உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کشمیر میں پارٹیاں بدلنے کا سلسلہ جاری، نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر عبدالرحیم راتھر کے فرزند پیپلز کانفرنس میں شامل

    اس موقع پر انھوں نے سجاد لون کی خوب تعریف کی لیکن جب اُن سے پوچھا گیا کہ کیا انھوں نے نیشنل کانفرنس میں شامل اپنے والد سے اس بارے میں مشورہ کیا تو انھوں نے کہا کہ انھوں نے ایسا نہیں کیا۔

    اس موقع پر انھوں نے سجاد لون کی خوب تعریف کی لیکن جب اُن سے پوچھا گیا کہ کیا انھوں نے نیشنل کانفرنس میں شامل اپنے والد سے اس بارے میں مشورہ کیا تو انھوں نے کہا کہ انھوں نے ایسا نہیں کیا۔

    اس موقع پر انھوں نے سجاد لون کی خوب تعریف کی لیکن جب اُن سے پوچھا گیا کہ کیا انھوں نے نیشنل کانفرنس میں شامل اپنے والد سے اس بارے میں مشورہ کیا تو انھوں نے کہا کہ انھوں نے ایسا نہیں کیا۔

    • Share this:
    جموں کشمیر کے سنئیر لیڈر عبدالرحیم راتھر کے فرزند ہلال احمد راتھر نے آج سرینگر میں جموں کشمیر پیپلز کانفرنس میں شمولیت اختیار کی۔ پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون نے آج سرینگر میں منعقد ایک تقریب کے دوران ہلال احمد راتھر کا پارٹی میں خیرمقدم کیا۔ اس موقع پر انھوں نے سجاد لون کی خوب تعریف کی لیکن جب اُن سے پوچھا گیا کہ کیا انھوں نے نیشنل کانفرنس میں شامل اپنے والد سے اس بارے میں مشورہ کیا تو انھوں نے کہا کہ انھوں نے ایسا نہیں کیا۔
    انھوں نے کہا کہ وہ اپنے والد کے کام کی عزت کرتے ہیں لیکن وہ اپنے فیصلے خود لیتے ہیں۔ واضح رہے کہ ہلال احمد راتھر پر مبینہ بینگ فراڈ کا ایک کیس بھی چل رہا ہے ۔ انکے والد عبد الرحیم راتھر نیشنل کانفرنس کے دور حکومت میں فینانس وزیر بھی رہ چکے ہیں۔ ایک دن قبل اُنکے بھی نیشنل کانفرنس چھوڑنے کی افواہ پھیلی تھی جس کو انھوں نے غلط قرار دیا۔ عبدالرحیم راتھر نیشنل کانفرنس کی اعلٰی سطحی کمیٹی کے رُکن بھی ہیں اور کئی لوگ اُنکے فرزند کی پیپلز کانفرنس میں شمولیت کو اُنکے لئے خِفت سے تعبیر کرتے ہیں۔
    ہلال احمد راتھر خود ایک صنعت کار ہیں ۔ پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون نے اس موقعہ پر کہا کہ ابھی کئی نئے لوگ اُنکی پارٹی میں شمولیت کے لئے قطار میں ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ اُنکی جماعت تبدیلی کی ایک سوچ لے کر آئی ہے اور اب کشمیر میں اب بڑی سیاسی طاقت رکھتی ہے جسے کوئی درکنار نہیں کرسکتا۔ سجاد غنی لون سے جب پوچھا گیا کہ اُنکے حریف یہ الزام لگا رہے ہیں کہ اُنھیں بی جے پی سرکار جموں کشمیر میں دفعہ 370کو مکمل طور دفن کرنے کے لئے استعمال کرے گی تو انھوں نے کہا کہ یہ الزام درست ہو ہی نہیں سکتا۔

    سجاد غنی لون کا کہنا ہے کہ اُنکے والد عبدالغنی لون نے کشمیر کا تشخص بحال رکھنے کے لئے عمر بھر لڑا ہے اور پہلے جیل اور پھر موت کا سامنا کیا۔ سجاد غنی لون نے کہا کہ اُنکی پارٹی یہ الزامات باقی لوگوں پر لگا سکتی ہے لیکن اُن پر یہ الزامات نہیں لگائے جاسکتے۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: