ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

کورونا وائرس کے قہر نے امیدوں پر پھیرا پانی ، میلہ ماتا کھیر بھوانی میں شرکت نہیں کر سکے کشمیری پنڈت

میلہ کھیر بھوانی کا ذکر کرتے ہوئے شیلہ رینہ کا کہنا ہے کہ وہ ہفتہ بھر کا پلان مرتب کرتے ہوئے ایسے استھاپنوں پر حاضری دیتی تھیں ، جبکہ یہاں عقیدت مندوں کی بھیڑ جمع رہتی تھی ۔ اب انہیں امید ہے کہ اس وبا سے نجات ملتے ہی وہ درشن کے لیے روانہ ہوں گی ۔

  • Share this:
کورونا وائرس کے قہر  نے امیدوں پر پھیرا پانی ، میلہ ماتا کھیر بھوانی میں شرکت نہیں کر سکے کشمیری پنڈت
کورونا وائرس کے قہر نے امیدوں پر پھیرا پانی ، میلہ ماتا کھیر بھوانی میں شرکت نہیں کر سکے کشمیری پنڈت

ظہور رضوی


کولگام : 72 سالہ شیلہ رینہ ساکنہ کوکرناگ حال جموں کی خواہش تھی کہ وہ وادی کشمیر کے ضلع کولگام میں واقع ماتا کھیر بھوانی منزگام اور ماتا ترپور سندری ، کھن برنن دیوسر کے استھاپنوں کی زیارت کرے اور یہاں حاضری دینے کے علاوہ پوجا پاٹ میں حصہ لے ۔ تاہم قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا اور موجودہ کورونا وائرس کے قہر نے شیلہ رینہ کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ۔ شیلہ رینہ کے مطابق وہ مائیگریشن سے قبل ان استھاپنوں پر حاضری دے چُکی تھیں ۔ تاہم اس مرتبہ خواہش دوبارہ ظاہر کی ، مگر یہ سب ممکن نہ ہو سکا ۔ میلہ کھیر بھوانی کا ذکر کرتے ہوئے شیلہ رینہ کا کہنا ہے کہ وہ ہفتہ بھر کا پلان مرتب کرتے ہوئے ایسے استھاپنوں پر حاضری دیتی تھیں ، جبکہ یہاں عقیدت مندوں کی بھیڑ جمع رہتی تھی ۔ اب انہیں امید ہے کہ اس وبا سے نجات ملتے ہی وہ درشن کے لیے روانہ ہوں گی ۔


ادھر ملک میں کوروناوایرس کے قہر سے نہ صرف انسانی جانیں تلف ہورہی ہیں ، بلکہ لاکھوں لوگ اس وائرس کے شکار ہوگئے ہیں اور اس طرح پورے ملک میں عام زندگی متاثر ہے ۔ جبکہ مذہبی اور روایتی تہوار منانے پر بھی روک ہے ۔ وادی کشمیر میں بھی روایتی مذہبی تہواروں کو منانے میں پریشانیوں کا سامنا ہے اور مذہبی رسومات انجام دینے والے افراد گھروں میں ہی محصور ہیں ۔ میلہ ماتا کھیر بھوانی کے تہوار کو منانے کے لیے ہر سال ایسے استھاپنوں میں عقیدت مندوں کا تانتا بندھا رہتا تھا ۔ تاہم اس سال استھاپن پر چند ہی لوگ پوجا ارچنا کرتے ہوے دیکھے گیے ۔


میلہ ماتا کھیر بھوانی کے تہوار کو منانے کے لیے ہر سال ایسے استھاپنوں میں عقیدت مندوں کا تانتا بندھا رہتا تھا ۔
میلہ ماتا کھیر بھوانی کے تہوار کو منانے کے لیے ہر سال ایسے استھاپنوں میں عقیدت مندوں کا تانتا بندھا رہتا تھا ۔


ویسو مائیگرنٹ کیمپ کے صدر سنی رینہ کے مطابق روایتی کشمیری بھائی چارے کی مثال دیکھنے کو ملتی تھی اور کمشیری پنڈتوں کی مائیگریشن کے بعد استھاپن پر مقامی مسلمان ہی پوجا کے سامان اور دیگر اشیا کا انتظام کرتے تھے ۔ سنی کے مطابق کورونا کے قہر نے اس مرتبہ میلہ کھیر بھوانی کی تقریبات کو محدود کر دیا اور وہ اپنے اہل خانہ سمیت استھاپن پر حاضری نہیں دے پائے ۔ تاہم کشمیری پنڈتوں کے ٹرانسٹ کیمپ واقع ویسو قاضی گنڈ میں سادہ تقریب کا اہتمام عمل میں لایا گیا ۔  کشمیری پنڈت ، انل کول اور اس کے اہل خانہ نے ماتا تر پور سُندری واقع دیوسر کولگام میں حاضری دی ۔

انل کے مطابق انہوں نے چند دوستوں کے ہمراہ مندر اور استھاپن پر حاضری دی اور یہاں پوجا پاٹ کی ۔ تاہم انل کے مطابق جہاں ہر سال ہزاروں عقیدت مند استھاپن کا رُخ کرتے تھے وہیں آج استھاپن میں خاموشی چھائی ہوئی تھی ۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ وبا کے خاتمہ کے بعد ہی کشمیری پنڈت ایک بار پھر ماتا رانی کے درشن کے لیے حاضر ہوں گے۔
First published: May 31, 2020 05:31 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading