ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

امریکہ میں اقتدار اور نئی دہلی کے رویے میں تبدیلی جموں و کشمیر کیلئے معنی خیز : محبوبہ مفتی

محبوبہ مفتی نے کہا کہ پوری دنیا میں اس وقت حالات بدل رہے ہیں اور ایسے میں دہلی سرکار نے چین اور پاکستان کے ساتھ رشتوں کو سدھارنے کیلئے جو پہل کی ہے ، اس کا وہ کھلے دل سے خیر مقدم کرتی ہیں ۔

  • Share this:
امریکہ میں اقتدار اور نئی دہلی کے رویے میں تبدیلی جموں و کشمیر کیلئے معنی خیز : محبوبہ مفتی
امریکہ میں اقتدار اور نئی دہلی کے رویے میں تبدیلی جموں و کشمیر کیلئے معنی خیز : محبوبہ مفتی

جموں و کشمیر: پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلی محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ امریکہ میں اقتدار کی تبدیلی اور نئی دلی کے رویے میں بدلاو کے مثبت نتائج برآمد ہوئے ہیں ۔ اننت ناگ میں پارٹی کارکنوں کے ایک اجلاس سے خطاب کے بعد محبوبہ مفتی نے کہا کہ جہاں ایک طرف چین کے ساتھ حالات سنبھل رہے ہیں تو وہیں پاکستان کے ساتھ جنگ بندی کا اثر براہ راست جموں و کشمیر پر پڑ رہا ہے ۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ سارک میٹنگ میں وزیراعظم کشمیر مسئلہ پر بھی مثبت رد عمل دکھائیں گے۔


محبوبہ مفتی نے کہا کہ پوری دنیا میں اس وقت حالات بدل رہے ہیں اور ایسے میں دہلی سرکار نے چین اور پاکستان کے ساتھ رشتوں کو سدھارنے کیلئے جو پہل کی ہے ، اس کا وہ کھلے دل سے خیر مقدم کرتی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ انہیں امید ہے پاکستان کے ساتھ جنگ بندی کے فیصلہ کے بعد اب نئے سرے سے ہمسایہ ممالک کے درمیان سیاسی سطح کے مذاکرات شروع ہوں گے ۔ جبکہ آنے والی مجوزہ سارک کانفرنس اگر پاکستان میں منعقد ہوتی ہے ، تو انہیں امید ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی وہاں پر کشمیر کی بات کریں گے۔


محبوبہ مفتی نے مزید کہا کہ کشمیر اب بھی ایک مسئلہ ہے اور اس مسئلہ کے دائمی حل کیلئے جموں و کشمیر کے لوگوں کو شامل کرنا وقت کی اشد ضرورت ہے اور اس مسئلے کے حل کیلئے سہ فریقی بات چیت کا آغاز ہونا چاہئے ۔ نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ خطے میں قیام امن کیلئے کشمیر میں دیر پا امن کی ضرورت ہے ۔


کسانوں کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کسانوں کے احتجاج سے ہر کسی کو ایک سبق ملا ہے کہ پرامن طریقہ کار وضع کرنے سے اپنی بات رکھی جا سکتی ہے ، اس سے پوری دنیا آپ کی وکالت کیلئے آٹھ کھڑی ہوگی ۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ جس طرح سے جموں و کشمیر کے حالات بنے ہیں ، ایسے میں ہند وپاک وزرائے اعظم کے پاس مسئلہ کشمیر پر بات کرنے کے بغیر کوئی اور چارا نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح سے اٹل بہاری واجپئی نے پرویز مشرف کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کیا تھا ، اسی طریقہ سے پاکستان کے وزیراعظم عمران خان سے بھی بات کرنے کی ضرورت ہے۔

اس موقع پر پارٹی کے سینئر لیڈر و سابق وزیر عبدالرحمان ویری ، ایڈوکیٹ شیخ جاوید سمیت پارٹی کے دیگر لیڈران بھی موجود تھے ۔ محبوبہ مفتی نے پارٹی کارکنوں پر پارٹی کو مزید مضبوط بنانے اور وسعت دینے میں اپنا کلیدی رول ادا کرنے کی تلقین کی ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Mar 02, 2021 09:56 PM IST