اپنا ضلع منتخب کریں۔

    کشمیر محفوظ اور امن کی جگہ ہے، ایرانی سفارت خانے کے کلچرل کونسلر ڈاکٹر محمد علی ربانی کا بیان

    منعقدہ کانفرنس میں دہلی میں قائم ایرانی سفارت خانے کے کلچرل کونسلر ڈاکٹر محمد علی ربانی نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ اس کانفرنس میں وادی کشمیر اورہندوستان کے دیگر علماء نے بھی شرکت کی۔ پیپلز جسٹس فرنٹ کے چیئرمین آغا سید عباس رضوی بھی موجود رہے۔

    منعقدہ کانفرنس میں دہلی میں قائم ایرانی سفارت خانے کے کلچرل کونسلر ڈاکٹر محمد علی ربانی نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ اس کانفرنس میں وادی کشمیر اورہندوستان کے دیگر علماء نے بھی شرکت کی۔ پیپلز جسٹس فرنٹ کے چیئرمین آغا سید عباس رضوی بھی موجود رہے۔

    منعقدہ کانفرنس میں دہلی میں قائم ایرانی سفارت خانے کے کلچرل کونسلر ڈاکٹر محمد علی ربانی نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ اس کانفرنس میں وادی کشمیر اورہندوستان کے دیگر علماء نے بھی شرکت کی۔ پیپلز جسٹس فرنٹ کے چیئرمین آغا سید عباس رضوی بھی موجود رہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Jammu and Kashmir, India
    • Share this:
    شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ کے پٹن کے گنڈ خواجہ قاسم میں جموں وکشمیر پیپلز جسٹس فرنٹ کی جانب سے ایران اور بھارت کے مابین تہذیبی و وراثتی مشترکہ تعلقات کے عنوان سے ایک کانفرنس کا اہتمام کیاگیا۔ منعقدہ کانفرنس میں دہلی میں قائم ایرانی سفارت خانے کے کلچرل کونسلر ڈاکٹر محمد علی ربانی نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ اس کانفرنس میں وادی کشمیر اورہندوستان کے دیگر علماء نے بھی شرکت کی۔ پیپلز جسٹس فرنٹ کے چیئرمین آغا سید عباس رضوی بھی موجود رہے۔ کانفرنس میں علماء نے بھارت اور ایران کے درمیان تہذیبی و وراثتی مشترکہ تعلقات پر روشنی ڈالی۔

    ایرانی سفارت خانے کے کلچرل کونسلر ڈاکٹر محمد علی ربانی نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ قدیم دور سے ہی ایران اورہندوستان کے درمیان ہمیشہ بہتر تعلقات رہے ہیں اور مستقبل میں بھی دونوں ملکوں کے درمیان بہتر تعلقات رہیں گے۔ ان روابط اور تعلقات میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔ اپنے خطاب میں ربانی نے کہا،"ہندوستان میں رہ کر مجھے یہ محسوس ہوا کہ یہاں اہل تشیع محفوظ ہیں جیسا کہ کچھ ممالک میں انسان دشمنی کی تصویریں سامنے آتی ہیں تاہم اس کے برعکس ہندوستان کی انسان دوستی کا واضح ثبوت ہوتاہے۔ ہندوستان میں ہندؤں اور برہمن بھی شعیوں کے ساتھ عزاداری میں حصہ لیتے ہیں یہ مذہبی ہم آہنگی کی عمدہ مثال دنیا کے سامنے نظر آتی ہے"کشمیر سے متعلق ربانی نےکہاکہ یہاں آکر مجھے واقعی لگاکہ یہ محفوظ اور امن کی جگہ ہے یہاں دنیا کے مختلف کے لوگوں کو دیکھ کر بے حد خوشی ہوئی جو یہاں کی قدرتی خوبصورتی دیکھنے آتے ہیں۔

    انہوں نے ایران کے لوگوں کو کشمیر آنے کی گزارش کی تاکہ وہ بھی یہاں کی مہمان نوازی، قدرتی خوبصورتی سے لطف اندوز ہوسکیں۔ ربانی نے کہا،" خدا نے مجھے یہ بہت بڑی توفیق عطا کی کہ ہم سر زمین کشمیر پر تشریف فرما ہوئے اور آپ لوگوں کی محبت نصیب ہوئی میں رضوی صاحب کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے مجھے کشمیر آنے کی دعوت دی جیسا کہ یہاں کا رسم ورواج ،تمدن و ثقافت ایران کے ساتھ ملتی ہے"اپنے خطاب میں ربانی نے کہاکہ دوسرے ممالک میں انسان ،زبان اور مذہبی دشمنی کے کچھ معاملات رونما ہوتے ہیں جبکہ ہندوستان میں ایسا نہیں دیکھنے کو ملتا ہے۔ انہوں نے کہا،" آپ دیکھتے ہیں کہ دوسرے ممالک میں ایک دوسرے کے ساتھ کیسے رشتے پائے جاتے ہیں مگر ہر لحاظ سے جو مضبوط رشتہ ایران اور ہندوستان کے درمیان رہاہے تمدن اور فرہنگ کے لحاظ سے اس کی مثال دوسرے ممالک میں نہیں ملتی ہے۔ ہم نے جواج تک پڑھا ہے اس میں امتیاز کا درس نہیں دیا جاتا تھا کہ یہ شیعہ ہے یہ سنی ہے، سکھ ہے ،ہندو ہے بلکہ باہم رہ کر یہ درس دیاجاتا تھا"تعلیمی روابط سے متعلق ڈاکٹر ربانی نے اپنے خطاب میں ہندوستان کے علمی کمالات کی بھی ذکر کی انہوں نے کہا،" قبل از اسلام نیشاپور کے دانش گاہوں میں طب، نجوم ،فلسفہ اور دوسری تعلیم دی جاتی تھی اس میں ہندوستان سے ہی ماہرین وہاں کے لوگوں کو تعلیم کے نور سے منور کرتے تھے۔بعد از اسلام جن چار چیزوں پر توجہ مرکوز کی گئی ان میں عقل، عرفان ،خطبہ اہل بیت اور ادب واحترام جو ہندوستان اور کشمیر میں خاص پایا جاتاہے۔

    "کانفرنس میں آغا سید عباس رضوی نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہم کشمیری خوش قسمت ہیں کہ ہم ہندوستان میں رہ رہے ہیں جہاں مذہبی، مسلکی آزادی ہے جبکہ ہمسایہ ملک میں یہ آزادی نہیں ہے۔انہوں نے ایران اور ہندوستان کے باہمی تعلقات پر بھی روشنی ڈالی کہاکہ ہندوستان اور ایران ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ خوشی اور غم بلکہ ہر لحاظ سے پیش پیش رہیں۔ اس کے علاؤہ کانفرنس میں دیگر شخصیات نے بھی خطابات دئیے۔ ادھر سمینار سے قبل ڈاکٹر محمد علی ربانی نے سرینگر کے مضافات میں واقع ایچ ایم ٹی میں قائم جموں وکشمیر پیپلز جسٹس فرنٹ کے صدر دفتر کا افتتاح کیا اس موقع پر ڈاکٹر ربانی نے خوشی کا اظہار کیا اور آغا سید عباس رضوی کو مبارکباد پیش کی۔گنڈ خواجہ قاسم میں اس منعقدہ کانفرنس میں کافی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: