உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کشمیر میں غیر مقامی مزدوروں پر 24 گھنٹوں کے اندر دیشت گردوں نےکیا تیسرا حملہ، گزشتہ 11 دنوں میں 9 لوگوں کا قتل

    Youtube Video

    Kashmir Terror Attack Bihar Labour: ہشت گردی کے اس واقعے (Terrorist Attack) میں دو غیر مقامی افراد ہلاک اور ایک زخمی ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس اور سکیورٹی فورسز نے علاقے کا محاصرہ کرلیا ہے۔

    • Share this:
      سرینگر: جموں و کشمیر میں فوج کی کارروائی سے بوکھلائے دہشت گردوں نے اتوار کے روز ضلع کولگام میں دو غیر مقامی مزدوروں کو گولی مار کر ہلاک اور ایک کو زخمی کردیا۔ تینوں مزدور بہار کے رہنے والے ہیں۔ اس دہشت گردانہ حملے میں راجہ ریشی دیو اور جوگندر ریشی دیو کی موت ہو گئی جبکہ ایک مزدور شدید طور پر زخمی ہوا ہے۔
      قابل ذکر ہے کہ جموں و کشمیر میں تقریبا 24 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں غیر مقامی مزدوروں پر یہ تیسرا حملہ ہے۔ بہار سے تعلق رکھنے والے گلی کوچوں کے دکاندار اروند کمار اور اترپردیش کے بڑھئی صغیر احمد کا سنیچر کی شام دہشت گردوں نے گولی مار کر قتل کردیا۔
      دہشت گردوں نے غیر مقامی مزدوروں پر اندھا دھند کی فائرنگ
      کشمیر زون پولیس Kashmir Zone Police نے اپنے ٹویٹر ہینڈل پر کہا ، "دہشت گردوں نے کولگام کے وانپوہ علاقے میں غیر مقامی مزدوروں پر اندھا دھند فائرنگ کی۔ دہشت گردی کے اس واقعے (Terrorist Attack) میں دو غیر مقامی افراد ہلاک اور ایک زخمی ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس اور سکیورٹی فورسز نے علاقے کا محاصرہ کرلیا ہے۔ افسران کے مطابق دہشت گرد مزدوروں کے کرائے کے مکان میں داخل ہوئے اور ان پر اندھا دھند گولیاں برسائیں۔


      دہشت گردانہ حملوں  (Terrorist Attack) میں پچھلے 11 دنوں میں 9 افراد ہلاک 
      واضح ہو کہ 6 اکتوبر کے بعد سے  وادی میں کئی شہری ہلاک ہوئے ہیں  خاص طور پر وہ لوگ جو ریاست سے باہر کے ہیں۔ گزشتہ 11 دنوں کے دوران اب تک نو شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔

      6 اکتوبر سے کشمیر میں شہریوں کے قتل کا سلسلہ جاری ہے۔ 6 اکتوبر کو دہشت گردوں نے معروف فارمیسی مالک ایم ایل بندرو ، ایک غیر مقامی اسٹریٹ وینڈر اور ایک ٹیکسی ڈرائیور کا قتل کر دیا تھا۔ ٹھیک اسی کے دو دن بعد دہشت گردوں نے سرینگر شہر کے عیدگاہ علاقے میں اسکول کی پرنسپل سپندر کور اور ٹیچر دیپک شرما کو گولی مار کر ہلاک کردیا۔

       

       
      Published by:Sana Naeem
      First published: