உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں وکشمیر: کلگام میں سیکورٹی اہلکاروں اور دہشت گردوں کے درمیان تصادم، دو عسکریت پسند پھنسے

    جموں وکشمیر: کلگام میں سیکورٹی اہلکاروں اور دہشت گردوں کے درمیان تصادم

    جموں وکشمیر: کلگام میں سیکورٹی اہلکاروں اور دہشت گردوں کے درمیان تصادم

    جموں وکشمیر (Kashmir) کے کلگام (Kulgam) ضلع کے ویس بٹپورہ علاقے میں پیر کے روز سیکورٹی اہلکاروں (security forces) اور دہشت گردوں کے درمیان تصادم شروع ہوگیا ہے۔ اس میں دو عسکریت پسندوں کے پھنسے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Kulgam, India
    • Share this:
      کلگام: جموں وکشمیر (Kashmir) کے کلگام (Kulgam) ضلع کے ویس بٹپورہ علاقے میں پیر کے روز سیکورٹی اہلکاروں (security forces) اور دہشت گردوں کے درمیان تصادم شروع ہوگیا ہے۔ اس میں دو عسکریت پسندوں کے پھنسے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ ایک دن پہلے ہی کپواڑہ میں ماچھل علاقے کے ایل او سی ٹیکری نر میں سیکورٹی اہلکاروں اور دہشت گردوں کے درمیان تصادم ہوا تھا، جس میں 2 دہشت گردوں کو مار گرایا تھا۔ ان سے اے کے -47، دو پستول اور چار ہینڈ گرینیڈ برآمد ہوئے تھے۔ اس کے بعد علاقے میں سرچ آپریشن چلایا جا رہا ہے۔

      پولیس کے ایک ترجمان نے کہا کہ جب سیکورٹی اہلکار ایک ٹھکانے کے قریب تھے، تب دہشت گردوں نے فائرنگ شروع کردی تھی۔ اس علاقے میں مشترکہ تلاشی مہم چلائی جارہی تھی۔ گزشتہ ماہ کشمیر کے کپواڑہ ضلع سے تین دہشت گردوں کو سیکورٹی اہلکاروں نے گرفتار کیا تھا۔ ان کے قبضے سے قابل اعتراض دستاویز اور گولہ بارود برآمد کیا گیا تھا۔ 14 ستمبر کو ہوئے انکاونٹر میں بھی 2 دہشت گردوں کو سیکورٹی اہلکاروں نے ہلاک کردیا گیا تھا۔ ان کی پہچان اعجاز رسول اور شاہد احمد کے طور پر ہوا تھا، غزوۃ الہند سے وابستہ تھے۔ ان پر الزام تھا کہ انہیں دونوں نے 2 ستمبر کو مغربی بنگال کے مزدور پر حملہ کیا تھا۔

      دو دو کے گروپ میں آرہے ہیں دہشت گرد

      کشمیر میں دراندازی کرنے والے دہشت گرد دو دو کی تعداد میں ہی تقسیم کرکے حملے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حالانکہ چوکنی فوج اور محتاط سیکورٹی اہلکاروں نے ان کے ناپاک منصوبوں پر پانی پھیر دیا ہے۔ کلگام میں کیموہ میں یوم آزادی سے پہلے حملہ ہوا تھا، جس میں ایک پولیس اہلکار شہید ہوا تھا۔ اس سال جموں وکشمیر میں 136 دہشت گردوں کو انکاونٹر میں ہلاک کردیا گیا ہے۔ ایسا خدشہ ہے کہ کشمیر میں ابھی تقریباً 150 دہشت گرد سرگرم ہیں، جس میں سے نصف سے زیادہ غیر ملکی ہیں۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: