உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کشمیر پولیس نے غریب بزرگ کی لوٹائی مسکان ، ایس ایس پی نے اپنی جیب سے دئے ایک لاکھ روپے

    کشمیر پولیس نے غریب بُزرگ کی لوٹائی مسکان ، ایس ایس پی نے اپنی جیب سے دئے ایک لاکھ روپے

    کشمیر پولیس نے غریب بُزرگ کی لوٹائی مسکان ، ایس ایس پی نے اپنی جیب سے دئے ایک لاکھ روپے

    Jammu and Kashmir News : سرینگر میں ایک 90 سالہ چنے بیچنے والے کو اُس وقت راحت ملی جب ایس ایس پی سرینگر سندیپ چودھری نے اُسے ایک لاکھ روپے دیا جو چور اُس سے لُوٹ کر لے گئے تھے۔ 

    • Share this:
    سری نگر : ایس ایس پی سرینگر سندیپ چودھری نے بہوری کدل سرینگر کے ایک شخص کو ایک لاکھ روپے اپنی جیب سے دے کر ایک نئی مثال قائم کی ہے ، جس کے یہاں اس رقم کی چوری ہوئی تھی  ۔ برسوں سے بہوری کدل سرینگر میں چنے بیچ کر اپنا پیٹ پالنے والے نوے سالہ عبد الرحمان کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے کفن دفن کے لئے برسوں سے یہ رقم جمع کی تھی لیکن چور نے رات میں گھر میں گُھس کر یہ رقم لُوٹ لی۔ عبد الرحمان کے مطابق  جو روپے اُس نے کفن دفن کے لئے جمع کئے تھے وہ چور لُوٹ کر لے گئے۔  پولیس نے چوری کا  کیس درج کیا ، لیکن جب یہ خبر ایس ایس پی سرینگر تک پہنچی تو انھوں نے چور کا پتہ لگانے اور رقم برآمد کرنے تک اپنی جیب سے عبد الرحمان کو ایک لاکھ روپے دینے کا فیصلہ کیا۔

    عبد الرحمان اب کافی خوش ہیں ۔ کہتے ہیں کہ چور نے اُسے زخمی بھی کیا ، لیکن آج پولیس نے اُن زخموں کا درد کم کر دیا ہے۔ عبد الرحمان بزرگ ہونے کی ساتھ ساتھ قوت گویائی اور بینائی سے بھی کمزور ہیں ، لیکن اس کے باوجود کبھی کسی پر بوجھ نہیں بنے ۔ والدین کے انتقال کے بعد انھوں نے بچپن سے ہی محنت و مشقت کر کے دو بہنوں کی کفالت کی اور اُن کی شادی بھی کروائی ، لیکن اس ذمہ داری کی وجہ سے خود شادی نہیں کرپائے۔

    مقامی لوگ پولیس کی اس مثالی کارروائی کی سراہنا کر رہے ہیں ۔ محمد اسلم نامی ایک مقامی شخص نے بتایا کہ ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ پولیس نے چور کو پکڑنے سے پہلے کسی کا روپے لوٹایا ہو۔ اُن کے مطابق یہ اپنی ذمہ داری کا احساس ہے اور ہم ایسے پولیس افسران کو سلام پیش کرتے ہیں۔

    عبد الرحمان جیسے شخص سماج کے لئے خود ایک مثال ہیں ، جو اس عمر میں بھی خود محنت کرکے عزت کی روٹی کما کر کھاتے ہیں اور سرینگر پولیس نے اس کی مدد کرکے ذمہ داری کے احساس کی ایک قابل تقلید مثال قائم کی ہے ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: