உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کابل دہشت گردانہ حملہ: افغانستان میں خانہ جنگی، ہندوستان پر کیا پڑے گا اثر، دفاعی ماہرین نے کہی یہ بات

    کابل دہشت گردانہ حملہ: افغانستان میں خانہ جنگی، ہندوستان پر کیا پڑے گا اثر، دفاعی ماہرین نے کہی یہ بات

    کابل دہشت گردانہ حملہ: افغانستان میں خانہ جنگی، ہندوستان پر کیا پڑے گا اثر، دفاعی ماہرین نے کہی یہ بات

    افغانستان کی راجدھانی کابل میں حامد کرزئی بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب 26 اگست کو ہوئے دہشت گردانہ حملے میں پوری دنیاکو جھنجھوڑ کررکھ دیا۔ آئی ایس آئی ایس خراسان کی طرف سے کئے گئے اس خود کش حملے میں ایک سو سے زیادہ افراد لقمہ اجل بن گئے۔

    • Share this:
    جموں: افغانستان کی راجدھانی کابل میں حامد کرزئی بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب 26 اگست کو ہوئے دہشت گردانہ حملے میں پوری دنیا کو جھنجھوڑ کررکھ دیا۔ آئی ایس آئی ایس خراسان کی طرف سے کئے گئے اس خود کش حملے میں ایک سو سے زیادہ افراد لقمہ اجل بن گئے۔ حملے کے فوراً بعد کابل ہوائی اڈے کے آس پاس دل دہلانے والے مناظر دیکھنے کو ملے۔ حملے میں زخمی افراد کو نزدیکی اسپتال تک پہنچانے والے دلخراش مناظر یا حملے میں بچ نکلنے والے افراد کی جانب سے محفوظ مقامات تک پہنچ جانے کی کوشش، غرض چاروں طرف افراتفری کا ماحول برپا تھا۔

    آئی ایس آئی ایس خراسان نے خود کش حملہ آور کی تصویر جاری کرکے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی۔ دنیا بھر میں یہ سوال کئے جارہے ہیں کہ خفیہ ایجنسی کی طرف سے ممکنہ حملے کی اطلاع کے باوجود آخر آئی ایس آئی ایس یہ حملہ انجام دینے میں کامیاب کیسے رہا۔ ایک طرف جہاں اس معاملے پر تفصیلات کا انتظار ہے، وہیں دوسری جانب دفاعی ماہرین کا خیال ہے کہ آئی ایس آئی ایس کی جانب سے کیا گیا یہ حملہ طالبان اور آئی ایس آئی ایس خراسان کے درمیان متضاد نظریہ کا نتیجہ ہے۔

    دفاعی ماہر کپٹن انل گور کا کہنا ہے کہ اس انسانیت سوز حملے سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ افغانستان میں خانہ جنگی شروع ہونے کا ماحول بن رہا ہے۔ نیوز 18 اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے انل گور نے کہا کہ جس طریقے سے پنچ شیر میں امراللہ صالح اور احمد مسعود نیز ہیرات میں ناردیرن الائنس کے درمیان طالبان کے خلاف نبردآزما ہونے سے متعلق گفت و شنید ہورہی ہے۔ اس سے یہ صاف ظاہر ہے کہ مستقبل میں افغانستان میں علیحدہ علیحدہ مسلح گروپ ایک دوسرے کے مد مقابل ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ 31 اگست کے بعد ان مسلحہ گروپوں کے درمیان تصادم آرائیاں تیز ہونے کا خدشہ ہے۔

    کیپٹن انل گور نے کہا کہ بھارت کو چاہئے کہ وہ 31 اگست سے قبل افغانستان میں موجود اپنے تمام شہریوں کی بہ حفاظت وطن واپسی یقینی بنائیں اور جو افراد افغانستان میں کسی وجہ سے رہنے پر مجبور ہوں ان کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لئے مؤثر اقدامات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اقوام متحدہ سیکورٹی کونسل میں ایک قرارداد پاس کروائے تاکہ پوری دنیا کے ممالک آئی ایس آئی ایس خراسان اور طالبان پر دباؤ ڈالا جائے کہ افغانستان میں خانہ جنگی جیسے حالات بنانے کے لئے ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا افغانستان کے موجودہ حالات کے لئے صرف امریکہ ذمہ دار ہے؟ چونکہ ایسا مانا جارہا ہے کہ اس نے افغانستان سے اپنی فوج واپس بلانے میں جلد بازی سے کام لیا۔

    کپٹن انل گور نے کہا کہ امریکہ نے 20 برسوں تک افغانستان میں عربوں ڈالر خرچ کئے اور وہاں کی فوج کو تربیت بھی دی۔ تاہم افغانستان کی فوج نے طالبان کی مزاحمت کرنے کے بجائے اس کو بہ آسانی آگے بڑھنے موقع فراہم کیا۔ لہٰذا امریکہ سے زیادہ وہاں کی سرکار اور فوج اس کے لئے جوابدہ ہے۔ کپٹن انل گور نے کہا کہ افغانستان میں طالبان کے قبضےکے بعد ابھرتی صورتحال پر قریبی نگاہ بنائے رکھنے کی اشد ضرورت ہے، کیونکہ چین اور پاکستان مل کر طالبان کو ہندوستان کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کو بین الاقوامی سطح پر اپنا اثرورسوخ استعمال کر کے دہشت گردی کےخلاف عالمی رائے عامہ منظم کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ تاکہ افغانستان کے عام لوگوں کے انسانی حقوق کی پاسداری ممکن ہوسکے اور ہندوستان جیسے امن پسند ممالک عالمی سطح پربڑھتی ہوئی دہشت گردی کی بدعت سے بچ پائیں۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: