ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جنوبی کشمیر میں ملیٹنٹوں نے پولیس اہلکار پر کردی فائرنگ، عبدالرشید ڈار نامی پولیس اہلکار شہید

جنوبی کشمیر میں ملیٹنٹوں کی جانب سے پولیس اہلکاروں پر تازہ حملے کے دوران ایک پولیس اہلکار کی موت واقع ہوگئی ہے۔ متوفی کی شناخت عبدالرشید ڈار عرف خورشید عالم کے طور پر ہوئی ہے۔ شدید طور پر زخمی ہونے پر انہیں اننت ناگ کے گورنمنٹ میڈیکل کالج پہنچایا گیا۔ تاہم اسپتال پہنچنے پر ڈاکٹروں نے مردہ قرار دے دیا۔

  • Share this:
جنوبی کشمیر میں ملیٹنٹوں نے پولیس اہلکار پر کردی فائرنگ، عبدالرشید ڈار نامی پولیس اہلکار شہید
علامتی تصویر

اننت ناگ: جنوبی کشمیر میں ملیٹنٹوں کی جانب سے پولیس اہلکاروں پر تازہ حملے کے دوران ایک پولیس اہلکار کی موت واقع ہوگئی ہے۔ متوفی کی شناخت عبدالرشید ڈار عرف خورشید عالم کے طور پر ہوئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق ڈار پر نامعلوم ملیٹینٹوں نے اپنے ہی گھر کے نزدیک کافی قریب سے گولیاں چلائیں، جس کے نتیجے میں وہ شدید طور پر زخمی ہوگیا۔ گرچہ انہیں اننت ناگ کے گورنمنٹ میڈیکل کالج پہنچایا گیا۔ تاہم اسپتال پہنچنے پر ڈاکٹروں نے ڈار کو مردہ قرار دے دیا۔ واقعہ کے فوراً بعد سیکورٹی فورسز نے پورے علاقے کو محاصرے میں لےلیا اور مفرور حملہ آور ملیٹینٹوں کہ تلاش شروع کر دی ہے۔


ذرائع کے مطابق ڈار سابق اخوان کمانڈر رہے ہیں، جس کے بعد وہ جموں کشمیر پولیس میں بھرتی ہوگیا تھا اور اس دوران انہوں نے جموں کشمیر کے کئی علاقوں میں اپنے فرائض انجام دیئے ہیں۔ واضح رہے کہ گزشتہ برسوں میں جنوبی کشمیر میں ملیٹنٹوں کی جانب سے پولیس اہلکاروں پر لگاتار حملے کئے جا رہے ہیں اور اب تک کئی پولیس اہلکاروں نے اس طرح کے ملیٹینٹ حملوں میں اپنی جانیں گنوا دی ہیں۔ ان حملوں کے بعد گرچہ محکمہ پولیس نے  پولیس اہلکاروں کے گھروں کو لوٹنے کے لئے باضابطہ طور پر ایک ایس او پی وضع کیا ہے، لیکن اکثر اس طرح کے قواعد و ضوابط کے باوجود بھی پولیس اہلکاروں کو ملیٹینٹوں کی گولیوں کا نشانہ بننا پڑتا ہے۔


دوسری جانب پولیس نے دیگر سیکورٹی ایجنسیوں کے اشتراک سے ان حملوں کو روکنے کے لیے ایک مشترکہ حکمت عملی بھی وضع کی ہے، لیکن اس کے باوجود بھی جنوبی کشمیر میں اس طرح کے حملے جاری ہیں جبکہ کئی بار انکاؤنٹرس میں مارے گئے ملیٹینٹوں کی ایک بڑی تعداد کو پولیس نے اس طرح کے حملوں میں ملوث ہونے کا دعویٰ کیا ہے، لیکن ملیٹینٹوں کی اتنی بڑی تعداد میں ہلاکتوں کے باوجود بھی تاحال اس طرح کے حملوں کو روکنے کے لئے کوئی بھی حکمت عملی کارگر ثابت نہیں ہوپا رہی ہے۔

Published by: Nisar Ahmad
First published: Jul 22, 2020 11:12 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading