ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

سرینگر ۔جموں قومی شاہراہ کے بند ہونے سے وادی کشمیر کی میوہ صنعت کو بھاری مالی نُقصان کا سامنا

رواں برس بھی حال ہی میں وادی کی دیگر فروٹ منڈیوں کی طرح ہی ضلع پلوامہ کی میگا فروٹ منڈی میں بھی سیب اور ناشپاتی کا کاروبار تقریبا ڈیڑھ سال کے بعد شروع ہوا ۔ لیکن سرینگر جموں قومی شاہراہ کے بند ہونے سے پلوامہ کی فروٹ منڈی میں بھی میوے کا کاروبار کافی متاثر ہوا ہے۔

  • Share this:
سرینگر ۔جموں قومی شاہراہ کے بند ہونے سے وادی کشمیر کی میوہ صنعت کو بھاری مالی نُقصان کا سامنا
سرینگر ۔جموں قومی شاہراہ کے بند ہونے سے وادی کشمیر کی میوہ صنعت کو بھاری مالی نُقصان کا سامنا

پلوامہ۔ وادی کشمیر کی معیشت میں باغبانی شعبے کا کلیدی رول مانا جاتا ہے۔ بہار کی آمد کے ساتھ ہی مختلف میوہ جات تیار ہونا بھی شروع ہوجاتے ہیں۔آجکل سیب اور دیگر میوہ جات کے تیار ہونے کے ساتھ ہی یہاں کی فروٹ منڈیوں میں میوے کا کاروبار شروع ہوا ہے ۔ وادی کشمیر کے ذائقہ دار میوہ جات کو ملک کی مختلف فروٹ منڈیوں تک پہنچانا لازم بن جاتا ہے ۔ لیکن ہرسال سرینگر جموں قومی شاہراہ کے بند ہونے سے یہاں کے میوہ کاشتکاروں کو بھاری مالی نُقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔


رواں برس بھی حال ہی میں وادی کی دیگر فروٹ منڈیوں کی طرح ہی ضلع پلوامہ کی میگا فروٹ منڈی میں بھی سیب اور ناشپاتی کا کاروبار تقریبا ڈیڑھ سال کے بعد شروع ہوا ۔ لیکن سرینگر جموں قومی شاہراہ کے بند ہونے سے پلوامہ کی فروٹ منڈی میں بھی میوے کا کاروبار کافی متاثر ہوا ہے ۔ گُذشتہ سال مارچ ماہ سے لیکر مئی تک سرینگر جموں قومی شاہراہ میں پسیاں آنے سے شاہراہ کئی روز تک بند رہی جس کے سبب کولڈ اسٹوریج سے نکالی گئی سیب کی بھاری مقدار بیرونی منڈیوں تک نہ پہنچنے کی وجہ سے ضائع ہو گئی۔ میوہ کاشتکار محمد امین گنایی کا کہنا ہے کہ گُذشتہ سال دفعہ  370 کی منسوخی کے بعد پلوامہ کی فروٹ منڈی میں کاروبار متاثر ہوا تھا ۔ اس بار کاروبار دوبارہ شروع ہونے سے کاشتکاروں کو کافیامیدیں وابستہ تھیں۔ لیکن قومی شاہراہ کے بند ہونے سے اُن کا میوہ ملک کی بیرونی منڈیوں میں پہنچنے سے پہلے ہی خراب ہوجاتا ہے جس کے سبب اُنہیں مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔


فروٹ ایسوسی ایشن پلوامہ کے صدر عبدالحمید ملک کا کہنا ہے کہ ہرسال اُنہیں شاہراہ کے بند ہونے سے بھاری مالی نُقصان کا سامنا ہے ۔ تاہم اُن کا مطالبہ ہے کہ سرینگر جموں قومی شاہراہ کے لیے متبادل بنائے گئے تاریخی مغل روڈ پر توجہ دینے کی ضرورت ہے اور اسے بنا خلل میوے اور ضروری اشیا کے لیے کھُلا رکھنے کی ضرورت ہے۔ حالیہ دنوں ہوئی مُسلسل بارشوں سے سرینگر جموں قوی شاہراہ پر رامبن سے لیکر بانیہال تک کئی جگہوں پر چٹانیں کھسکنے کی وجہ سے شاہراہ کئی روز سے بند ہے ۔ شاہراہ وادی کشمیر کے لیے لائف لائن مانی جاتی ہے ۔ بند ہونے سے وادی میں سیب کی فصل منڈیوں تک پہنچنے سے قبل نہ صرف خراب ہوتی ہے ۔ بلکہ وادی کشمیر میں ضروری اشیا کی بھی کافی قلت پائی جاتی ہے۔

Published by: Nadeem Ahmad
First published: Aug 27, 2020 07:02 PM IST