ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

ہم بھی کسی سے کم نہیں! کرناٹک میں پی یو سی دوم کے امتحانات میں مسلم لڑکیوں کی شاندار کامیابی

ایک دینی مدرسہ کے سکریٹری کی بیٹی نے ریاستی سطح پر تیسرا مقام حاصل کیا ہے ۔ بنگلورو میں ایک عالم دین کی دختر نے امتیازی کامیابی حاصل کی ہے ۔ اس طرح کئی مسلم لڑکیوں نے ریکارڈ بنایا ہے۔

  • Share this:
ہم بھی کسی سے کم نہیں! کرناٹک میں پی یو سی دوم کے امتحانات میں مسلم لڑکیوں کی شاندار کامیابی
ہم بھی کسی سے کم نہیں! کرناٹک میں پی یو سی دوم کے امتحانات میں مسلم لڑکیوں کی شاندار کامیابی

کرناٹک میں حال ہی میں آئے پی یو سی دوم (12 ویں جماعت) کے مجموعی نتائج میں لڑکیوں کا پلڑا بھاری رہا ہے۔ سال 2020 کے نتائج میں لڑکیوں کی کامیابی کا فیصد 68.73 ہے جبکہ لڑکوں کی کامیابی کا فیصد صرف 54.77 رہا ہے ۔ مسابقت کے اس دور میں مسلم لڑکیوں نے اپنی کارکردگی سے یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ بھی کسی سے کم نہیں ہیں ۔ بنگلورو کے قریب واقع ٹمکور ضلع کو عصری تعلیم کا ایک بڑا مرکز سمجھا جاتا ہے۔ اس ضلع کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک مسلم لڑکی نے فرسٹ رینک حاصل کی ہے ۔ پی یو سی دوم ، سائنس شعبہ میں الماس بانو نے 99 فیصد مارکس حاصل کرتے ہوئے ریاستی سطح پر تیسرا اور  ٹمکور ضلع کے سطح پر پہلا مقام حاصل کیا ہے۔


الماس بانو کے والد ثناء اللہ کنیگل شہر کے مدرسہ نورالاسلام کے سکریٹری ہیں اور راشن کی دکان چلاتے ہیں ۔ الماس بانو کی کامیابی پر نہ صرف کنیگل شہر بلکہ پورے ٹمکور ضلع میں خوشی اور مسرت کا اظہار کیا جارہا ہے ۔ ٹمکور ضلع وقف مشاورتی کمیٹی کے صدر مشتاق احمد نے کہا کہ یہ پہلا موقع ہے کہ کسی  مسلم لڑکی نے ٹمکور ضلع کو ٹاپ کیا ہے ۔ الماس بانو نے کل 6 مضامین میں سے 4 سبجیکٹوں میں صد فیصد مارکس حاصل کئے ہیں ۔  کنڑا ، فزکس ، علم ریاضی ، بایولاجی میں 100 فیصد نمبرات حاصل کئے ہیں ۔ جبکہ کیمسٹری میں 99  اور انگریزی میں 95 نمبرات لے کر امتیازی کامیابی کا مظاہرہ کیا ہے ۔


دوسری جانب بنگلورو کے ایک عالم دین کی بیٹی نے سائنس کے شعبہ میں نمایاں کامیابی درج کی ہے ۔ مشہور دینی درسگاہ دارالعلوم سبیل الرشاد کے تحت قائم دارالقضا کے قاضی مولانا محمد ہارون رشادی کی دختر عفیفہ تسنیم نے 97 فیصد مارکس حاصل کئے ہیں ۔ ہدی نیشنل کالج کی طالبہ عفیفہ تسنیم نے فزکس میں 100 ، علم ریاضی اور اردو مضمون میں 99 مارکس حاصل کئے ہیں ۔ بنگلورو کے ایک چھوٹے تاجر نواز شریف کی بیٹی نے کامرس کے شعبہ میں ریاستی سطح پر 14 واں مقام حاصل کیا ہے ۔ نجلنگپا کالج کی طالبہ اقراء بانو کو سالانہ امتحان میں 97 فیصد نمبرات ملے ہیں۔ راجہ جی نگر میں مقیم نواز شریف کا خاندان تعلیمی طور پر انتہائی پسماندہ ہے۔ اب اس خاندان کی ایک رکن نے پہلی مرتبہ تعلیم کے میدان میں بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔


نیوز 18 اردو سے بات کرتے ہوئے اقراء بانو نے کہا کہ اساتذہ کی رہنمائی، گھر والوں کی حوصلہ افزائی، مسلسل پڑھائی سے انہیں یہ کامیابی ملی ہے۔ منڈیا ضلع کے پانڈو پورہ میں چنکرلی نامی دیہات کے افضل پاشاہ کی بیٹی نور فاطمہ نے پی یو سی دوم میں 96 فیصد نمبرات حاصل کئے ہیں۔ نور فاطمہ نے اپنی کالج میں پہلا مقام پا کر اپنے گھر اور دیہات کا نام روشن کیا ہے۔

اس طرح بنگلورو سمیت کرناٹک کے مختلف اضلاع میں کئی مسلم لڑکیوں نے سالانہ امتحانات میں 90 فیصد سے زائد مارکس لیکر نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔ ملت کی ان بیٹیوں کی شاندار کامیابی اس بات کی ضامن ہے کہ کرناٹک کے مسلم سماج میں تعلیم کا گراف بڑھ رہا ہے اور خاص طور پر مسلم خواتین تعلیم کے میدان میں آگے آرہی ہیں ۔

بنگلورو میں مسلم لڑکیوں کو اسکالرشپ دینے والی تنظیم " بزم نسواں" کی صدر حسنی شریف کہتی ہیں کہ ہر سال مسلم طالبات کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ صرف ایس ایس ایل سی اور  پی یو سی میں ہی نہیں ، ڈگری اور  مساٹر ڈگری کے کورسوں میں بھی مسلم طالبات کی تعداد بڑھ رہی ہے، جو ملک اور ملت کیلئے خوش آئند بات ہے ۔ بنگلورو کے ماہر تعلیم اور کیریئر  گائڈنس سے وابستہ امین مدثر کہتے ہیں کہ لڑکیوں کے ساتھ اب لڑکوں کی تعلیم کی جانب بھی خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ سالانہ امتحانات میں لڑکوں کی کامیابی کا فیصد کیوں گھٹ رہا ہے؟ اس پر بھی غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے ۔ پچھلے سال پی یو سی دوم میں لڑکوں کی کامیابی کا فیصد  55.29 تھا جو اس بار گھٹ کر 54.77 ہوا ہے۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jul 19, 2020 06:51 PM IST