ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

دفعہ 370کی منسوخی کے بعد بند پڑی پلوامہ کی فروٹ منڈی میں دوبارہ کاروبار شروع کرنے کا پروگرام 

کورونا وائرس کے سبب منڈی میں ایس او پی کو مدنظر رکھتے ہوئے سوشل ڈسٹینسنگ اور باقی احتیاطی تدابیر کو اپنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے

  • Share this:
دفعہ 370کی منسوخی کے بعد بند پڑی پلوامہ کی فروٹ منڈی میں دوبارہ کاروبار شروع کرنے کا پروگرام 
دفعہ 370کی منسوخی کے بعد بند پڑی پلوامہ کی فروٹ منڈی میں کاروبار شروع کرنے کا پروگرام

وادی کشمیر کو قُدرتی خوبصورتی کے علاوہ یہاں کے ذائقہ دار میوہ جات کے لیے بھی جانا جاتا ہے۔ گُذشتہ سال سے یہاں پر کاشت ہونے والے مختلف میوہ جات کی مارکٹنگ میں کافی مشکلات پیش آئی۔ رواں برس جہاں کاشتکاروں کو بہتر مارکیٹ ہونے کی اُمید تھی۔ تاہم وہاں کورونا وائرس کے سبب دوسرے کاروبار کے ساتھ ساتھ میوے کا کاروبار بھی متاثر ہوا۔


اگست ماہ سے وادی کے دیگر حصوں کی طرح ہی ضلع پلوامہ میں بھی ناشپاتی اور سیب کی کُچھ اقسام کے میوہ جات کو اُتارنے کا کام شروع ہو گا۔ اس سلسلے میں پلوامہ میں موجود فروٹ منڈی کو دوبارہ چالو کرنے کا بھی فیصلہ لیا گیا ہے ۔ گُذشتہ سال منڈی کو دفعہ 370 کی منسوخی کی وجہ سے بند رکھا گیا تھا۔ اس بار کورونا کی وجہ سے اب تک منڈی نہیں کھولی گئی تھی۔ تاہم اب متحلقہ محکمہ اور پلوامہ فروٹ گروورس کی جانب سے لیے گیے مشترکہ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اگست کے پہلے ہفتے سے منڈی میں کاروباری سرگرمیاں بحال کی جائیں گی۔


کورونا وائرس کے سبب منڈی میں ایس او پی کو مدنظر رکھتے ہوئے سوشل ڈسٹینسنگ اور باقی احتیاطی تدابیر کو اپنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس پر ہارٹی کلچر مارکٹنگ محکمہ اور فروٹ گروورس کی جانب سے تیاریوں کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ ضلع پلوامہ کو زرعی اور باغبانی شعبوں میں کیلدی اہمیت حاصل ہے ۔ یہاں کی معیشت میں باغبانی شعبہ کا کافی اہم رول ہے۔ پلوامہ میں سیب کے علاوہ ناشپاتی اور دیگر میوہ جات کی پیداوار ہوتی ہے۔ اس سال اب کاشتکاروں کو اُمید ہے کہ فصل بہتر ہونے کے ساتھ ہی رواں سال مارکٹ کی سہولیات بہتر رہے گی جس کے باعث گُذشتہ سال سے پلوامہ کے میوہ کاشتکاروں کو ہوئے نُقصان کی کُچھ حدتک تلافی ہو سکے گی۔


 
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Jul 28, 2020 08:30 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading