ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جنید عظیم متو مسلسل دوسری مرتبہ سری نگر میونسپل کارپوریشن کے میئر منتخب

جنید متو نے الیکشن جیتنے کے بعد نامہ نگاروں کو بتایا: 'کچھ ماہ پہلے جب میرے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لائی گئی تو میں کارپوریٹر حضرات کا اعتماد حاصل نہیں کر پایا۔ آٹھ ماہ بعد پھر سے میئر کے عہدے کے لئے الیکشن ہوا۔ جب میں پہلی بار میئر بنا تھا تو اُس وقت مجھے چالیس ووٹ ملے تھے۔ آج مجھے 44 ووٹ حاصل ہوئے جو دو تہائی اکثریت کے قریب ہے'۔

  • UNI
  • Last Updated: Nov 26, 2020 09:31 AM IST
  • Share this:
جنید عظیم متو مسلسل دوسری مرتبہ سری نگر میونسپل کارپوریشن کے میئر منتخب
جنید عظیم متو سری نگر کے مئیر الیکشن کے لئے کاغذات نامزدگی داخل کرتے ہوئے۔ (فائل فوٹو)۔

سری نگر۔ نیشنل کانفرنس اور پیپلز کانفرنس کے سابق لیڈر جنید عظیم متو بدھ کو یہاں شدید ہنگامہ آرائی اور شور شرابے کے بیچ ہونے والے انتخابات میں کامیابی حاصل کر کے مسلسل دوسری مرتبہ سری نگر میونسپل کارپوریشن (ایس ایم سی) کے میئر منتخب ہو گئے ہیں۔ پنتیس سالہ جنید متو کے حق میں 70 میں سے 44 ووٹ پڑے۔ ان کے مدمقابل سابق ڈپٹی میئر شیخ عمران کے حق میں محض سات ووٹ پڑے جبکہ 19 کارپوریٹرس نے احتجاج کے طور پر ووٹنگ کا بائیکاٹ کیا جن کا کہنا تھا کہ 'میئر' کے عہدے کا الیکشن ایس ایم سی کے آئین کو نظرانداز کرتے ہوئے منعقد کیا گیا۔ جنید متو پہلی مرتبہ 6 نومبر 2018 کو ایس ایم سی کے میئر منتخب ہوئے تھے۔ تاہم انہیں رواں برس 16 جون کو 'عدم اعتماد کی تحریک' کے ذریعے اس عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔


سرکاری ذرائع نے بتایا کہ بدھ کو یہاں ایس ایم سی کے کارپوریٹ ہال میں 'میئر' کے عہدے کے لئے ہونے والی ووٹنگ میں 51 کارپوریٹرس نے حصہ لیا۔ جنید متو کے حق میں 44 جبکہ شیخ عمران کے حق میں 7 ووٹ پڑے۔ انہوں نے کہا کہ ایس ایم سی میں کارپوریٹرس کی تعداد 74 ہے لیکن چار نشستیں خالی ہیں جن کے لئے انتخابات کرائے جا رہے ہیں۔ ووٹنگ کا عمل شروع ہونے سے قبل کارپوریٹ ہال میں شدید ہنگامہ آرائی اور شور شرابے کے مناظر دیکھنے کو ملے۔ ڈپٹی میئر پرویز احمد قادری اور ان کے حمایتی کارپوریٹرس نے پولیس پر انہیں مارنے پیٹنے کے الزامات عائد کئے۔


جنید متو نے الیکشن جیتنے کے بعد نامہ نگاروں کو بتایا: 'کچھ ماہ پہلے جب میرے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لائی گئی تو میں کارپوریٹر حضرات کا اعتماد حاصل نہیں کر پایا۔ آٹھ ماہ بعد پھر سے میئر کے عہدے کے لئے الیکشن ہوا۔ جب میں پہلی بار میئر بنا تھا تو اُس وقت مجھے چالیس ووٹ ملے تھے۔ آج مجھے 44 ووٹ حاصل ہوئے جو دو تہائی اکثریت کے قریب ہے'۔ انہوں نے کہا: 'الیکشن صاف و شفاف اور اوپن بیلٹ کے ذریعے ہوا۔ شروع میں شیخ عمران اور نیشنل کانفرنس کے پرویز قادری نے ہلہ غلہ مچانے کی بہت کوشش کی۔ انہوں نے شیشے توڑے، میزوں پر ناچا، افسران پر حملہ کیا اور دو گھنٹے تک ووٹنگ نہیں ہونے دی۔ اس لئے کیونکہ ان کے پاس میئر کا الیکشن جیتنے کے لئے درکار اکثریت نہیں تھی'۔



ان کا مزید کہنا تھا: 'جب ووٹنگ ہوئی تو مجھے بھاری اکثریت سے کامیابی ملی۔ ہم نے 51 میں سے 44 ووٹ حاصل کئے۔ شیخ عمران صاحب کو سات ووٹ ملے۔ بھاری اکثریت سے کامیاب کرنے پر میں تمام کارپوریٹر حضرات کا شکر گزار ہوں۔ میری خواہش ہے کہ ان کی امیدوں پر کھرا اتر سکوں'۔ جنید متو نے اپنی جیت کو جمہوریت کی جیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ نیشنل کانفرنس نے میئر انتخابات کے خلاف ہائی کورٹ کا دروازہ بھی کھٹکھٹایا لیکن وہاں ان کی درخواست کو مسترد کیا گیا۔ اس لئے یہ جیت سری نگر کے لوگوں کی جیت ہے جو ان کی غلامی کرتے کرتے تھک چکے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا: 'ایس ایم سی میں کارپوریٹرس کی تعداد 70 ہے۔ کس نے کس کو ووٹ ڈالا ہے یہ عیاں ہے۔ جو الیکشن ہارتا ہے اس کے پاس پھر دو آپشن ہوتے ہیں۔ وہ ندامت سے فیصلے کو قبول کرتا ہے یا وہ جمہوری اداروں پر تہمت لگانے نکلتا ہے'۔

ڈپٹی میئر پرویز احمد قادری نے میئر کے الیکشن کو 'سلیکشن' قرار دیتے ہوئے کہا: 'میں شہر سری نگر کا ڈپٹی میئر ہوں۔ یہاں الیکشن نہیں سلیکشن ہو رہا ہے۔ میں نے الیکشن کے انعقاد کی منظوری نہیں دی تھی جو ایس ایم سی کے آئین کے مطابق لازمی تھی۔ سکریٹری اور کمشنر نے مل کر میئر کے الیکشن کا نوٹیفکیشن نکالا۔ انہوں نے تمام قوانین کو بالائے طاق رکھ کر یہاں انتخابات کرائے۔ پولیس نے مجھے اور میرے ساتھیوں کو پیٹ پیٹ کر باہر نکالا'۔

الیکشن کا بائیکاٹ کرنے والی بعض خواتین کارپوریٹرس نے جموں و کشمیر پولیس پر ان کے ساتھ بدتمیزی کرنے کا الزام لگایا۔
ایک خاتون کارپوریٹر کا کہنا تھا: 'ہم احتجاج کر رہے تھے کہ اس بیچ پولیس آ گئی اور ہمیں مارنا شروع کر دیا۔ انہوں نے ہمارے ایک کارپوریٹر کا جعلی دستخط کیا تھا جس کے خلاف ہم احتجاج کر رہے تھے۔ کانگریس کے کارپوریٹرس نے وہپ کے باوجود بی جے پی کی حمایت کی'۔

جنید متو نے امریکہ کی مشی گن اسٹیٹ یونیورسٹی سے گریجویشن کی ڈگری حاصل کی ہے۔ سال 2018 میں منعقدہ بلدیاتی انتخابات کے نتائج کے مطابق جنید متو نے ایس ایم سی کے حلقہ نمبر 14 راولپورہ، حلقہ نمبر 18 سولنہ اور حلقہ نمبر 65 بڈ ڈل سے کامیابی حاصل کی تھی۔ تاہم وہ ایک حلقہ ہار گئے تھے۔ جنید متو کو بلدیاتی انتخابات کے دنگل میں اترنے کے ساتھ ہی ایس ایم سی میئر کے عہدے کے لئے ایک مضبوط دعویدار سمجھا جارہا تھا۔ وہ پیپلز کانفرنس کی ٹکٹ پر ایس ایم سی کے میئر منتخب ہوئے تھے۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Nov 26, 2020 09:30 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading