உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کشمیر میں برفانی قہر جاری، اننت ناگ کالج کا آڈیٹوریم برف کی وجہ سے ہوا زمین بوس، ڈی سی نے تحقیقات کے لئے کمیٹی تشکیل دی

    کشمیر میں برفانی قہر جاری، اننت ناگ کالج کا آڈیٹوریم برف کی وجہ سے ہوا زمین بوس

    کشمیر میں برفانی قہر جاری، اننت ناگ کالج کا آڈیٹوریم برف کی وجہ سے ہوا زمین بوس

    جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں قائم بوائز ڈگری کالج کا آڈیٹوریم برف کی زد میں آکر لگ بھگ مکمل طور پر زمین بوس ہوگیا۔ تفصیلات کے مطابق یہ حادثہ آڈیٹوریم کی چھت پر برف جمنے کی وجہ سے پیش آیا اور اس دوران آڈیٹوریم کی چھت گر کر پورے آڈیٹوریم کو تباہ کر گئی۔ اس حادثے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے کیونکہ اس وقت آڈیٹوریم میں کوئی بھی موجود نہیں تھا، لیکن اس حادثے میں آڈیٹوریم کو کروڑوں روپیوں کا نقصان پہنچا ہے۔

    • Share this:
    اننت ناگ: وادی کشمیر میں جہاں بھاری برف کی وجہ سے پیدا شدہ صورتحال سے عام زندگی مسلسل پٹری کے نیچے ہے۔ وہیں اب برفانی قہر سے نجی و سرکاری املاک کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔ اسی طرح کا ایک تازہ واقعہ جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں قائم بوائز ڈگری کالج کا آڈیٹوریم برف کی زد میں آکر لگ بھگ مکمل طور پر زمین بوس ہوگیا۔ تفصیلات کے مطابق یہ حادثہ آڈیٹوریم کی چھت پر برف جمنے کی وجہ سے پیش آیا اور اس دوران آڈیٹوریم کی چھت گر کر پورے آڈیٹوریم کو تباہ کر گئی۔ اس حادثے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے کیونکہ اس وقت آڈیٹوریم میں کوئی بھی موجود نہیں تھا، لیکن اس حادثے میں آڈیٹوریم کو کروڑوں روپیوں کا نقصان پہنچا ہے۔ جبکہ آڈیٹوریم کا فرنیچر، ایل ای ڈیز اور دیگر ساز و سامان بھی مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔

    واقعہ کے فوراً بعد ڈی سی اننت ناگ کلدیپ کرشن سدھا و دیگر افسران جائے واردات پر پہنچ گئے اور حالات کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر ڈی سی اننت ناگ نے کہا کہ انتہائی اہمیت کا حامل اس آڈیٹوریم کے اس طرح گرنے کا انتظامیہ نے سنگین نوٹس لیا ہے اور اس کی ہر زاویہ سے تحقیقات کے احکامات صادر کیے گئے ہیں۔ ڈی سی نے مزید کہا کہ اس کی تحقیقات کے لیے ایڈیشنل ڈی سی کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جو 15 دنوں کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرکے اس بات کا پتہ لگائے گی کہ اس حادثے کے پیچھے کون سی وجوہات کارفرما ہیں۔ ڈی سی نے کہا کہ اگر اس کی تعمیر میں کوتاہی ہوئی ہے تو کوتاہیوں میں ذمہ دار یا ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا اور ان کو قانون کے شکنجے میں ضرور جکڑا جائے گا۔
    واضح رہے کہ اس آڈیٹوریم کی تعمیر سال 2015 میں مکمل کی گئی تھی اور اس وقت کے جموں وکشمیر کے وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید نے اس آڈیٹوریم کا افتتاح کیا تھا۔ اس آڈیٹوریم کے تعمیر ہونے سے جنوبی کشمیر کے طالب علموں کی ایک دیرینہ مانگ پوری ہوئی تھی کیونکہ 7 کروڑ روپئے کی لاگت سے تعمیر کئے گئے اس آڈیٹوریم کو ہائی ٹیک طرز پر تعمیر کیا گیا تھا۔ اس آڈیٹوریم کی تعمیر کا کام سرکاری ایجنسی آر اینڈ بی کی نگرانی میں ایک نجی ٹھیکدار کی جانب سے تمام قواعد و ضوابط پُر کرکے ٹینڈرنگ کے ذریعے سپرد کیا گیا تھا، لیکن اتنی مضبوط تعمیر اور مضبوط چھت تعمیر ہونے کے باوجود بھی یہ عمارت برف کے بوجھ تلے تاش کے پتوں کی طرح بکھر گئی اور کئی سوالات کو جنم دے گئی۔ واضح رہے کہ بوائز ڈگری کالج اننت ناگ سال 1950 میں قائم کیا گیا ہے اور اس کالج سے جموں کشمیر کے بڑے سیاست دان اور دیگر شخصیات نے تعلیم حاصل کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کالج کا شمار جموں وکشمیر کے اہم ترین تعلیمی اداروں میں ہوتا ہے۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: