہ سال 6 سے 9 جولائی تک چار دن کے لیے جموں و کشمیر کا دورہ کیا تھا۔ اب تک پانچ ایسوسی ایٹ ممبران کے ساتھ دو میٹنگیں کی ہیں۔ پہلی 18 فروری 2021 کو اور دوسری 20 دسمبر 2021 کو۔ پینل 5 فروری 2022 کو ایسوسی ایٹ ممبرز کو رپورٹ کا مسودہ پیش کیا۔ 20 دسمبر 2021 کی میٹنگ میں پینل نے ایسوسی ایٹ ممبران کے ساتھ جموں ڈویژن میں اسمبلی کی چھ اور کشمیر ڈویژن میں ایک نشست بڑھانے کے علاوہ 90 کے ایوان میں درج فہرست ذاتوں کے لیے سات اور درج فہرست قبائل کے لیے نو نشستیں ریزرو کرنے کی اپنی سفارشات شیئر کیں۔

    ذرائع کے مطابق کمیشن مارچ کے مہینے میں رپورٹ کا مسودہ پبلک ڈومین میں پیش کرنے کے بعد دوبارہ جموں و کشمیر کا دورہ کر سکتا ہے تاکہ وفود سے ملاقات کی جا سکے اور اپنی سفارشات کو حتمی شکل دینے سے پہلے رپورٹ پر ان کی رائے لے سکے۔ کمیشن اب ایسوسی ایٹ ممبروں کے ساتھ ایک اور میٹنگ کر سکتا ہے یا نہیں کیونکہ اس نے پہلے ہی ان کے ساتھ دو اجلاس منعقد کیے ہیں اور مسودہ رپورٹ پر ان کی تجاویز اور اعتراضات حاصل کیے ہیں۔

    ایسوسی ایٹ ممبران میں وزیر اعظم کے دفتر (پی ایم او) میں مرکزی وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ اور جگل کشور شرما، جموں ڈویژن سے بی جے پی کے دونوں لوک سبھا ممبران اور کشمیر سے لوک سبھا ممبران جو نیشنل کانفرنس کے ڈاکٹر فاروق عبداللہ، محمد اکبر لون اور حسنین مسعودی شامل ہیں۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: