ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

وادی کشمیر میں اخروٹ کے درختوں سے اخروٹ اتارنے کو لیکر باغبانی سے جڑے کاشت کاروں میں نظر آئی فکر

سال رواں کے دوران بھی وادی کے قرب و جوار میں کچھ مزدور اخروٹ اتارنے کے دوران درختوں سے گر گئے جن میں سے بعض کی موت واقع ہوئی جبکہ بعض اسپتالوں میں پڑے ہوئے ہیں۔ لوگوں کا کہنا کہ جس طرح فصل کٹائی اور دیگر کاموں کے لئے مشینوں کو استعمال کیا جا رہا ہے نئی نئی مشینیں متعارف کئے جارہے ہیں ۔ اسی طرح اس کام کی انجام دہی کے لئے بھی کسی مشین کو متعارف کیا جانا چاہئے۔

  • Share this:
وادی کشمیر میں اخروٹ کے درختوں سے اخروٹ اتارنے کو لیکر باغبانی سے جڑے کاشت کاروں میں نظر آئی فکر
سال رواں کے دوران بھی وادی کے قرب و جوار میں کچھ مزدور اخروٹ اتارنے کے دوران درختوں سے گر گئے جن میں سے بعض کی موت واقع ہوئی جبکہ بعض اسپتالوں میں پڑے ہوئے ہیں۔ لوگوں کا کہنا کہ جس طرح فصل کٹائی اور دیگر کاموں کے لئے مشینوں کو استعمال کیا جا رہا ہے نئی نئی مشینیں متعارف کئے جارہے ہیں ۔ اسی طرح اس کام کی انجام دہی کے لئے بھی کسی مشین کو متعارف کیا جانا چاہئے۔

وادی کشمیر میں اخروٹ کے درختوں سے اخروٹ اتارنے کا سیزن جوبن پر ہے۔ اخروٹ کے درختوں سے اخروٹ اتارنا جہاں اپنی نوعیت کا ایک منفرد کام ہے۔ وہیں ایک ایسا جوکھم بھرا کام ہے جس میں اس کام کے کرنے والے کو جان گنوانے کا خطرہ ہر آن لگا رہتا ہے۔ انسانی جانوں کو بچانے زیادہ سے زیادہ پیداوار حاصل کرنے کے لئے محکمہ باغبانی اب یہاں چھوٹے قد کے درخت لگانے کی کوشش میں ہیں ساتھ ہی پرانے اخروٹ کے درختوں کو کاٹنے کی اجازت کے بعد نئے اخروٹ کے درخت لگانا لازمی ہوگا ۔ وادی کشمیر میں اخروٹ کے درختوں سے اخروٹ اتارنے کا سیزن جوبن پر ہے۔ یہ سیزن کئی مزدور گھرانوں کے لئے باعث مصیبت بھی بن جاتا ہے کیونکہ ہر سال اس سیزن کے دوران کئی مزدور درختوں سے گر کر لقمہ اجل بن جاتے ہیں یا عمر بھر کے لئے ناخیز ہو کر گھر والوں پر ہی بھاری بھرکم بوجھ بن جاتے ہیں ۔ اخروٹ کے درختوں سے اخروٹ اتارنا جہاں اپنی نوعیت کا ایک منفرد کام ہے وہیں ایک ایسا جوکھم بھرا کام ہے جس میں اس کام کے کرنے والے کو جان گنوانے کا خطرہ ہر آن لگا رہتا ہے۔


سال رواں کے دوران بھی وادی کے قرب و جوار میں کچھ مزدور اخروٹ اتارنے کے دوران درختوں سے گر گئے جن میں سے بعض کی موت واقع ہوئی جبکہ بعض اسپتالوں میں پڑے ہوئے ہیں۔ اس کاروبار سے جڑے بیوپاریوں کا کہنا ہے کہ اس کام میں خطرے کے پیش نظر اب اخروٹ اتارنے والے مزدور نایاب ہو رہے ہیں۔ لوگوں کا کہنا کہ جس طرح فصل کٹائی اور دیگر کاموں کے لئے مشینوں کو استعمال کیا جا رہا ہے نئی نئی مشینیں متعارف کئے جارہے ہیں ۔ اسی طرح اس کام کی انجام دہی کے لئے بھی کسی مشین کو متعارف کیا جانا چاہئے۔ باغبانی سے جڑے کاشت کاروں کا کہناہے کہ متعلقہ محکمے کو مداخلت کرکے چھوٹے قد والے اخروٹ کے درخت لگوانا یقینی بنانا چاہیے تاکہ کم از کم انسانی جانوں کو بچایا جا سکے۔


محکمہ باغبانی کے ڈائریکٹر جنرل اعجاز احمد بٹ کاکہناہے کہ کشمیر میں چھوٹے قد والے اخروٹ کے درخت متعارف کئے گئے ہیں  ۔آنے والے وقت میں ایسے درخت کو لگائے جائیں گے ۔ ساتھ ہی بڑے درختوں سے اخروٹ اتارنے کے لئے مشینری کے استعمال کرنے پر بھی کم ہورہا ہے ۔


محکمہ باغبانی کے ڈائریکٹر اعجاز احمد بٹ کہنا ہے کہ پرانے اخروٹ کے درختوں کو کاٹنے کی اجازت نامہ دینے کے لئے ایک طریقہ کار اپنایا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ اجازت نامہ ملنے کے بعد کاشت کاروں کو پرانے اخروٹ کے درختوں کی جگہ پر نئے اخروٹ کے درخت لگانا لازمی ہوگا۔ تاکہ نئے اخروٹ کے درختوں کے لگانے سے اخروٹ کی پیدوار کی بھی زیادہ سے زیادہ حاصل ہوگی ۔ سرکار کو چاہے کہ انسانی جانوں کے زیاں ہونے سے بچنے اور بڑے درختوں سے اخروٹ اتارنے کے لئے مشینری کو متعارف کرنی چاہے ساتھ ہی چھوٹے قد والے اخروٹ کے درختوں کی کاشت میں جلد پہل کرنی چاہئے۔
Published by: Sana Naeem
First published: Sep 14, 2021 09:32 PM IST